فیصل آباد میں سرمایہ داروں کا ناکام احتجاج

تحریر:عبدالرحمٰن:-فیصل آباد جو کہ اپنی ٹیکسٹائیل کی صنعت کی وجہ سے پاکستان کا مانچسٹر کہلاتا ہے سرما یہ داروں کو منا فع دینے والا ایک بڑا شہر ہے۔یہاں گزشتہ ہفتے میں مل اونرز ،صنعتکا روں اور ٹرانسپورٹروں نے مل کر بجلی اور پٹرول کی بڑ ھتی ہو ئی قیمتوں کے خلاف احتجاج کیا اور اس ااحتجاجی مہم پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے۔ شہر بھر میں بینرز،اشتہار اور سائن بورڈز لگائے گئے جن پر عوام کی حمایت میں اور حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔ یہ واضح طور پر مزدوروں کا احتجاج نہیں تھا بلکہ ان کے احتجاج کو ہائی جیک کرنے کی کوشش تھی۔یاد رہے کہ پچھلے دنوں فیصل آباد میں مزدوروں کی طرف سے بہت بڑے مظاہرے کئے گئے تھے۔لیکن خطیر رقوم خرچ کرنے کے باوجودسرمایہ دار بڑا مظاہر ہ کرنے میں نا کام رہے۔ مظاہرے میں صرف 200لوگ شامل تھے۔سرما یہ داروں کا یہ احتجاج اس خوف کی غما زی کرتا ہے جو ان کو محنت کشوں کی تحریک سے ہے۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر محنت کش میدان عمل میں اتر آئے تو ان کو روکنا نا ممکن ہو جا ئے گا۔
حالیہ مردم شماری کے مطابق فیصل آباد شہر اور نواحی علاقہ جات کی آبادی تقریبا ایک کروڑ نفوس پر مشتمل ہے اور 35 لاکھ افراد کو پیٹ بھر کھانا نہیں ملتا۔ اکثریتی آبادی گندا پانی پینے پر مجبور ہے جس کی وجہ سے ہیپاٹائٹس اور پیٹ کی بیماریاں عام ہیں۔ہر27000افراد کے لیے ایک مستند ڈاکٹر موجود ہے۔گلیوں میں عطائی ڈاکٹر لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق 70 فیصد ڈاکٹروں کے پاس کوئی ڈگری نہیں ہے۔اس کے ساتھ ساتھ آبادی کی اکثریت تعلیم کی روشنی سے محروم ہے۔35 فیصد بچے پرائمری تک تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی کام کرنے پر مجبور ہیں جو موجودہ اور پچھلی حکومتوں کے تعلیم کے حوالے سے لگا ئے گئے نعروں کے کھوکھلے ہو نے اور اس نظام کے دیوالیہ پن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جب تک محنت کش اپنا تاریخی فریضہ سر انجام دیتے ہوئے ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ان سرمایہ داروں کے سیاسی اقتدار کو جڑ سے اکھاڑنہیں پھینکتے تب تک سرمایہ دار اسی طرح محنت کشوں کے زخموں پرنمک چھڑکتے رہیں گے۔