ملینیم ڈویلپمنٹ گول مول

| تحریر: عمران کامیانہ |

یکم جون 2013ء کو شائع ہونے والے ’’اکانومسٹ‘‘ کے شمارے کا سرورق بڑا دلچسپ تھا۔ سرخی کا عنوان ’’غربت کے خاتمے کی طرف دنیا کی اگلی بڑی چھلانگ‘‘ تھا۔ متعلقہ مضمون میں انسانیت کو یہ ’خوشخبری‘ سنائی گئی تھی کہ غربت بہت جلد قصہ ماضی ہونے والی ہے اور ’’1990ء سے 2010ء کے درمیان ترقی پذیر ممالک میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والی آبادی کی تعداد آدھی ہوگئی ہے… ایک ارب انسانوں کو خط غربت سے اوپر اٹھا لیا گیا ہے۔‘‘

economist end of poverty
اکانومسٹ کا سرورق

اکانومسٹ مزید لکھتا ہے کہ ’’کرہ ارض پر بسنے والے 7 ارب انسانوں میں سے 1.1 ارب عالمی طور پر تسلیم شدہ 1.25 ڈالر روزانہ کی انتہائی خط غربت سے اب بھی نیچے ہیں۔ مختلف حکومتوں کے نمائندگان اور عالمی اداروں کی ملاقاتیں اس ہفتے سے شروع ہو کر اگلے سال تک جاری رہیں گی جن میں ملینیم ڈویلپمنٹ گولز (MDGs) کی جگہ نئے ٹارگٹ طے کئے جائیں گے۔ ملینیم ڈویلپمنٹ گولز کا اجرا ستمبر 2000ء میں ہوا تھا اور یہ 2015ء میں ختم ہورہے ہیں۔ اب حکومتوں کو مزید ایک ارب افراد کو 2030ء تک انتہائی غربت سے نکالنے کے منصوبے بنانے ہوں گے۔‘‘
اکانومسٹ کا یہ مضمون درحقیقت عالمی سطح پر سامراجی اداروں کی جانب سے شروع کی گئی وسیع پراپیگنڈا مہم کی کڑی ہے جس میں دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ’’ملینیم ڈویلپمنٹ گولز‘‘ (ہزار سالہ ترقیاتی منصوبہ جات) کے ذریعے غربت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کے تحت نسل انسان ’سست روی سے ہی سہی‘ لیکن ترقی کی منزلیں عبور کرتی چلی جارہی ہے۔ MDGs کا اجرا 2000ء میں اقوام متحدہ کے ’ملینیم سمٹ‘ میں کیا گیا تھا جس میں اقوام متحدہ کی اس وقت کی ممبر تمام 189 ریاستوں اور 23 بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندگان نے 2015ء تک آٹھ مقاصد پورے کرنے کا ’عزم‘ کیا تھا۔ ان گولز میں 2015ء تک انتہائی غربت کی شرح کو نصف کرنا، تمام بچوں کو پرائمری تعلیم تک رسائی، جنسی برابری، بچوں کی شرح اموات میں کمی اور ماؤں کی صحت میں بہتری، ایڈز اور ملیریا جیسی بیماریوں کا تدارک اور ’’ترقی کی عالمی شراکت داری‘‘ شامل تھے۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے بعد ازاں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور افریقی ڈویلپمنٹ بینک کے ذریعے غریب ممالک کے لئے ’’امداد‘‘ اور معاشی اصلاحات کے ذیلی منصوبے شروع کئے گئے۔
