حیدرآباد : ریلوے ورکرز یونین کا نجکاری کے خلاف احتجاجی جلسہ

[رپورٹ: قربان بھنڈ]
نواز لیگ حکومت کی نجکاری کی پالیسی کے خلاف ریلوے ورکرز یونین نے سندھ کے مختلف شہروں میں جلسوں کا اہتمام کیا ہے، اسی سلسلے میں حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر بھی ریلوے ورکرز یونین حیدرآباد زون کی جانب سے نجکاری کے خلاف ایک عظیم الشان احتجاجی جلسے کا اہتمام مورخہ 24 دسمبر کو کیا گیا۔ جلسے میں ریلوے کے محنت کشوں نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی اور نجکاری کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے بھرپور نعرے بازی کی۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ریلوے ورکرز یونین کے مرکزی چیئرمین منظور احمد رضی، نائب صدر جنید اعوان، جنرل سیکریٹری نسیم راؤ، عارف مشوانی، اشفاق حسین، محمد سلیم، اقبال تنولی، غلام عباس اور وکیو خاصخیلی نے کہا کہ ریلوے کی بیوروکریسی نے ریل کے سارے لوہے کو چبا لیا ہے اور اب وہ محنت کشوں کی ہڈیاں بھی چبانا چاہتے ہیں، کروڑوں روپوں کی کرپشن کے ذریعے ملک کے حکمرانوں نے ریل کے سارے مال کو لوٹ لیا ہے اور اب اسے خسارے میں بتا کر بیچنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہم آج اس ملک کے حکمرانوں کو یہ وارننگ دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے اگروہ نجکاری کی پالیسی سے باز نہ آئے تو جو ہاتھ ریل کو چلاتے ہیں وہ اسے روک بھی سکتے ہیں، ہم نجکاری کے خلاف اپنے احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ملک گیر تحریک چلائیں گے، آج ریلوے کے غریب محنت کشوں کی حالت زار یہ ہے کہ کالونیوں میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے، کراچی میں 2224 نوکریاں ریلوے میں خالی پڑی ہیں لیکن وہ ریلوے کے مزدوروں کے بچوں کو نہیں دی جارہی، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام تر کانٹریکٹ ملازموں کو مستقل کرنے کے ساتھ ساتھ نئی بھرتیاں کی جائیں، بجلی کے بل (جنہیں بڑھا دیا گیا ہے) پرانے ریٹ پر لائے جائیں، اسکولوں کی فیسیں کم کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لینن نے ایک بار کہا تھا کہ ریل کا مزدور گھڑی کے کانٹوں کی طرح ہوتا ہے، جب تک وہ کانٹے چلتے ہیں تب تک گھڑی چلتی ہے، اسی طرح جب تک ریل چل رہی ہے یہ نظام بھی چل رہا ہے، ہم حکمرانوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے مطالبات منظور نہیں کئے گئے تو ہم ریل کو جام کردیں گے۔