کراچی: مسائل کے خلاف سوشلزم کی جدوجہد، کیوں؟

| تحریر: فارس |

قدیم یونانی کہاوت ہے کہ دیوتا جب حکمرانوں کو سزا دیتے ہیں تو وہ پہلے انہیں پاگل کر دیتے ہیں۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ قدیم یونانی اپنے وجدان میں آج کے سیاسی منظر نامے کا ادراک حاصل کر چکے تھے۔ یوں تو سرمایہ دارانہ نظام کی تاریخی زوال پذیری کوسرمایہ دارانہ فلسفے، معیشت، سیاست، ثقافت اور آرٹ میں دیکھا جا سکتا ہے تاہم آج ا سے عالمی سطح پر سیاسی شخصیات میں مزید واضح انداز میں دیکھا جا سکتاہے۔ سرمایہ دارانہ دنیا میں آج کوئی ابراہم لنکن نہیں ہے، لنکن تو درکنار اب ان کے پاس چرچل جیسے ’’حقیقت پسند‘‘ اور منڈیلا جیسے افسانوی کردار بھی نہیں رہے۔ پاکستان کی بات کی جائے تو ہمارے قومی دانشوروں نے اپنے تئیں بھرپور کوشش کی کہ میاں نواز شریف کو مدبر ثابت کیا جا سکے تاہم انہیں ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے سندھ میں حکمران طبقے کے پاگل پن کو اور بھی واضح انداز میں دیکھا جا سکتا ہے، اس پاگل پن کی بھاری قیمت بالعموم سندھ کے محنت کش عوام کو اور بالخصوص کراچی کے محنت کشوں کو چکانی پڑھ رہی ہے۔ کراچی میں مسائل کی نوعیت کیا ہے؟ افق پر حاوی سیاست مسائل حل کرنے میں کیوں ناکام ہے؟ اور کیا اس نہ ختم ہونے والی اذیت سے چھٹکارا پانا ممکن ہے؟ ان سوالات پر آگے چل کرروشنی ڈالی جائے گی تاہم اس سے پہلے کچھ بنیادی پس منظر واضح کرنا ضروری ہے۔

’صنعتی انفرااسٹرکچر‘
قیام پاکستان کے بعد اگرچہ یہاں کی بورژوازی جدید قومی جمہوری انقلاب کے فرائض انجام دینے کی اہلیت سے محروم تھی تاہم وہ ایسا کرنے کے خواب ضرور دیکھا کرتی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سرمایہ دارانہ تاریخ کے طویل ترین معاشی عروج کی وجہ سے صنعتی انفرااسٹرکچر کی تعمیر کسی حد تک ممکن ہو سکی تھی، مگر پاکستان کا حکمران طبقہ سرمایہ داری میں اس وقت داخل ہوا تھا جب سرمایہ داری عالمی سطح پر سامراجیت کا روپ دھار چکی تھی جس کی وجہ سے یہ کوئی آزادانہ کردار ادا کرنے سے قاصر تھا، یہی وجہ ہے کہ کراچی میں صنعتی انفرااسٹرکچر کی تعمیر کا عمل بھی ادھورے پن کا شکار رہا اور وہ ملک کے باقی شہروں تک نہ پھیل سکا۔ عالمی تجارت سے منسلک ہونے کے لیے پاکستان کی بوژوازی کے پاس کراچی کی بندرگاہ کو استعمال میں لانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا، اسی سبب سے کراچی سرمایہ کاری کے لیے دوسرے شہروں کی نسبت اولین حیثیت اختیار کر گیا۔ بڑے پیمانے پر فیکٹریاں اور کارخانے لگنے کی وجہ سے کراچی میں روزگار کے بے شمار مواقعے پیدا ہوئے جو پورے ملک کے غریب عوام کو اپنی جانب کھینچنے کا موجب بنے۔صنعتی انفرااسٹرکچر کی تعمیر سے کراچی اپنی بنیاد میں بین الاقوامی اقدار کا حامل شہر بن کر ابھرا تو دوسری جانب یہ ملک بھر کے محنت کشوں کا شہر کہلایا، یہی وجہ ہے کہ کراچی کو پاکستان کا پیٹروگراڈ بھی کہا جاتا ہے۔

’ذرائع پیداوار اور انسانی شعورکا باہمی تعلق‘
