فیصل آباد: واپڈا کے محنت کشوں کا نجکاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

[رپورٹ : PTUDC ٰٖ فیصل آباد]
22 جنوری کو FESCO کے محنت کشوں نے نواز شریف حکومت کی جانب سے نجکاری کے اعلان کے خلاف ضلع کونسل کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج میں شریک سینکڑوں محنت کش نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر نجکاری کے خلاف نعرے درج تھے۔ موجودہ حکومت کی مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف محنت کشوں میں پایا جانے والا شدید غصہ نعروں سے ظاہر تھا۔ ماضی میں بھی نواز شریف حکومت نے عوامی اداروں کو کوڑیوں کے بھاؤ سرمایہ داراروں میں بانٹا ہے۔ FESCO کی خریداری کے خواہشمند میاں منشاء کے خلاف محنت کشوں نے شدید نعرہ بازی کی۔
محنت کشوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین کے رہنماء رانا غلام جعفر، میاں منیر عابد، چوہدری غفار گجر، رانا رشید احمد خان نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہیIMF کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے محنت کشوں پر حملے شروع کر دیئے ہیں۔ اس نجکاری کا مقصد سرمایہ داروں کو نوازنا ہے۔ فیسکو منافع بخش ادارہ ہے جس کا سالانہ منافع 22 ارب روپے ہے۔ اس کے سنگل ڈجیٹ لائن لاسز پاکستان میں دوسری کمپنیوں کے مقابلے میں سب سے کم ہیں۔ اس کے بوسیدہ انفراسٹرکچر کو محنت کش اپنی صلاحیتوں سے چلا رہے ہیں۔ نواز شریف حکومت فیسکو کو 27 ارب روپے میں میں اپنے منظور نظر میاں منشاء کو بیچنا چاہتی ہے۔ پاکستان میں 23000 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن سرکاری پاور پلانٹس کو بند رکھ کر جان بوجھ کر لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے اور سرمایہ داروں کے نجی پاور پلانٹس سے مہنگی بجلی خریدی جا رہی ہے۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر نواز شریف حکومت نے نجکاری کا فیصلہ واپس نہ لیا تو فیسکو کے مزدور انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے کامریڈز نے احتجاج میں شرکت کی اورمحنت کشوں میں لیف لیٹ تقسیم کئے۔