آل پاکستان نادرا ایمپلائز یونین کے مرکزی جنرل سیکرٹر ی گوہر ایوب مروت کا انٹرویو
اہتمام: نعمان خان (PTUDC پشاور)
آپ نے نادرا میں کب ملازمت اختیارکی اور کس وجہ سے آپ نے نادرا یونین کا حصہ بنے؟
میں نادرا میں 13 مارچ 2003ء میں بھرتی ہوا تھا اور اس وقت میں Operation Manager کا پرسنل اسسٹنٹ تھا۔ زیادہ ڈیوٹی بھی میں نے پشاور ہیڈکواٹر میں کی ہے۔ میں نے اپنی ڈیوٹی میں افسر شاہی کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ایک افسرکا اپنے نچلے طبقے کے ساتھ برتاؤ کیسا ہوتا ہے، ان کے حقوق کو کس طرح پامال کیاجاتا ہے۔ یہ سب میری آنکھوں کے سامنے ہوتا تھا اور میں یہ ظلم دیکھ دیکھ کر افسر شاہی سے نفرت کرنے لگا۔ اسی وجہ سے میں یونین میں آیا کہ اگر ظلم کے خلاف بغاوت کرنی ہے تو پھر محنت کش طبقے کو اپنے ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ اس وقت جب جنرل مشرف کا دور آمریت تھا تو نادرا میں بھی صرف جرنیلوں کا ہی حکم چلتا تھا۔ اس دور میں ہمارے یونین کے سربراہ سلیم لالہ اور ان کے ساتھی بار بار محنت کشوں کو اکھٹا ہو نے کی تلقین کررہے تھے۔ مجھے بھی غلامی سے نجات کا یہی راستہ نظر آیا۔
کیا نادرا کے تمام ملازمین مستقل بنیادوں پر کام کر ہے ہیں؟
نادرا میں 3 قسم کی کیٹگریز میں ملازمین کام کررہے ہیں۔
1۔ ڈیلی ویجز ملازمین: یہ وہ ملازمین ہوتے ہیں جنھیں 7500 روپے ما ہوار کی تنخواہ پر رکھا جاتا ہے اور ان سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا ہے۔ پھر ایک، دو ماہ انکو تنخواہ دی جاتی ہے اور بعد میں یہ تنخواہیں بند کر دی جاتی ہے۔ ان کی بند تنخواہیں بھی افسر شاہی اپنے جیب میں ڈالتی رہتی ہے اور پھر زیادہ سے زیادہ چھ سات ماہ میں انکو نوکر ی سے نکال دیا جاتا ہے یا وہ ملازم تنخواہ بند ہونے کی صورت میں خود ہی ملازمت چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ نئے ڈیلی ویجز ملازمین رکھ لیتے ہیں اور ان ملازمین کو رکھنا ان کے لیے صرف اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ صوبائی بیورکریٹ افسروں کے بڑے بڑے خرچے نکل جاتے ہیں۔ ابھی پچھلے ہی دنوں کی بات ہے کہ ایک فوجی جرنیل نے نادرا کے اکاؤنٹ سے صرف اپنے دانت لگوانے کے لیے دس لاکھ روپے ہڑپ کر لیے۔ یہ وہی رقم ہے، جو ملازمین کی روکی جا نے والی تنخواہ ہوتی ہے۔
2۔ کنٹریکٹ ملازمین: یہ وہ ملازمین ہوتے ہیں جنھیں کنٹریکٹ دے کر مختلف قسم کے پراجیکٹس کے لیے لیا جاتا ہے یا نادرا سنٹر میں رکھا جاتا ہے اور وقت ختم ہو نے پر ان کو بھی نکال دیا جاتا ہے۔ لیکن ہمیں اس بات کا بڑا افسو س ہوتا ہے کہ نادرا نے شروع شروع جب ملازمین کو پراجیکٹس کے لیے لیا تھا تو وہ آہستہ آہستہ ان ملازمین کو مستقل بنیادوں پر رکھ لیتا تھا یا ان ملازمین کو کنٹریکٹ پہ کنٹریکٹ دیتارہتا تھا، جس سے ملازمین بھی خوشی خوشی کام کرتے رہتے تھے کہ ایک نہ ایک دن ہم بھی مستقل ہو جائیں گے۔ لیکن 2010ء کے بعد جو بھی پراجیکٹ نادرا کو ملا ہے، اس میں وقفے وقفے سے ملازمین کو نکا ل دیا جاتا ہے۔ پراجیکٹ میں دو طرح کے ملازمین کو لیا جاتا ہے۔ ایک وہ ملازمین جو اخبار میں اشتہار دیکھ کر ٹیسٹ کے لیے آتے ہیں اور پھر ٹیسٹ پاس کر کے پراجیکٹ کے لیے ملازمت اختیار کرلیتے ہیں۔ دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو بغیر ٹیسٹ اور انٹرویو کے سیاسی بنیادوں پر اور افسر شاہی طبقے کے رشتے داروں اور دوستوں سے تعلق کی بنا پر آتے ہیں اور پھر پراجیکٹ ختم ہونے پر جن لوگوں کا تعلق واستہ ہوتا ہے وہ آہستہ آہستہ مستقل ہوجاتے ہیں اور جن کا کو ئی تعلق نہیں ہوتا انھیں نوکری سے نکال دیا جاتا ہے۔