مارکسزم کے نزدیک ’انسانوں کا شعور انسان کے وجود کا تعین نہیں کرتا، بلکہ اس کے برعکس انسان کا سماجی وجود اس کے شعور کا تعین کرتا ہے۔‘ تاہم اس بات کو میکانکی انداز میں نہیں لینا چاہیے بلکہ پیداواری قوتوں اور انسانی شعور کا تعلق جدلیاتی نوعیت کا ہے۔ ذرائع پیداوار کی ترقی انسانی شعور کو آگے بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے اورلمبے عرصے تک انسانی شعور قدامت پسندی کاشکار رہتا ہے، تاہم ایک وقت میں ذرائع پیداوار رائج معاشی نظام سے متصادم ہوکر گھٹن کا شکار ہوجاتے ہیں، اس کیفیت میں انسانی شعور پیداواری قوتوں کی ترقی کو نئی بلندیاں عطا کرتاہے۔ ہم اس بات کو کراچی کی تاریخ اور موجودہ حالات میں لاگو کر کے دیکھیں گے۔ 1968-69ء کی انقلابی تحریک میں کراچی کے محنت کشوں کا کردار ناقابل فراموش ہے، جب نوآموز محنت کش طبقے نے اپنی زندگی کے تجربات سے سیکھتے ہوئے ماضی کے قومی، لسانی، علاقائی اور دیگر سماجی تعصبات سے بالاتر ہو کر طبقاتی بنیادوں پر لڑنے کا شعور حاصل کیا تھا، ایساجب ہی ممکن ہوا تھا جب وہ جدید پیداواری عمل میں شریک ہوئے۔ سوال کیا جا سکتا ہے کہ کراچی کے محنت کش آج طبقاتی یکجہتی سے کیوں محروم ہیں اور انہی پرانے سماجی تعصبات میں دوبارہ کیوں غرق ہیں؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے ہم عہد کے عمومی کردار کو نظر انداز نہیں کر سکتے، آج سرمایہ داری کی تاریخی متروکیت کے سبب ذرائع پیداوار مزید ترقی کرنے کے بجائے شدید گھٹن کا شکار ہو چکے ہیں، اور یہ وقت ہے کہ انسانی شعور آگے بڑھ کر ذرائع پیداوار کی ترقی کے راستے ہموار کرے۔

’ نہ ختم ہونے والی اذیت کا آغاز‘
1968-69ء کی انقلابی تحریک سے نہ صرف پاکستان کے حکمرانوں کے ایوان ہل گئے تھے بلکہ اس نے عالمی حکمران طبقے کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اگرچہ 68-69ء کی تحریک میں ملک بھر کے محنت کش عوام نے سرگرم شرکت کی تھی مگر تحریک کی اصل طاقت کراچی کا محنت کش طبقہ تھا، مضبوط سماجی حجم کے حامل کراچی کے محنت کش طبقے کی تحریک میں شمولیت نے پورے ملک کے محنت کشوں کے جوش و جذبے کو جلا بخشی تھی۔ دیگر معروضی وجوہات کے ساتھ انقلابی قیادت کے فقدان کی وجہ سے اگر چہ 68-69ء کی تحریک حتمی منزل تک نہیں پہنچ سکی تھی مگر اس نے حکمران طبقے کی حکمرانی کو اکھاڑ ضرورپھینکا تھا۔ پاکستان اور کراچی کے محنت کشوں کی یہ جدوجہد عالمی محنت کش طبقے کی تحریک کا درخشاں باب ہے، مگر یہی خصوصیت حکمران طبقے کی جانب سے یہاں کے محنت کش طبقے پر ظلم و ستم کی ایک نئی تاریخ رقم کرنے کا باعث بنی۔ طبقاتی یکجہتی کو توڑنے کے لیے ایک طرف قومی، لسانی، علاقائی، دیہی، شہری اور فرقے بازی ایسے تعصبات کو پالا پوسا گیا تو دوسری جانب ظلم و جبر کی انتہا کر دی گئی۔ ریاستی سرپرستی میں جماعت اسلامی کی قیادت میں بنیاد پرستی کو ابھارا گیا اور دوسری جانب ایم کیو ایم کے ذریعے نسل پرستی کو محنت کش عوام پر مسلط کیا گیا۔ یہ سلسلہ اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ پورا شہر ہی وحشی درندوں کے نرغے میں ہے۔دہشت کے اس کاروبار میں اب صرف ایم کیو ایم نہیں ہے بلکہ اب دہشت کے کئی اسٹیک ہولڈرز اس کاروبار سے اپنا حصہ وصول کر رہے ہیں۔

’مسائل کی نوعیت‘
