ایران: نئے سال کا پیغام

[تحریر: حمید علی زادے، ترجمہ: حسن جان]
ایران کے روایتی کیلنڈر کے مطابق نئے سال کا آغاز ہو چکا ہے۔نوروز کا یہ تہوار عام طور پر خوشیوں اور آرام سے بھری چھٹیوں کا پیغام سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس بار یہ چھٹیاں اکثر محنت کش گھرانوں کے لیے پریشانی اور بے چینی کا باعث تھی کہ یہ سال کیسے گزرے گا۔نئی حکومت کی طرف سے ایرانی محنت کشوں کے لیے تنخواہ میں 25 فیصداضافے کا تحفہ دیا گیاہے۔ سپریم لیبر کونسل نے اس سال کے لیے کم سے کم تنخواہ اڑتالیس لاکھ ستر ہزار ریال سے بڑھا کر ساٹھ لاکھ نوے ہزار ریال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ کسی دوسرے ملک میں تو یہ محنت کشوں کے لیے بہت بڑی کامیابی ہو تی لیکن ایرانی محنت کشوں کے لیے بہت بڑا صدمہ تھا کیونکہ اس ملک میں افراط زر سرکاری طور پر 40 فیصد ہے ۔ دراصل چار افراد پر مشتمل کنبے کے لیے خط غربت ایک کروڑ اسی لاکھ ریا ل ہے یعنی اعلان شدہ کم سے کم تنخواہ کا تین گنا، اور یہ کم سے کم تنخواہ بھی ہر مزدور کونہیں ملتی ہے۔
امدادی رقوم، جو بہت سے غریب گھرانوں کے لیے زندگی کا واحد سہارا ہے، میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے سال کے دوران اس کی قدر آدھی ہو گئی ہے۔ جہاں سرکاری افراط زر کی شرح نے مزدوروں کی قوت خرید کا 40 فیصد ہڑپ کر لیا ہے وہاں حقیقت اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہے ۔ مرکزی بینک کے مطابق غذائی اجناس، جو محنت کش گھرانوں کے اخراجات کا بہت بڑا حصہ ہے، کی قیمتوں میں 54فیصد اضافہ ہوا ہے۔سب سے بڑھ کر ’’اعتدال پسند‘‘ حکومت نے توانائی کی قیمتوں میں فوری اضافہ کر دیا ہے۔ پانی کی قیمت میں 20 فیصد، بجلی 23 فیصد اور گھریلو استعمال کی قدرتی گیس کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ آئندہ سال کے دوران گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی بھی توقع ہے۔

حکومت کے جھوٹے وعدے
روحانی کے وعدوں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ ملکی قوانین پر عمل پیرا ہوگا جن کی رو سے کم سے کم اُجرت افراط زر کی شرح کے مطابق ہو۔ پچھلے سال احمدی نژاد کی حکومت نے کم سے کم اُجرت میں 25 فیصد اضافہ کیا تھاجبکہ افراط زر کی شرح 30.5 فیصد تھی۔ اس فیصلے کے تھوڑے عرصے بعد مزدور رہنماؤں نے حکومت کے خلاف کیس دائر کیا اور مطالبہ کیا کہ دونوں چیزوں کی شرح کے درمیان فرق کی رقم کو ادا کیا جائے ۔ مزدور رہنما علی اکبر عیوضی کے مطابق عدالت نے مزدوروں کے حق میں فیصلہ دیا لیکن نئی حکومت یہ رقم ادا کرنے سے کترا رہی ہے۔ یہ ہمارے لیے کوئی حیرت کی بات نہیں۔ حسن روحانی ایران کے سرمایہ دار طبقے کا نمائندہ ہے جس کے مفادات مزدوروں کے مفادات سے متصادم ہے۔ ان اقدامات کو ہمیں روحانی کی ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے پس منظر میں دیکھنا چاہئے، جہاں اس نے عالمی اقتصادی طاقتوں سے ایران میں سرمایہ کاری کرنے کی استد عا کی۔
ایران اب خطے میں فیصلہ کن طاقت ہے اور یہ مقام اس نے فوجی طاقت کے بلبوتے پر حاصل کیا ہے (ضمناً یہ امریکی سامراج کی کمزوری کا نتیجہ بھی ہے)۔ اس کے حالیہ اقدامات کا مقصد عسکری طاقت کو اقتصادی طاقت سے ملانا ہے۔اقتصادی طاقت حاصل کر نے کے لیے ایران کو بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے لیکن عالمی اقتصادی کیفیت اس کی متحمل نہیں ہے۔ معاشی بحران کی وجہ سے پوری دنیا کی تمام صنعتوں میں زائد پیداوار کی کیفیت ہے۔ مثلاً ایران کی آٹو موبل صنعت میں کس لیے سرمایہ کاری کی جائے جبکہ دنیا کے آٹو موبل کارخانوں میں پیداواری صلاحیت کا 70 فیصد استعمال ہو رہا ہے؟یہی بات دوسری صنعتوں کے معاملے بھی درست ہے۔
اسی دوران عالمی سطح پر طلب بیشتر ممالک کے بڑے بجٹ خساروں کی وجہ سے سکڑ رہی ہے۔ ان حالات میں سرمایہ کاری لانے کے لیے بہت ہی ’’ساز گار‘‘ ماحول کی ضرورت ہے۔ چین کی نسبت ایران میں افرادی قوت کی پیداواریت (Labor Productivity) بہت ہی نیچے ہے۔ پسماندہ اور زوال پذیر صنعتوں کے علاوہ ملکی انفراسٹرکچر بہت کمزور اور علمی اور تکنیکی سطح بہت نیچے ہے۔ سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی خاطر ان کمزوریوں کو ایک ہی طریقے سے ختم کیا جا سکتا ہے کہ اُجرتوں کو کم کیا جائے ۔ حکومت فی الحال افراط زر میں اضافے اور ریال کی قدر میں کمی کے ذریعے یہ کام پورا کر رہی ہے لیکن مستقبل میں مزید معاشی حملے ہوں گے کیونکہ کم سے کم اجر ت اب بھی چین کے بہت سے علاقوں کی نسبت زیادہ ہے۔
سرمایہ داری کے تحت تمام تر ترقی محنت کشوں کی قیمت پر ہو تی ہے اور اس سے طبقاتی خلیج مزید وسیع ہو جاتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ سرمایہ کاری سے محنت کش طبقہ مزید بڑا، منظم اور طاقتور ہوتا ہے ۔ سرمایہ داری آج گہرے بحران کی زد میں ہے۔ اصلاحات کی کوئی گنجائش نہیں ۔ حقیقت میں، جیسا کہ ہمیں نظر آرہا ہے، بحران سے نکلنے کا واحد راستہ پرولتاریہ کا مزید استحصال ہے ۔ اس سے مستقبل میں طبقات کے درمیان بڑی لڑائیاں ہونگی۔