3۔ مستقل ملازمین: یہ وہ ملازمین ہیں جو پہلے کنٹریکٹ پہ کام کرتے تھے اور پھر 2012ء کی احتجاجی تحریک کیوجہ سے مستقل ہوگئے تھے۔ لیکن برائے نام مستقلی کی وجہ سے انکو اپر سکیل نہیں دیا گیا۔ کیونکہ ڈیٹا انٹری آپریٹرکا بنیادی سکیل تمام اداروں میں BPS-12 ہے لیکن ہمیں مستقل کرنے کے بعد BPS-7 میں رکھا گیا۔ یہ سراسر زیادتی ہے۔ نہ ہی ہمیں وہ سہولیات دی گئیں جو کہ دوسرے اداروں کے ملازمین کو میسر ہوتی ہیں۔ بس صرف برائے نام مستقل ہوئے ہیں۔
آج آ پ نے نادرا بیورکریسی پر مختلف قسم کے کیسز دائر کئے ہوئے ہیں، ان کی کچھ وضاحت کریں؟
ہمارے پشاورہائی کورٹ اور سپر یم کورٹ میں بہت سے کیسز چل رہے ہیں۔ ہمارا اس وقت پشاور ہائی کورٹ میں جو سب سے بڑا کیس چل رہا ہے وہ ڈی۔ جی۔ آر کی اپ گریڈایشن اور پرموشن کا ہے جس کے لیے منیجمنٹ مختلف قسم کے حیلے بہانے کر رہی ہے لیکن اس کا نتیجہ عنقریب نکلے گا۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ میں ہمار اایک کیس چل رہا ہے کہ جب ہمیں ریگولر کیا گیا تھا تو بنیادی سکیل Bps-12 کی بجائے ہمیں Bps-7 دیا گیا۔ ایک کیس ہم نے ابھی ابھی کیا ہے جو فاسٹ ٹریک الاؤنسز کا ہے۔ نادرا کی آمدن میں ہمارا کوئی حصہ نہیں جو کہ باقی تمام اداروں کے ملازمین کے لیے میسر ہے۔ ابھی سمارٹ کارڈ کی فیس تمام شہریوں کے لیے جو رکھی گئی ہے وہ 1500 روپے ہے۔ اس پر نادرا کا خرچہ صرف 410 روپے کے قریب آتا ہے۔ لیکن تمام کا تمام منافع منیجمنٹ اپنی جیب میں ڈالتی ہے، کسی بھی ملازم کو اس کا حق نہیں ملتا۔ اس حق کے لیے بھی ہم نے کیس کیا ہوا ہے کہ اس پر بھی تمام ملازمین کو سال کے آخر میں Bonus ملنا چاہیے۔ نادرا آرڈیننس 2000ء کی 43 شق کے تحت ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ یونین نہیں بنا سکتے۔ اس سلسلے میں بھی ہم نے بلوچستان ہائی کورٹ میں کیس دائر کر رکھا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ہم نے آج تک ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں جتنے بھی کیسز دائر کئے ہیں وہ اپنی ذات کے لیے یا اپنے لیے نہیں کئے۔ یہ سب قانونی چارہ جوئی نادرا کے ملازمین کو حق دلوانے کے لئے کی جاتی ہے۔
اس سرمائے کے نظام میں جہاں ہر چیز بازار میں بکتی ہے اور محنت کش طبقے کو تاریخ پہ تاریخ ہی ملتی ہے، آپ عدالت سے ہٹ کر اپنی جدوجہد کا راستہ کیوں نہیں اپناتے؟
آپ کی بات درست ہے، پاکستان کی عدالتیں وہ ادارے ہیں جہاں پر محنت کش طبقے کو انصاف نہیں ملتا۔ یہ عدالتی نظام گورے سامراج کا بنایا ہوا وہ نظام ہے جہاں غریب آدمی تھک ہار کر خود ہی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ لیکن ہر جگہ جہاں پر منیجمنٹ پہنچے گی وہاں ہم ان سے مقابلہ کریں گے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے ملازمین کے پاس سیاسی شعور کی کچھ کمی ہے اور وہ اپنا روزگار ہاتھ سے جانے سے ڈرتے ہیں۔ لیکن انسان پر جیسے جیسے تلخ حالات آتے ہیں شعور بھی اسی طرح بڑھتا ہے۔ جب کسی کے پاس شعور آتا ہے تو وہ اپنے حق کے لیے خود ہی اُٹھتا ہے۔ میں یہ یقین سے کہ سکتا ہوں کہ آنیوالے دنوں میں نادرا کے یہی محنت کش اپنے حق کے لیے اٹھیں گے اورہم اس ادارے سے افسر شاہی کا خاتمہ اور اپنے حقوق حاصل کر کے رہیں گے۔
آپ کے خیا ل میں تمام محنت کشوں کے مسائل کا حتمی حل کیا ہے؟
اگر موجودہ وقت کے مطابق دیکھا جائے تو یہ سرمایہ دارنہ نظام ناکام ہوچکا ہے، نہ صرف اس خطے میں بلکہ دنیا کے کونے کونے میں۔ اسکے برعکس کوئی متبادل ہے تو وہ صرف اور صرف سوشلسٹ انقلاب ہے اور یہی محنت کش طبقے اور پوری انسانیت کے لیے ایک درست نظریہ جدوجہد ہے۔ ہر انسان کو روٹی، تعلیم، رہائش، روزگار اور علاج کی سہولیات صرف سوشلزم میں ہی میسر آ سکتی ہیں۔ سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد میں ہی تمام محنت کشوں کے بنیادی مسائل کا حل موجود ہے۔