MDGs کے نتائج کی حقیقت اکانومسٹ کے اسی مضمون میں ہی بالواسطہ طور پر کچھ یوں عیاں کی گئی ہے کہ ’’نومولود بچوں کی اموات میں کمی اور ماؤں کی صحت وغیرہ کے حقیقی گولز پورے نہیں ہو پائے ہیں… تاہم غربت کو نصف کرنے کا گول پانچ سال پہلے ہی پورا ہو گیا ہے۔‘‘ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان نیو لبرل معیشت دانوں کے نزدیک آخر ’’غربت‘‘ کس بلا کا نام ہے؟ یہ کیونکر ممکن ہے خواتین اور بچوں کی صحت جیسے انتہائی بنیادی سماجی اعشارئیے گراوٹ کا شکار ہیں لیکن ایک ارب لوگ غربت سے باہر نکل آئے ہیں؟ تاریخی متروکیت اور بڑھتے ہوئے معاشی زوال کے اس عہد میں ؂ کون سا ایسا جادوئی نسخہ سرمایہ داری کے ہاتھ آگیا ہے جس کے ذریعے دس بارہ سالوں میں ہی عالمی غربت کو آدھا کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے؟ اعداد و شمار کو ذرا سا کریدنے پر ان دعووں کا پول کھل جاتا ہے۔
2000ء میں MDGs کے اجرا سے پہلے دنیا بھر کی حکومتوں نے 1996ء میں روم میں منعقد ہونے والے ’ورلڈ فوڈ سمٹ‘ میں غذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد 2015ء تک نصف کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ اس وقت کی آبادی کے مطابق اس کا مطلب 83 کروڑ 60 لاکھ افراد کو غربت سے نکالنا تھا۔ بہت سے ناقدین نے تب بھی اس ٹارگٹ کو اس بنیاد پر ڈھونگ قرار دیا تھا کہ دولت کی مساوی تقسیم نو پر مبنی معاشی پالیسیوں سے غربت کا مسئلہ چند سالوں میں ہی ختم ہو سکتا ہے۔ لیکن محروم انسانوں کے غم سے نڈھال سربراہان مملکت اور سامراجی پالیسی سازوں کا یقین اپنے نظام پر اس قدر پختہ تھا کہ اس بے جان سے ٹارگٹ پر بھی پانی پھیرا جانے لگا۔ 2000ء میں غربت میں کمی کے اس ٹارگٹ کو ’’تھوڑا رد و بدل‘‘کر کے ساتھ ’’ملینیم ڈویلپمنٹ گول 1‘‘ قرار دیا گیا جس کے تحت کل آبادی میں ایک ڈالر روزانہ پر رہنے والے افراد کی شرح کو نصف کیا جانا تھا۔ ’’ہاتھ کی صفائی‘‘ یہاں سے ہی شروع ہوتی ہے جس کے ذریعے غربت کی تعریف کو غذائی قلت سے ہٹا کر آمدن کے ساتھ منسلک کر دیا گیا اور غربت میں غرق انسانوں کی مطلق (Absolute) تعداد کی بجائے کل آبادی میں ان کی شرح پر توجہ مرکوز کروا دی گئی۔ چنانچہ کل آبادی میں اضافے کے پیش 16 کروڑ 70 لاکھ غریب انسان ویسے ہی اس گول میں سے باہر ہو گئے۔ لیکن یہ صرف آغاز تھا جس کے بعد بھی اعداد و شمار کے ہیر پھیر یا تعریف کی تبدیلی کے ذریعے ’’غربت میں کمی‘‘ کا تاریخی عمل جاری رہا۔
2000ء میں جاری ہونے والی گول کو بھی بعد ازاں تبدیل کر دیا گیا اور مجموعی عالمی آبادی میں غریب انسانوں کی شرح کو نصف کرنے کی بجائے ترقی پزیر ممالک میں غریب انسانوں کی شرح کو نصف کرنے کا گول اپنایا گیا۔ اس کے بعد گول کا نقطہ آغاز ہی 2000ء سے تبدیل کر کے 1990ء مقرر کر دیا گیا جس کے ذریعے چین میں سرمایہ دارانہ معاشی سائیکل میں آنے والے افراد کو بھی غربت سے نکلنے والے افراد میں شامل کر لیا گیا۔ یاد رہے کہ سرمایہ دارانہ دانشوروں کے مطابق 1978ء سے پہلے پورا چین ہی ’’غریب‘‘ تھا۔ گول کے نقطہ آغاز میں اس تبدیلی کے ذریعے 32 کروڑ مزید افراد کو غربت سے نکال لیا گیا۔ یوں 1996ء میں 83 کروڑ 60 لاکھ افراد کو غربت سے نکالنے کے گول کو 34 کروڑ50 لاکھ افراد تک محدود کر کے عالمی سطح پر غربت کو نصف کر دیا گیا!