اُبھرتی ہوئی بغاوت
1979ء کے انقلاب کی شکست کے بعد محنت کشوں کی ایک نئی نسل جوان ہوئی ہے جن کے شعور پر ماضی کی شکستوں کے داغ نہیں ہیں۔ وہ بگڑتی ہوئی صورت حال اور حکومت سے شدید نفرت کرتے ہیں لیکن ایک ایسی تنظیم کی کمی ہے جو اُنہیں راستہ دکھائے ۔ اگر کوئی ایسی تنظیم موجود ہوتی تو ماضی میں کئی مواقع پر ریاست کواُکھاڑ پھینکا جا سکتا تھا۔ اس کی غیر موجودگی میں طبقے کو تلخ تجربات سے گزرنا پڑے گا تاکہ اپنے تاریخی فرائض کو جان سکے۔ موجودہ حکومت کو اس بات کا ادراک ہے اسی لیے تو یہ بورژوا جمہوری حکومت کی طرف جانے سے گریزاں ہے لیکن دوسری طرف مسلسل جبر سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
بہت سے لوگوں کو اُمید ہے کہ مغرب کے ساتھ بہتر تعلقات سے مسئلے حل ہونگے لیکن جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں اس سے طبقاتی تضادات مزید تیز ہونگے۔ ایٹمی مذاکرات اور ماحول کو تھوڑا آزاد کرکے روحانی کو کچھ وقت مل گیا ہے لیکن یہ زیادہ عرصہ نہیں چلے گا۔ سطح کے نیچے بغاوت اُبل رہی ہے ۔ اس کی ایک جھلک ہمیں پچھلے الیکشن کے دوران نظر آئی جو دوبارہ پھر اُبھر ے گی۔ روٹی کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا ۔ جلد یا بدیر سماجی دھماکے ناگزیر ہیں ۔
یہ ہر مخلص انقلابی کا فرض ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے آنے والے دنوں کے لئے تیاری کرے۔مزدوروں کی بد حالی اور مذہبی آمریت، سرمایہ داری کے حدود کی عکاسی کر تی ہے ۔مزدوروں کے مطالبات کی بنیاد پراُنہیں منظم کیا جائے اس طبقاتی جد وجہد کو ملاؤں کی آمریت کے خلاف جد وجہد سے منسلک کیا جائے ۔ ان دونوں تحریکوں کے مفادات متضاد نہیں ہیں۔ سرمایہ داری ایک رجعتی نظام ہے جو کسی بھی طرح سماج کو آگے لے جانے کے قابل نہیں۔اسے ایک انقلاب کے ذریعے اکھاڑنا ہوگا!

متعلقہ:
ایران: روحانی حکومت کی پہیلی کھل گئی