| رپورٹ: جے پرکاش |
واپڈا ہائیڈرو سینٹرل الیکٹرک ورکر زیونین کی جانب سے مورخہ 8 اپریل کو واپڈا کی نجکاری کے خلاف ملک گیر تالہ بندی کی گئی، اس سلسلے میں جہاں پورے ملک میں نجکاری کے خلاف تقاریب منعقد کی گئیں تھیں وہیں حیدرآباد میں قائم واپڈا لیبر ہال میں قومی اداروں کی نجکاری کے خلاف ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں جامشورو، کوٹری پاور ہاؤس کے محنت کشوں سمیت پورے حیدرآباد سے محنت کشوں نے بھرپور شرکت کی۔ سیمینار میں واپڈا کے علاوہ دیگر اداروں کے محنت کشوں اور ان کے رہنماؤں کو بھی مدعو کیا گیا تھا جنہوں نے سیمینار میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے نجکاری کے خلاف واپڈا کے محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ایک مسلسل جدوجہد کا عزم کیا۔
لیبر ہال محنت کشوں کے حکومت کی مزدور دشمن پالیسیوں سمیت نجکاری اور دیگر اقدامات کے خلاف شدید نعرے بازی سے گونج رہا تھا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے واپڈا ہائیڈرو سینٹرل الیکٹرک ورکر زیونین سندھ کے سیکرٹری محمد اقبال قائم خانی نے تمام آئے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادکیا اور موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر واپڈا کی نجکاری کی جاتی ہے تو اس کے اثرات بہت بھیانک اور شدید ہونگے، سب سے پہلے ڈاؤن سائزنگ کے ذریعے محنت کشوں سے روزگار چھینا جائے گا جس سے کئی چولہے بجھ جائیں گے، لوگوں کی زندگیاں پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں ان میں مزید اضافہ ہوجائے گا، ایوانوں میں سرمایہ دار حکمران بیٹھے ہیں جو کبھی محنت کشوں کے حق میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے، ہم واپڈا کی نجکاری کسی صورت میں نہیں ہونے دیں گے اور آج کا یہ سیمینار ایک شروعات ہے، ہم ہر بدھ کے روز اسی طرح کی تقریبات پورے پاکستان میں منعقد کرتے رہیں گے۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے رہنما ایڈووکیٹ نثار احمد چانڈیو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج تک محنت کشوں کے حوالے سے بنائے گئے تمام تر حکومتی قوانین محنت کشوں کا کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں کرسکے ہیں، تمام تر حکومتی پالیسی ہمیشہ سے ہی محنت کشوں کے خلاف رہی ہیں اور اس کے خلاف جدوجہد ہی کی تمام تر انسانی تاریخ رہی ہے، آج بھی نجکاری کے خلاف جدوجہد ہم محنت کشوں پر لازم ہے کیونکہ یہ حکمران طبقہ اب ہم سے ہمارے جینا کا حق بھی چھین لینا چاہتا ہے، ماضی میں تھوڑے اداروں کی نجکاری کی جاتی تھی لیکن اب سندھ میں پیپلزپارٹی تعلیمی اداروں (جن میں پرائمری، سکنڈری اسکول شامل ہیں) تک کو این جی اوز کے حوالے کر کے ان کی نجکاری کا منصوبہ بنائے بیٹھی ہے، صحت کی سہولیات کو بھی پرائیویٹائز کیا جارہا ہے، پیپلزپارٹی آج بھلے ہی نجکاری کے خلاف لفاظی کرے لیکن ماضی میں انہی کی رہنماؤں نے پی ٹی سی ایل کے محنت کشوں کے ہڑتالوں کو ناکام بنا کر اداروں کے تالے کھلوائے تھے، ہم سمجھتے ہیں کہ محنت کشوں کا کوئی بھی مسئلہ ایک دوسرے سے الگ ہوکر حل نہیں کیا جاسکتا، ہمیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر ریلوے، واپڈا، او جی ڈی سی ایل، تعلیم، اور صحت سمیت تمام اداروں کی نجکاری کے خلاف اکھٹے جدوجہد کرنا ہوگی اور اس سال کا یوم مئی ہم سب کو اکھٹے مل کر نجکاری کے خلاف اعلان جنگ کے طور پر منانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان ورکرز فیڈریشن کے رہنما محبوب قریشی نے کہا کہ ہمیں کے ای ایس سی کی نجکاری کے نتائج سے سیکھنے کی ضرورت ہے، ان اداروں کے حالات نجکاری کے بعد بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوگئے ہیں او رساتھ ہی ساتھ محنت کشوں کی زندگیاں بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں، نجکاری سے نہ صرف ان اداروں کے محنت کشوں بلکہ ملکی عوام پر بھی شدید منفی اثرات مرتب ہونگے، ہم کسی بھی حال میں اداروں کی نجکاری نہیں ہونے دیں گے۔ بیروزگار نوجوان تحریک (BNT) کے رہنما موہن لال نے کہا کہ ملک پہلے سے بیروزگاری کی آ گ سے سلگ رہا ہے اور ایسے میں حکومت کا نجکاری کا یہ فیصلہ جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہوگا، ہمیں واپڈا کے محنت کشوں کا 68۔69ء کی تحریک میں ہراول کردار یاد کرنا ہوگا جس میں واپڈا کے محنت کشوں نے ایوب خان جیسے آمر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا، ہم سمجھتے ہیں آج بھی اسی طرح کی جدوجہد کی ضرورت ہے اور ہم بیروزگار نوجوان تحریک کی جانب سے آپکو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم ہر محاذ پر محنت کشوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ریلوے ورکرز یونین اور PTUDC کوٹری کے رہنما قربان علی بھنڈ نے واپڈا کے محنت کشوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ایک ادارے کی بھی نجکاری کی گئی تو ہم ریل جام کردیں گے، ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نجکاری کمیشن کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے۔بلدیہ حیدرآباد کے رہنما اسماعیل شاہ نے کہا کہ تمام یونیز کو ایک جگہ جمع ہونا چاہیے، اگر واپڈا اور ریلوے کے محنت کش اپنے ادارے بند کریں گے تو ہم بھی ان کے شانہ بشانہ بلدیہ کوبند کردیں گے اور مشکل وقت میں کبھی بھی محنت کشوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ نادرا کی یونین کے وائس چیئرمین نثار عباسی نے کہا کہ نادرا کے ملازمین 14 سالوں سے جدوجہد کررہے ہیں لیکن ان کا کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں ہوا، نادرا کے محنت کشوں کی صورتحال بھی باقی اداروں کے محنت کشوں سے مختلف نہیں ہے، ہم آج یہ اعلان کرتے ہیں کہ اگر واپڈا کے ملازم اس جدوجہدمیں اپنا پسینہ بہائیں گے تو ہم خون بہائیں گے اور واپڈا کی نجکاری کے خلاف شانہ بشانہ لڑنے کے لئے تیار رہیں گے۔ ہائی کورٹ بار کے صدر غلام اللہ چانگ نے کہا کہ اس سال یوم مئی تمام مزدوروں کو ایک ساتھ منانا چاہیے اور ہم وکلاء برادری کی طرف سے تمام محنت کشوں کے ساتھ جدوجہد کرنے کو تیار ہیں۔