millinum development goals cartoon (1)لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ سامراجی پالیسی ساز غربت کی تعریف ہی اس طرح کرتے ہیں کہ ’’غربت میں کمی‘‘ کا تاثر دیا جا سکے۔ غربت کا پیمانہ ’’عالمی خط غربت‘‘ (International Poverty Line) کو بنایاجاتا ہے۔ 1990ء میں ورلڈ بینک کے معیشت دان مارٹن روالین کی تجویز پر ورلڈ بینک نے پہلی بار 1 ڈالر یومیہ (1985ء کی ’’پرچیزنگ پاور پیریٹی‘‘ یا PPP پر) کو عالمی خط غربت قرار دیا (۱)۔ آسان الفاظ میں اس خط غربت کی تشریح کچھ یوں ہے کہ 1985ء میں امریکہ میں 1.25 ڈالر کی جتنی قوت خرید تھی اس کے مساوی یا زیادہ قوت خرید یومیہ رکھنے والا انسان (کسی بھی ملک میں) غریب نہیں ہے۔ لیکن یہ عالمی خط غربت الٹا ورلڈ بینک کے گلے پڑ گیا اور 2000ء میں بینک کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ’’ 1 ڈالر یومیہ سے کم پر رہنے والوں کی تعداد 1987ء میں 1.2 ارب سے تجاوز کر کے 1.5 ارب ہوچکی ہے اور 2015ء تک یہ تعداد 1.9 ارب تک پہنچ جائے گی۔‘‘ یہ رپورٹ 1980ء کی دہائی کے بعد ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے سامراجی مالیاتی اداروں کی جانب سے نافذ کی جانے والی نیو لبرل معاشی پالیسیوں پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہی تھی لہٰذا ان اداروں کی ’’ریپو ٹیشن‘‘ سخت خطرے میں پڑگئی۔ چنانچہ اس خبر کو دبا کر کچھ عرصے بعد نئی کہانی کچھ یوں پیش کی گئی کہ ’’گزشتہ دو صدیوں سے اگرچہ غربت مسلسل بڑھ رہی تھی لیکن آزاد منڈی کی پالیسیوں کے نفاذ کے بعد 1981ء سے 2001ء تک غربت میں گھرے انسانوں کی تعداد میں 40 کروڑ کی کمی ہوئی ہے۔‘‘ اس افسانے کو ’حقیقت‘ کا روپ دینے کے لئے ورلڈ بینک نے غربت کا پیمانہ ہی تبدیل کر دیا۔ عالمی خط غربت کو 1985ء کے ایک ڈالر کی قوت خرید سے تبدیل کر کے 1993ء کے 1 ڈالر کی قوت خرید مقرر کر دیا گیا۔ افراط زر اور ڈالر کی قدر میں کمی کے پیش نظر نیا خط غربت اتنا نیچے گر گیا کہ کروڑوں انسان ویسے ہی اس سے بلند ہو گئے (۲)۔ بعد ازاں یہی خط غربت MDGs کے لئے منتخب کیا گیا لیکن ’’غربت میں مزید کمی‘‘ کے لئے 2008ء میں اسے پھر تبدیل کر کے 2005ء کے 1.25 ڈالر کی قوت خرید پر منتقل کر دیا گیا اور راتوں رات 12 کروڑ مزید افراد کو غربت سے نجات دلا دی گئی۔
آج بھی 2008ء میں مقرر کیا جانے والا یہی خط غربت استعمال کیا جاتا ہے جس کے مطابق 2005ء میں امریکہ میں 1.25 ڈالر کے مساوی قوت خرید رکھنے والا انسان غریب نہیں ہے۔ امریکہ کا کوئی بھی شہری بتا سکتا ہے کہ اس آمدن پر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ 2005ء میں امریکی حکومت کی اپنی رپورٹ کے مطابق صرف خوراک کی بنیادی ضروریات کے لئے بھی 4.50 ڈالر یومیہ درکار تھے۔ اسی طرح ہندوستان میں اس خط غربت سے کچھ اوپر زندگی گزارنے والے 60 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ 1990ء میں سری لنکا کی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کی 35 فیصد آبادی غربت میں زندگی گزار رہی تھی جبکہ اسی سال ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق سری لنکا میں غربت کی شرح صرف 4 فیصد تھی۔ پاکستان میں کچھ عرصہ قبل SDPI کی جانب سے شائع کی جانے والی رپورٹ کے مطابق آٹھ ہزار افراد یومیہ خط غربت سے نیچے گر رہے ہیں اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے خود تسلیم کیا ہے کہ 60 فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ لیکن ورلڈ بینک کے خط غربت کے مطابق صرف 12 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے۔ یعنی اعداد و شمار میں ہر ممکنہ ہیر پھیر کے بعد ریاستیں جس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں، ورلڈ بینک جیسے ادارے اس پر بھی پردہ ڈالنے میں مصروف ہیں۔
سرمایہ داری کے عالمی پولیس مین امریکہ کی بات کی جائے تو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پانچ کروڑ افراد غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ 2008ء کے بعد سے یورپ میں بھی ’’فلاحی ریاست‘‘ منہدم ہو رہی ہے، بیشتر یورپی ممالک میں وسیع بیروزگاری معمول ہے، ریاستی سہولیات چھینی جارہی ہیں، عوام کی آمدن سکڑ رہی ہے اور غربت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ دنیا کے ہر خطے میں کم و بیش یہی صورتحال ہے جبکہ سامراجی ادارے غربت میں بینظیر کمی پر شادیانے بجا رہے ہیں!
ورلڈ بینک کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرنے والے ’ییل یونیورسٹی‘ کے پروفیسر اور ’گلوبل جسٹس پروگرام‘ کے ڈائریکٹر تھامس پوگ کا کہنا ہے کہ ’’(غربت میں کمی کا پراپیگنڈا) انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ یہ کس طرح سے ممکن ہے کہ غریبوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے لیکن بھوک بڑھتی جارہی ہے؟‘‘ کچھ عرصہ قبل گلوبل پوسٹ میں شائع ہونے والے مضمون میں ترقیاتی امور کے ماہر جول الیوٹ لکھتے ہیں کہ ’’غربت کوئی قدرتی چیز نہیں ہے۔ یہ پیدا کی جاتی ہے۔ ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور WTO کا مقصد غربت کا خاتمہ نہیں بلکہ ’سٹیٹس کو ‘کو برقرار رکھنا ہے۔ انہیں چاہئے کہ یہ ڈھونگ اب بند کریں۔‘‘ اسی مضمون میں جول الیوٹ نے جنوبی کوریا کے ایک معیشت دان کی کتاب ’’اوپر پہنچ کر سیڑھی کھینچ لو‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’آج ترقی یافتہ شمار ہونے والے تقریباً تمام ممالک اس مقام پر سخت قسم کی ریاستی مداخلت کے نتیجے میں پہنچے ہیں۔ ان ممالک کی ریاستوں نے اپنی نومولود صنعت کی بیرونی سرمایہ کاروں سے حفاظت کی اور ٹیکنالوجی کو پروان چڑھانے میں مدد فراہم کی۔ اب جبکہ یہ ممالک (صنعتی اور معاشی طور پر) اوپر پہنچ گئے ہیں تو ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور WTO جیسے اداروں کے ذریعے ترقی پزیر ممالک کو ’آزاد عالمی تجارت‘ کا درس دے رہے ہیں۔‘‘
