۔27دسمبر: لہو کی پکار

اداریہ جدوجہد:-

2007ء میں پاکستان میں دو تحریکیں چلی تھیں۔ ایک غریبوں کی تھی اور دوسری وکیلوں کی۔ ایک میں ’’غیر سول سوسائٹی‘‘ کے لاکھوں غریب محنت کش اور نوجوان شریک تھے تو دوسری میں سول سوسائٹی کے ہزاروں خواتین و حضرات شامل تھے۔ ایک تحریک کا مقصد روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، علاج اور روزگار کا حصول تھا تو دوسری کا مقصد جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی۔ ایک تحریک کی امیدوں کا مرکز پاکستان پیپلز پارٹی تھی تو دوسری میں دائیں اور ’’بائیں‘‘ بازو کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں شریک تھیں۔ ایک تحریک انقلاب کی خواہاں تھی تو دوسری اصلاحات کی۔ ایک تحریک کروڑوں عوام کو دکھوں اور عذابوں میں مبتلا کرنے والے نظام کے خلاف تھی تو دوسری کا مقصد اسی نظام کو چلانے والی ریاست کے ایک ادارے کو مضبوط کرنا تھا۔ ایک تحریک کو اس کے محور کا خاتمہ کر کے شکست سے دوچار کر دیا گیا تو دوسری چیف جسٹس کی بحالی کی شکل میں کامیاب ہوئی۔ جسٹس افتخار کی بحالی کے بعد عدلیہ کے وقار، مرتبت، جاہ و جلال اور سیاسی کردار میں اضافے سے اس ملک کے عوام کی وسیع اکثریت کو جو آسودگی، عدل و انصاف اور افاقہ نصیب ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ سول سوسائٹی کی اس تحریک کے اعتزاز احسن، علی احمد کرد اور عمران خان جیسے علمبردار سر عام یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ عدلیہ سے وابستہ توقعات پوری نہ ہوسکیں اور کچھ بھی تبدیل نہ ہوا۔ 15 دسمبر کو عمران خان نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’انصاف صرف امیروں کے لئے ہے غریبوں کے لئے نہیں۔ ‘‘
27 دسمبر کو 2007ء کو بے نظیر کا المناک قتل دہشت گردی کا کوئی حادثاتی واقعہ نہیں تھا بلکہ حکمران طبقات اور ان کی پروردہ ریاست کے اہم دھڑوں کا ان بپھرے ہوئے عوام سے خوف کا اظہار تھا جو ایک تحریک میں یکجا ہورہے تھے۔ 18 اکتوبر 2007ء کو جب بے نظیر جلاوطنی سے واپس آئیں تو بیشتر سیاست دانوں اور تجزیہ نگاروں کے اندازوں سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر عوام کے جم غفیر نے کراچی ائیر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔ ائیر پورٹ جانے والی شاہراہوں پر مزدوروں، کسانوں اور نوجوانوں کا سمندر امنڈ آیا۔ اس سے اکیس سال قبل 20 اپریل 1986ء کو جب بے نظیر اپنی پہلی جلا وطنی سے وطن واپس لوٹی تھیں تو لاہور ائیرپورٹ پر دس لاکھ افراد نے ان کا استقبال کیا تھا۔ لیکن کارپوریٹ میڈیا کے اپنے تخمینوں کے مطابق اکتوبر 2007ء میں بیس سے پچیس لاکھ لوگ دلوں میں ارمان اورآنکھوں میں سپنے سجائے اپنی سیاسی روایت کی قیادت کو خوش آمدید کہنے آئے تھے۔ دیوار برلن کے گرنے، سوویت یونین کے ٹوٹنے اور چینی افسر شاہی کی سرمایہ دارانہ زوال پذیری کے باوجود طبقاتی کشمکش کا یہ ابھار اپنے اندر بہت سے اسباق سمیٹے ہوئے ہے۔ 1986ء سے 2007ء تک اکیس سالوں کے دوران بے نظیر کی سربراہی میں پیپلز پارٹی دو مرتبہ برسر اقتدار آئی لیکن محنت کش عوام کی حالت زار میں کوئی بہتری نہ لا سکی۔ اپنی روایت سے وابستہ توقعات پوری نہ ہونے پر عوام میں پھیلنے والی مایوسی اور بدگمانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکمران ریاست نے دونوں مرتبہ پیپلز پارٹی حکومت کی مدت پوری ہونے سے پیشتر ہی اسے معزول کر دیا۔ اس دوران نواز شریف کی سرمایہ دارانہ حکومت آج کی طرح سرمایہ داروں کو نوازتی رہی جبکہ محنت کشوں کے استحصال اور ذلت میں اضافہ ہوتا رہا۔ 1997ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو 2013ء سے بھی بدتر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پارٹی قیادت کو خود یقیں ہو چلا تھا کہ پارٹی ختم ہو چکی ہے لیکن وہ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ محنت کش عوام، مڈل کلاس کی طرح روز روز پارٹیاں نہیں بدلتے۔ وہ نسلوں تک اپنی روایات سے وفادار رہتے ہیں اور محنت کشوں کی روایات اگر انقلابات میں تخلیق ہوتی ہیں تو ان کا خاتمہ بھی انقلابی حالات میں ہی ہوتاہے۔
2007ء میں بے نظیر کی سربراہی میں چلنے والے پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم جوں جوں کراچی سے نکل کر ملک کے شمال کی طرف بڑھتی گئی توں توں عوام کی ریڈکلائزیشن میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ رحیم یار خان پہنچنے تک عوام نے پارٹی قیادت کو پارٹی کا بنیادی نعرہ ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ دوبارہ لگانے پر مجبور کر دیا تھا۔ بے نظیر بھٹو اور مشرف کے درمیان معاہدہ برطانوی اور امریکی سامراج نے ’’این آر او‘‘ کی شکل میں کروایا تھا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بے نظیر کی وطن واپسی کی شرائط پہلے سے طے تھیں۔ لیکن بے نظیر کی شخصیت کے گرد سیاسی طور پر متحرک ہونے والے عوام نے حکمرانوں کے تمام معاہدوں کو تار تار کردیا۔ سامراجیوں اور پاکستانی حکمرانوں کی تمام تر منصوبہ بندی پر پانی پھرنے لگا۔ ریاستی اسٹبلیشمنٹ کے مختلف دھڑوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ چیزیں حکمران طبقات کے قابو سے باہر ہونے لگیں۔ ریاست کا ایک حصہ اس تحریک کو اصلاح پسندی کے ذریعے زائل کروانا چاہتا تھا لیکن زیادہ رجعتی دھڑا اسے مکمل طور پر کچل دینے کے درپے تھا۔ اسی ریاستی فیکشن نے پہلے کراچی میں کارساز کا دھماکہ کروایا جس میں دو سو سے زائد محنت کش، نوجوان اور پارٹی کارکنان شہید ہوئے۔ یہ بربریت تحریک کے خاتمے کی بجائے اس کے ابھار کا موجب بن گئی جس کے بعد تحریک کے محور کو ہی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 27دسمبر کو لیاقت باغ میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پہلے پورے ملک میں آہیں اور چیخیں بلند ہوئیں۔ پھر یہ غم عوامی قہر میں تبدیل ہو کر بینکوں اور تھانوں سمیت سرمائے اور ریاست کی ہر علامت کو راکھ بناتا چلا گیا۔ عوام اس نظام اور اس کے رکھوالوں کو برباد کر دینا چاہتے تھے لیکن نہ تو ان کے پاس کوئی لائحہ عمل اور طریقہ کار تھا اور نہ ہی کوئی انقلابی قیادت میسر تھی۔ بے نظیر کے بعد پارٹی پر مسلط ہونے والی حادثاتی قیادت حکمرانوں اور ریاست کے کنٹرول میں تھی جس نے عوام کے غم و غصے کو انقلاب کی طرف گامزن کرنے کی بجائے افسوس، دکھ اور مایوسی میں زائل کرنا شروع کر دیا۔ عام ہڑتال کی کال دے کر محنت کشوں کی طاقت کو انقلابی راستے کی طرف موڑنے کی بجائے مذہبی اور روایتی رسومات میں غرق کر دیاگیا۔ ’’جمہوریت بہترین انتقام‘‘ کا نعرہ لگا کر اس نظام کو عوام کے حقیقی انتقام سے بچا لیا گیا۔ پیپلز پارٹی سے عوام کی وابستگی ’’جمہوریت‘‘ کی بنیاد پرکبھی بھی نہ تھی۔ جمہوریت کا نعرہ تو ملاؤں سے لے کر مسلم لیگ تک، سب لگاتے ہیں۔ پاکستان کے محنت کش عوام اگر پیپلز پارٹی کی طرف پر امید نظروں سے ہمیشہ دیکھتے رہے ہیں تو اس کی وجہ ’’روٹی، کپڑا، مکان‘‘کا وہ نعرہ ہے جسے عملی شکل دینے کا سوشلسٹ پروگرام آج بھی پارٹی کے بنیادی منشور میں درج ہے۔ پاکستان واپسی پر چیتھڑوں میں ملبوس لاغر جسموں والے لاکھوں لوگ میلوں ننگے پیر چل کر اپنی راہنما کی جھلک دیکھنے نہیں بلکہ اسے اپنی ذلتوں اور محرومیوں کا نظارہ کروانے گئے تھے۔ لیکن پارٹی قیادت نے طبقاتی جدوجہد کے ناقابل مصالحت ہونے کی اس وصیت کو ہمیشہ نظر انداز کیا ہے جو چیئرمین بھٹو نے جیل میں لکھی گئی اپنی کتاب میں واضح طور پر درج کی تھی۔ بھٹو کی سیاسی جدوجہد کے نچوڑ کے برخلاف ہمیشہ Reconcilation یا مصالحت کی پالیسی کو عوام پر تھونپا گیا۔ چن چن کر ذوالفقار علی بھٹو کے قاتل ضیاالحق کے حواریوں اور عوام کے ازلی دشمنوں کو پارٹی پر مسلط کیا گیا۔ 2008ء میں پیپلز پارٹی کو ایک مخلوط حکومت کے ذریعے مفلوج اقتدار دیا گیا اور اس دور اقتدار میں وہی کچھ ہوا جو اس سے پہلے پیپلز پارٹی کی دو حکومتوں میں ہوا تھا۔ عوام کی دل شکنی سے جنم لینی والی مایوسی کے نتیجے میں پھر مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوگئی۔ لیکن ان تمام قربانیوں اور ناکامیوں سے اگر کسی نے سبق نہیں سیکھا تو وہ پیپلز پارٹی کی قیادت ہے۔ بینظیر کی شہادت کے تقریباًسات سال بعد بھی پارٹی قیادت سرمایہ داری اور ’’منڈی کی معیشت‘‘ کی حمایت میں بیان دے رہی ہے۔ عوام کو پھر سے ’’جمہوریت‘‘ کے بھاشن دئیے جارہے ہیں۔ بے نظیر کے نعرے کے مطابق جمہوریت نے انتقام تو ضرور لیا ہے مگر حکمرانوں سے نہیں بلکہ عوام سے۔ یہ مہنگائی، بے روزگاری، غربت، ناخواندگی اور خونریزی ’’جمہوریت کا انتقام‘‘ ہی تو ہے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں جمہور کا ہی معاشی قتل عام کیا جارہا ہے؟ سرمایہ داری کا مطلب ہی سرمائے کی حاکمیت ہے۔ سرمائے کی اس حاکمیت کا طریقہ کار آمرانہ ہو یا جمہوری، ہر دو صورتوں میں عوام ہی پستے ہیں۔ آج بنیادی سوال یہ ہے کہ اس استحصالی نظام سے مصالحت کی سیاسی اور معاشی پالیسیاں اپنا کر پیپلز پارٹی دوبارہ کبھی عوامی روایت کی حیثیت اختیار کر پائے گی؟ عوام ہمیشہ کے لئے تو اس گھن چکر میں پھنسے نہیں رہیں گے۔ وہ جب دوبارہ اٹھیں گے تو ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے کسی آئینی، عدالتی یا جمہوری جھانسے میں نہیں آئیں گے۔ اس ملک کے محنت کشوں نے بہت لڑائیاں لڑی ہے اور نسل در نسل اپنی قیادت کی غداریوں سے گھائل ہوئے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو، شاہ نواز، مرتضیٰ، بے نظیر کتنے راہنما قتل ہوئے۔ اس سے کہیں زیادہ گمنام محنت کشوں نے اپنا لہو اس طبقاتی جنگ میں بہایا۔ ان کا لہو کب رنگ لائے گا؟ اب کی بار انہیں سوشلسٹ انقلاب کی فتح کے ذریعے اس طبقاتی جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانا ہی ہوگا!