مہنگائی، بے روزگاری، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان، چوری، ڈکیتی یہاں کا معمول بن چکے ہیں۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے ساتھ پانی کے بحران میں مزید اضافہ ہوا ہے، اس پر ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کی جانب سے کنٹرول احتجاج کا سلسلہ جاری ہے مگر عوام کی وسیع پرتوں کو احتجاجی مہم کا حصہ بنانے کے حوالے سے یہ دونوں قوتیں کترا رہی ہیں کیوں کہ یہ خوف زدہ ہیں عوامی تحریکوں سے، موجودہ احتجاج کی حیثیت عوام کے مسائل پر مگر مچھ کے آنسو بہانے کے مترادف ہے دوسرا یہ کہ اس سے ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی اپنے کارکنان کو کسی نہ کسی سرگرمی میں مصروف رکھنا چاہتی ہیں۔ تعلیم اور علاج کے حوالے سے سندھ کے حکمران تعلیمی اداروں اور اسپتالوں کی نجکاری کا منصوبہ بنا چکے ہیں، عوام کی تعلیم اور علاج تک رسائی پہلے ہی انتہائی مشکل ہے اور ان بچے کھچے اداروں کی بھی نجکاری کی گئی تو اس کے اثرات کیا ہوں گے اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔اہل قلم کے قلم مداح سرائی اور کاسہ لیسی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، ان مہان ادبی شخصیات کا آئیڈیل سابق صدر مشرف ہیں، یہی وجہ ہے کہ جو ادب سامنے آ رہا ہے وہ معنویت سے محروم ہے۔ صحافت کی بات کریں تو یہاں چند گروپ، چند لوگ ہیں جو صحافت کا سب کچھ ہیں، صحافیوں کی اکثریت اور بالخصوص نوجوان صحافیوں کے لیے صحافت کوئی باوقار پیشہ نہیں رہا، نوجوان صحافیوں کو انتہائی کم تنخواہوں پر کام کرنا پڑھ رہا ہے۔جب کہ صحافیوں کی موجودہ قیادت کا کردار ٹریڈ یونین قیادت سے مماثل ہے جو محنت کشوں اور صحافیوں کی طاقت کو اپنی مراعات میں اضافے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ماضی میں تعمیر ہونے والا شہر کا انفرااسٹرکچر تباہ و برباد ہو چکا ہے، سیوریج کے نظام کی خستہ حالی اورٹوٹ پھوٹ کے سبب پورا شہر غلاظت اور گندگی کے ڈھیر میں بدل چکا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا مسئلہ سنگین تر ہوچکا ہے، یہاں پر سفر کرنا ایک اذیت ہے، چنگ چی رکشوں کی بھر مار ہے، ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت کراچی میں 1 لاکھ غیر رجسٹرڈ رکشے ہیں۔ ان رکشوں کی اصل ساخت کو تبدیل کر دیا گیا ہے، 5 سے 7 افراد کولے جانے کی صلا حیت کے حامل چنگ چی اب 12 سے 15 افراد کو لے کر جاتے ہیں۔ لوگ اب پرانی مزدہ گاڑیوں کو یاد کرتے ہیں کہ ان میں کم از کم انسان سیدھا کھڑاتو ہو سکتا تھا۔ شہر کے مضافات میں آباد کچی بستیاں نیم شہری اور نیم قبائلی خصوصیات کا منظر نامہ پیش کر رہی ہیں۔ ملک کے دور دراز علاقوں سے روزگار کی تلاش میں آنے والے ان کچی بستیوں کے مکیں جدید شہری سہولتوں سے محروم ہیں، یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کا تعلق زیادہ تر ان مضافاتی علاقوں سے جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ان مسائل کی بنیادی وجہ نظام کا عمومی بحران اور متعلقہ اداروں کی نا اہلی ہے مگران مسائل کی شدت میں اضافہ اور کمی اپنی سیاسی اہمیت کو باور کرانے کے لیے بھی کی جاتی ہے۔ ریاست کا ان مسائل کی جانب رویہ دیکھا جائے تو وہ ان مسائل کے حل کے حوالے سے اپنی نا اہلی سے آگاہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ تمام تر مسائل کو نظرانداز کر کے صرف آپریشن ’ضرب عضب‘ پر توجہ دی جا رہی ہے، اور اس کے پردے میں اصل مسائل کو دبایااور چھپایا جا رہا ہے۔ مگر ٹھوس اور حقیقی مسائل کو جتنا دبایا جائے یہ اتنی ہی شدت کے ساتھ اپنا اظہار کرتے ہیں، کراچی آپریشن کے متعلق میڈیا پر مسلسل جھوٹ بولا جا رہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کی بنیادی تربیت گاہیں مزید پھل پھول رہی ہیں، مگر ہماری مہذب سوسائٹی پھولے نہیں سما رہی۔

