وطن میں جلاوطن!

[تحریر: لال خان]
موجودہ حکومت کے وزرا ترجمان آج کل بہت زور شور سے وطن پرستی کی نعرہ بازی کررہے ہیں۔ عمران خان کی اس کال پر کہ وہ پورا پاکستان بند کریں گے، کو یہ پاکستان کے متوالے ملک دشمنی اور وطن سے غداری قرار دے رہے ہیں۔ ان حکمرانوں کو واقعی یہ وطن بہت عزیز ہے۔ جس سرمایہ دار جاگیردار طبقے سے یہ تعلق رکھتے ہیں اسکی تو اس وطن میں چاندی لگی ہوئی ہے۔ انکے اربوں کے اثاثے ہیں۔ اس وطن کی تمام دولت اور وسائل کی ملکیت اس حکمران طبقے کے قبضے میں ہے۔ دولت میں مسلسل اضافے ہیں۔ سرمایہ دارانہ ریاست اس دولت اور اثاثوں کی رکھوالی اور ان میں حصہ دار بھی ہے۔ اس ملک کی سرزمین پر بھی ان کا کا قبضہ اور جن زمینوں پر قبضہ نہیں ہے ان کو زبردستی قبضے میں لے رہے ہیں۔ زرخیز اور شاداب زمینوں پر کالونیاں ہی کالونیاں بن رہی ہیں اور زراعت اور صنعت کا بھٹہ بیٹھ رہا ہے۔ درمیانے طبقے کی تمام گفتگو‘ رویے اور رشتے ہر لمحے پیسے‘ کاروبار‘ پلاٹوں اور مکانوں کے گرد محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایک کے بعد دوسری ہاؤسنگ سکیم کا اجرا ہورہا ہے۔ چند سو پلاٹوں کی سیکم کے پلاٹوں کی ہزاروں فائلیں فروخت کردی جاتی ہیں اور ایسے لگتا ہے کہ سبھی نجی اور ذاتی ملکیت چاہے وہ کتنی ہی قلیل کیوں نہ ہو کی ہوس میں غرق ہو کر اسی اندھی دور میں شامل ہو ئے جاتے ہیں۔ لیکن کاروبار اور لین دین میں اس قدر دھوکہ فریب اور فراڈ بڑھ گیا ہے کہ شاید ہی کوئی سودا یا کوئی جائیداد ایسی ہو جس پر جھگڑا نہیں ہوتا۔ ان جائیدادوں کے آقاؤں کی آپس میں بھی لڑائیاں اور تصادم ہوتے ہیں لیکن پھر ان میں جو سب سے زیادہ مالدار چالاک اورعیار ہوتا ہے جو ریاست کے عدلیہ اور دوسرے اداروں کے ساتھ کھلواڑ کرنا اور ان کو اس کاروبار میں حصہ داری میں شراکت کروانے کا زیادہ فنکار ہوتا ہے وہ اجارہ دار بن جاتا ہے۔ اپنے پھیلتے ہوئے کاروبار کے پنچوں کو سرزمین کی دولت اور وسائل میں پیوست کردیتا ہے۔ پھر یہ اس بے بہا لوٹی ہوئی دولت کو اس طرح خیرات اور مذہبی رفاعی کاموں میں تشہیر کے ساتھ استعمال کرتے ہیں کہ سماج کی نفسیاتی پستی کے عالم میں ان سے زیادہ پرہیز گار‘ غریب پرور‘ سخی اور ہمدرد کوئی نظرہی نہیں آتا۔ ذرائع ابلاغ کو ایک سرمایہ دارانہ نظام میں سرمائے کے شکنجے سے زیادہ ریاست کی طاقت بھی نہیں جکڑسکتی۔ اور پھر ایک ایسا وقت آپہنچتا ہے کہ ان کی یہ غائب طاقت ان کا نام لے یا لکھ کر بے نقاب کرنا ایک ناقابلِ معافی جرم بن جاتا ہے۔ چندارب پتیوں کا ریاست سیاست اور صحافت پر سخت گیر تسلط ہے۔
لیکن پھر عمران خان ان کے کون سے پرائے ہیں۔ ان کے تانے بانے بھی اسی طبقے سے ملتے ہیں۔ ویسے تو جتنا بڑا لین دین ہو تو ایسے کاروبار میں جھگڑے اور تنازعے بھی اتنے ہی بڑے بن جاتے ہیں۔ لیکن ہیں تو سب اسی سرمایہ دارانہ نظام کے چٹے بٹے! اور اگر اس پورے نظام کو کسی محنت کشوں کے طبقاتی انقلاب کا خطرہ لاحق ہوجائے تو یہ منٹوں میں یکجا اور یکجان ہو جاتے ہیں اس حکمران طبقے اور اسکے نظام وسیاست کو نہ تو کسی سیکولر یا لبرل انقلاب سے خطرہ اور نہ ہی کسی اسلامی انقلاب سے ان کا معاشی اور اقتصادی نظام بدل سکتا ہے۔ سود کا نام منافع رکھ دینے سے اس کا کردار نہیں بدلا کرتا۔