eqکئی سنجیدہ بورژوا معیشت دانوں کے مطابق کم تر معیار پر زندہ رہنے کے لئے بھی 2.50 ڈالر یومیہ (موجودہ خط غربت سے دو گنا) درکار ہیں۔ اگر 2.50 ڈالر کو خط غربت مقرر کیا جاتا ہے تو اس سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد 3.1 ارب ہو جائے گی۔ یہ تعداد ورلڈ بینک کے تخمینے سے تین گنا زیادہ ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر غربت کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے۔ تاہم کچھ معیشت دان 2.50 ڈالر سے بھی بڑھ کر 5 یا 10 ڈالر یومیہ کا خط غربت تجویز کرتے ہیں۔ اس معیار پر خط غربت سے نیچے زندہ رہنے والوں کی تعداد 5.1 ارب (کل انسانی آبادی کا 80 فیصد) بنتی ہے!
مارکس نے سرمایہ داری کو ’’بہتات کے بیچوں بیچ غربت‘‘ کے نظام سے تعبیر کیا تھا۔ غربت سرمایہ داری کے خمیر میں موجود ہے۔ چند ہاتھوں میں دولت کا ارتکاز سرمایہ دارانہ نظام کے ارتقا کا ناگزیر نتیجہ ہے جس کا مطلب انسانوں کی اکثریت کے لئے محرومی اور ذلت ہے۔ 2008ء کے بعد سے دولت کا ارتکاز کم ہونے کی بجائے تیز تر ہی ہوا ہے۔ آکسفیم کے مطابق 2016ء میں ایک فیصد آبادی کی دولت، باقی کی 99 فیصد آبادی کی مجموعی دولت سے تجاوز کر جائے گی۔ یہ صورتحال غمازی کرتی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام خود اپنے کلاسیکی اصولوں پر بھی چلنے سے قاصر ہے اور اس کا بحران گہرا ہوتا چلا جائے گا۔ انسان کی روح کو غریب کر دینے والا یہ نظام غربت کا خاتمہ نہیں کر سکتا بلکہ اس میں اضافہ ہی ہو گا۔ قلت اور مانگ سے پاک انسانی سماج کی ضمانت فراہم کرنے والے ذرائع پیداوار کو آج نجی ملکیت نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ ہزاروں سال کی انسانی محنت کے ثمرات کو سرمائے کی جکڑ سے آزاد کرانے کے لئے سوشلسٹ انقلاب درکار ہے!
 
(۱) PPP کا استعمال کسی کرنسی کی حقیقی قدر/قوت خرید کا اندازہ لگانے کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لئے کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی مخصوص کموڈیٹی کی مختلف ممالک میں قیمتوں کا موازنہ کر لیا جاتا ہے۔ عام طور پر میکڈونلڈ کے ’بِگ میک‘برگر کو پیمانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ اس کا معیار دنیا بھر میں کم و بیش ایک سا ہے۔ مثال کے طور پر جنوری 2015ء میں بگ میک کی پاکستان میں قیمت 300 روپے جبکہ امریکہ میں 4.79 ڈالر تھی۔ Theoretically اس کا مطلب ہے کہ 1 ڈالر کی قوت خرید 62 پاکستانی روپے کے مساوی ہے۔
(۲) 1990ء سے 2005ء تک 32 کروڑ افراد کے خط غربت سے بلند ہونے کا تاثر ملا۔

متعلقہ:

انہیں کیڑے کھانے دو۔ ۔ ۔

اقوام غیر متحدہ

کارپوریٹ گدھ

محرومی کب تلک مفلوج رکھے گی؟

مرتے ہوئے نظام کی وحشت