’موجودہ سیاست کی ترجیحات‘
حالیہ عرصے میں صوبہ سندھ کے حکمرانوں کا سب سے بڑا مسئلہ سابق وزیرداخلہ سندھ ذوالفقار مرزا رہا ہے۔ مرزا سیریز کی کاؤ بوائے ایپی سوڈ کو نہ صرف سندھ میں بلکہ ملک بھر کے میڈیا نے بھر پور کوریج دی، اس کی وجہ ڈائریکشن اور اداکاری کا بلند معیار ہونا نہیں ہے بلکہ حکمران طبقے کی نااہلی اور ریاستی اور صوبائی اداروں کا گل سڑجانا ہے۔صرف میڈیا ہی نہیں، یہاں تو آزاد عدلیہ سے لے کر انتظامیہ تک، اور صوبائی حکومت تک سب کی توجہ کا مرکز مرزاتھے، خیر سے مرزا اب اپنی اہلیہ کے علاج کے لیے بیرون ملک جا رہے ہیں۔ اس سے سندھ کے حکمرانوں کے ضعف، اور صوبائی سطح پر دیگر اداروں کی خستہ حالی کا اندازا کیا جا سکتا ہے۔ قیادت کی زوال پذیری محض سیاسی پارٹیوں تک محدود نہیں ہے، یہ عمل اب اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ ہر ادارہ ہر شعبہ اس کا شکار ہے، ریاستی اداروں کی سطح پر دیکھا جائے تو اب یہ حکمران اس قابل بھی نہیں رہے کہ کوئی واقعہ ہونے کے بعد کسی بڑے افسر کو معطل کرسکیں کیوں کہ ان کے پاس اب کوئی متبادل نہیں ہے۔ساحل سمندر پر آباد شہر میں ایک غربت کا سمندرہے جس سے اٹھنے والے گرد وغبار کے اثرات اب امرا کے علاقوں تک بھی پہنچنا شروع ہو چکے ہیں، پچھلے دو تین سالوں میں اس طرح کے کافی واقعات رونما ہوئے ہیں تاہم اس کی تازہ مثال سانحہ صفورا کے وہ ملزمان ہیں، جن کے پاس کراچی کے مہنگے اور اچھے سمجھے جانے والے تعلیمی اداروں کی ڈگریاں تھیں، ان کے اس اقدام نے ہمارے قومی دانشوروں کو بہت پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، جن کا یہ سوچ سوچ کر خون سوکھ رہا ہے کہ ان اداروں سے پڑھے لکھے نوجوان کیسے دہشت گردی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ نظام کے وظیفہ خور دانش وروں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ اس بات کو قبول نہیں کر پا رہے کہ سرمایہ داری بوڑھی ہو چکی ہے۔ وکلاء، اساتذہ، ڈاکٹر اور دیگر شعبوں میں بھی یہی صورت حال ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کا جواب حاصل کرنے کے لیے آپ کو زیادہ ذہین ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ موجودہ عہد کاکردار ہے، جو اپنے تاریخی ارتقا کے مراحل طے کرتے ہوئے آج نامیاتی بحران کا شکار ہے۔ سرمایہ داری میں اب کوئی مسئلہ بڑھ تو سکتا ہے حل نہیں کیا جا سکتا، اوراس بحران کا اظہار پاکستان جیسے پسماندہ ملکوں میں زیادہ شدت سے ہوتا ہے۔ اس لیے موجودہ دور کے حکمرانوں کی ترجیحات عوامی مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ اپنے مال و دولت میں اضافہ کرنا ہے۔ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ عوام میں گرتی ہوئی حمایت کی وجہ سے حکمران طبقے کی لوٹ مار کی ہوس میں اضافہ ہو جاتا ہے کیوں کہ یہ مستقبل کے حوالے سے ایک غیر یقینی صورت حال کا شکار ہیں، کہ کیا پتا کل ہوں نہ ہوں‘۔

’ نوجوان نسل‘امید کی واحد کرن