لیکن عمران خان نے پاکستان بند کرنے کی کال دی ہے وہ آخردی کس طبقے کو ہے؟یہاں عمومی طور پر پہیہ جام اور مکمل بندش جس مفروضے کو سمجھا جاتا ہے وہ دوکانداروں اور تاجروں کے شہر بند کرنا سڑکوں پر دھرنے دینا چند لمپن نوجوانوں کے گروہوں کا توڑ پھوڑ کرنا‘ آگ لگانا‘ ٹائر جلانا وغیرہ ہوتے ہیں۔ لیکن ان وطن کے متوالے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی دولت اور سماجی حیثیت کوکوئی خطرہ نہیں ہوتا کیونکہ اس ملک کی ملکیت انہی کے پاس رہتی ہے۔ دوسر ی جانب وہ محنت کش طبقہ ہے جس کے پاس اس ملک کی نہ دولت ہے نہ جائیداد اور نہ کوئی بڑی ملکیت۔ ان کے پاس تو صرف انکی محنت ہے جو انہوں نے روٹی روزی کے حصول کے لیے اس مایہ کے ہربازار میں نیلام کرنی ہے۔ جب حکمرانوں کی گرفت سخت ہوجاتی ہے تو وہ پھر اس محنت کو کوڑیوں کے بھاؤ خریدتے ہیں۔ لیکن جب محنت کشوں کی باری آتی ہے تو پھر وہ اپنی محنت کی طاقت سے بنائی ہوئی اس صنعت‘ معیشت اور زخیزی کو چھین کر اسکی انفرادی یا کارپوریٹ ملکیت کو مٹا دیتے ہیں۔ کل دولت کو اجتماعی ملکیت اور معیشت صنعت اور زراعت کو اشتراکی جمہوری کنٹرول میں لے لیتے ہیں۔
عمران خان نے یہ کال مختلف طبقات پر مبنی’’عوام‘‘ کو دی ہے جن میں امیر بھی ہیں اور غریب بھی۔ جس طرح عمران خان کی پارٹی میں بھی بڑے بڑے سرمایہ دار ہیں اور اسی طرح اس طبقے کا ایک اہم حصہ ن لیگ میں بھی ہے۔ بلکہ آج کل تو سبھی پارٹیوں میں براجمان ہو کر اس بحرانی اور سکڑتی ہوئی معیشت میں ان کے بڑھتے ہوئے تنازعات اور لڑائیوں کو جیتنے میں یہ سیاسی سرکس کھیل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حکمران پارٹیاں اور وفاداریاں بدلنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتے کیونکہ ان کی سیاست نظریات پر مبنی نہیں ہوتی مزید دولت کے حصول کے لیے ہوتی ہے۔ لیکن شہر ایسے بند نہیں ہوتے۔ محنت کشوں کا انقلاب میں فیصلہ کن کردار اسی لیے ہوتا ہے کیونکہ وہ ہر پہیہ کو چلاتے ہیں۔ فیکٹریوں سے پیداوار کرتے ہیں اور زمین سے سونا اگلواتے ہیں‘ ٹیلی کمیونیکیشنز سے لے کر بجلی تک کی ترسیل اور پیداوار انہی کے ہاتھوں ہوتی ہے۔ جب ان کے اپنے طبقے کی طاقت اور دشمن طبقات کے کردار پہچان کا ادراک ہوجاتا ہے تو پھر وہ اپنی روزہ مرہ کی کاروائی کو بند کردیتے ہیں جب وہ مل کر کرتے ہیں تو پھر پورا ملک بند ہوجاتا ہے۔ نہ کوئی گاڑی چل سکتی ہے نہ کوئی فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ نہ کوئی جہاز اڑتا ہے بلکہ پورا معاشرہ ہی جام ہوجاتا ہے۔ 18 فروری 1969ء کو ایسے ہی محنت کشوں نے پاکستان بند کردیا تھا۔ اور اس ملک کا طاقتور ترین حکمران فیلڈ مارشل ایوب خان حاکمیت سے دستبردار ہونے پر مجبور ہوگیا تھا۔ لیکن اپنی آخری نشری تقریر میں اس نے اعتراف کیا تھا کہ’’آج اس ملک کی تقدیر کا فیصلہ پارلیمانوں اور حکومت کے ایوانوں میں نہیں ہورہے ہیں بلکہ گلیوں‘ بازاروں‘ فیکٹریوں اور کھیتوں‘ کھلیانوں میں ہورہا ہے۔‘‘
عمران خان اگر محنت کش طبقے کے ہراول کردار کو پکارتا تو اس کو اتنا آگے جانا پڑ جانا تھا کہ حکمران طبقے اور اس نظام سے ہر ناطہ ٹوٹ جاتا۔ اس لیے پچھلے سو دن سے زائد عرصے میں جو کچھ ہوتا آیا ہے وہی جاری رہے گا۔ مذاکرات بننے اور بگڑتے رہیں گے۔ شاید حکومتیں بھی بدل جائیں۔ اب تک حکمرانوں کے کتنے چہرے‘ کتنی حکومتیں بدلی ہیں لیکن محنت کش عوام کے حالات نہیں بدلے۔ ان اذیت ناک حالات کو یکسر بدلنے کے لیے ان کو پورا نظام بدلنا ہوگا۔ کسی نام نہاد سیاسی جدوجہد کے ذریعے نہیں ایک طبقاتی جدوجہد کے ذریعے۔ ایسی تحریک کے ابھار میں وطن دشمنی وغیرہ کے الزامات بھی بے معنی ہوجاتے ہیں۔ جس ملک کی ملکیت اور حاکمیت ان سرمایہ دار وڈیروں اور لٹیروں کے پاس ہے اس سے محنت کشوں کی محب وطنی کیسی؟ جہاں ان کو غربت‘ افلاس‘ بھوک‘ تنگ‘ بیمار‘ بیروزگاری‘ تشدد‘ استحصال‘ ظلم اور ذلت ہی ملتی ہو۔ ایسے وطن سے ان کا رشتہ بھلا کیسے بن سکتا ہے۔ جب یہاں نظام بدلے گا تو پھر اس وطن سے ان کا رشتہ بھی بنے گا۔ یہ محنت کش طبقات بھاری اکثریت میں ہو کر بھی اس جابر سرمایہ دار طبقے کے ظلم سے وطن میں بھی جلا وطن ہیں۔