لینن کہا کرتا تھا کہ’ جس کے پاس نوجوان ہوں گے مستقبل اسی کا ہو گا‘۔سرمایہ داری کے تحت نوجوان نسل کا کوئی مستقبل نہیں ہے، 2008ء کے معاشی بحران کے بعد بے روزگاری وبائی بیماری کی طرح پھیل کر پوری سرمایہ دارانہ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ اس نے سب سے زیادہ نوجوان نسل کو متاثر کیا ہے، یہ مسئلہ اب صرف پسماندہ ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی شدت اختیار کر چکا ہے۔ یونان میں اس وقت 24 سال سے کم عمر نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 65 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے، جو مارچ 2012ء میں54 فیصد تھی، اسپین میںیہ شرح55 فیصد جب کہ اٹلی میں 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یورپ کے دیگر ملکوں سمیت امریکہ تک بے روزگاری تاریخ کی بلند سطح تک پہنچ چکی ہے۔ اگرترقی یافتہ ملکوں میں صورت حال اس قدر سنگین ہو چکی ہے تو پاکستان جیسے پسماندہ ملکوں میں بے روزگاری کی شدت کیا ہوگی اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ صورت حال پوری دنیا میں نوجوانوں کو مشتعل کرنے کا باعث بن رہی ہے۔حالیہ عرصے میں دنیا میں ابھرنے والی تحریکوں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا بین ثبوت ہے۔ پاکستان اور کراچی میں بسنے والے نوجوان ان حالات و واقعات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ایک ماہ پہلے کراچی میں ہونے والے پروفیسر ڈاکٹر رضوی کے قتل کے موقعے پر ہم طلبا کی طرف سے ردعمل دیکھ چکے ہیں، یہ الگ بات تھی ان طلبا کو اس بات کا علم نہیں تھا ہمیں کرنا کیا ہے۔ اس سے قبل فیسوں کے اضافے پر طلبا تنظیموں نے احتجاج ریکارڈ کرائے ہیں، اگر چہ ان احتجاج کا دائرہ کار بہت محدود تھا تاہم اس سے طلباء میں پائی جانے والی بے چینی کی عکاسی ہوتی ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس وقت طلبا تحریک کسی بڑی پیش رفت کی جانب گامزن نظر نہیں آتی اس کی وجہ یہ ہے کہ طلبا تنظیموں پر ایسے رجحانات کا اثر زیادہ ہے جو انہیں اپنے مخصوص فرقہ پرور مفادات کے لیے استعمال کر رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ طلبا کی اکثریت آج سیاست سے کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ مگر رونماء ہونے والے واقعات طلبا کو میدان عمل میں آنے پر مجبور کریں گے، اس تناظر میں طلبا کی باشعور پرتوں تک سوشلزم کے نظریات لے جانے کی ضرورت ہے، کراچی میں پروگریسو یوتھ الائنس کے زیراہتمام مختلف تعلیمی اداروں میں طلباء کے ساتھ اسٹڈی سرکل اور ڈسکشن کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ ابھی محض آغاز کا آغاز ہے، مگر حاصل ہونے والی ان چھوٹی کامیابیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، کسی ایک تعلیمی ادارے میں ہمارے کامریڈوں کی درست مداخلت اور کامیابی سے ہم پورے شہر کے طلبا کی توجہ اپنی جانب مبذول کراسکتے ہیں۔ نوجوان بھی اسی طرح کی صورت حال سے دوچار ہیں اور انہیں بھی سیاسی افق پر حاوی فرقہ پرور سیاست اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

’جنوبی ایشیا کی سوشلسٹ فیڈریشن کی جدوجہد‘ کیوں؟‘
ٹراٹسکی کے بقول ’’انسانی سماج کے دھارے ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کی مانند ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہوتے ہیں‘‘۔ برصغیر کی تقسیم برطانوی سامراج کا سب سے بڑا جرم تھا، صدیوں پر محیط یہاں کی مشترکہ تہذیب کومذہب کے نام پر تقسیم کیا گیااور مصنوعی سرحدیں کھینچی گئیں، 10 کروڑ لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور 27 لاکھ اس خونی بٹوارے کا شکار ہوکر اپنی زندگیوں سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے۔یہ زخم اتنا گہرا ہے کہ 68 برس گزرنے کے باوجود اس کے بطن سے ابھی لہو ٹپک رہا ہے۔ ہم ابتدا میں اس بات کی مختصراً وضاحت کر چکے ہیں کہ پاکستان کی بورژوازی قومی جمہوری انقلاب کے فرائض سرانجام دینے کی اہلیت سے محروم تھی، جدید سرمایہ دارانہ ریاست کی تعمیر میں ناکامی کی وجہ سے آزادی حاصل کیے 68 برس گزر چکے ہیں مگر پاکستانی قوم کا خواب اپنی تعبیر حاصل نہ کر سکا۔ جس طرح پاکستانی ریاست کا انفرااسٹرکچرادھورااور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اسی طرح کی صورت حال پاکستانی قوم کے حوالے سے بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ جدید قومی ریاست کی تعمیر میں ناکامی کی وجہ سے پاکستان کی فیڈریشن میں موجودمختلف قوموں کی تحلیل پاکستانیت میں نہ ہو سکی اور یہی وجہ مہاجر عوام کی پاکستانی قوم میں تحلیل نہ ہو سکنے کا سبب بنی۔سرمایہ داری کے تحت ان قومی تضادات کو حل نہیں کیا جا سکتا، 68 برسوں میں حل نہیں کیا جا سکا تو سرمایہ داری کے اس نامیاتی بحران کے دور میں کیسے حل ہو گا؟ اس صورت حال میں جدوجہد کا بنیادی کردار نظام کے خلاف بنتا ہے جو تمام مسائل کی جڑ ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف پوری دنیا میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے، گزشتہ سالوں کے دوران کروڑوں لوگوں نے نظام کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کیا ہے، یہ سلسلہ اب رکنے والا نہیں ہے، ہم آنے والے دنوں میں زیادہ بڑی تحریکیں برپا ہوتے دیکھیں گے۔ اس تناظر میں پاکستان میں بھی محنت کش طبقے کی تحریک کے واضح امکانات موجود ہیں، مگر محض تحریکیں برپا ہونے سے انقلابات نہیں ہو جاتے‘ اس کے لیے ایک اور چیز درکار ہوتی ہے، جسے انقلابی پارٹی کہا جاتا ہے۔ انقلابی قیادت کے بغیر انقلابات برپا تو ہو سکتے ہیں مگر اپنی تکمیل تک نہیں پہنچ سکتے۔ آج کے اس بین الاقوامی دور میں پاکستان کا انقلاب صرف پاکستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات بالعموم پوری دنیا میں، ایشیا میں اور بالخصوص جنوبی ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لیں گے، اس تناظر میں ہماری جدوجہد بھی پاکستان تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ خطے کے دیگر ملکوں تک پھیلانا ہمارا بنیادی نظریاتی فریضہ ہے، جس سے پاکستان بھر کے انقلابیوں کو ادا کرناہے تاہم برصغیر کی سوشلسٹ فیڈریشن کی جدوجہد میں ایک اہم کرداریہاں کے محنت کشوں اور نوجوانوں نے اداکرنا ہے۔ تمام تر تقسیموں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے برصغیر کے بٹوارے سے عوام دوہرے استحصال کا شکار ہوئے ہیں، انہیں ایک طرف سرمایہ داری کے جبرو استحصال کا سامنا تھا تو دوسری جانب انہیں اپنی تاریخ سے بھی محروم کر دیا گیا ہے، جنوبی ایشیاکی سوشلسٹ فیڈریشن نہ صرف سرمایہ داری کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرے گی بلکہ ان خونی لکیروں کو مٹا ڈالے گی، جو ہم سب کی حقیقی تاریخ کی امین ہو گی۔ آگے بڑھو، سوشلسٹ انقلاب کے لیے، جو درحقیقت انسانیت کی بقا کی جدوجہد ہے۔