سیاست اور دہشت کے کاروبار

[تحریر: لال خان]
تیسری دنیا کے پسماندہ سماجوں میں سیاسی اور ریاستی ڈھانچے جتنے کمزور ہوتے ہیں قلت، مانگ، ذلت اور لالچ کی شدت اتنی زیادہ ہوتی ہے۔ اس معروض میں سیاست اور اس کی ایک ہولناک شکل دہشت گردی کے معاملات میں مالیاتی سرمایہ فیصلہ کن کردار ادا کرنے لگتا ہے۔ انتخابات وغیرہ میں اساسوں، ٹیکسوں اور دیانتداری کا منافقانہ شور تو بہت مچایا جاتا ہے لیکن ریاست پیسے کے کردار کو روکنے سے قاصر اور سیاست سرمائے کی باندی بن کے رہ جاتی ہے۔
ہندوستان میں انتخابات کی ’’شفافیت‘‘ کا بڑا پراپیگنڈا کیا جاتا ہے لیکن اس ملک کے ہر انتخابات ماضی کی نسبت ’’مہنگے‘‘ہوتے ہیں۔ حالیہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے کئے جانے والے اخراجات، ہندوستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ تھے۔ اس بار مالیاتی دھونس کے معاملے میں ہندوستانی سیاست امریکہ جیسی مہنگی اور بدعنوان ترین جمہوریت کو بھی پیچھے چھوڑ گئی ہے۔ پانی کی طرح پیسے کا یہ بے دریغ بہاؤ اس حقیقت کو افشاں کرتا ہے کہ سیاست اور ’’جمہوریت‘‘ کتنے بڑے کاروبار بن چکے ہیں۔
الیکشن کمیشن کو جتنا بالاتر اور برتر ادارہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس کے قوانین کی اتنی ہی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے سربراہ اور اہلکاروں کو تبدیل کردینے سے انتخابات میں پیسے کا کردار تو نہیں بدل سکتا۔ پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس سرمایہ دارانہ سیاست میں ’سنجیدگی‘ سے الیکشن لڑنے والے تمام امیدوار، اپنی سیاسی وابستگی سے قطع نظر،سرکاری طور پر عائد اخراجات کی حد کو کس بے دردی سے پامال کرتے ہیں۔ اس نظام زر میں زر سے ٹکرانے کی قوت کسی ریاستی یا سماجی ادارے کے پاس نہیں ہے۔ زرداروں کے تحفظ کے لئے ’’ڈیزائن‘‘ کئے گئے ریاستی ڈھانچے انہیں کیسے قابو کر سکتے ہیں؟ جس سیاست میں تمام پارٹیوں کے نظریات اسی نظام کے تحفظ پر مبنی ہوں، وہ دولت سے بغاوت کا کردار کیسے ادا کرسکتی ہے؟
اگر ’’پرامن‘‘ سیاست کے یہ حالات ہیں تو پرتشدد کاروباروں میں صورت حال زیادہ سنگین ہے کیونکہ یہاں دولت کے حصول کے لئے بلا واسطہ خونریزی اور دہشت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں مذہبی، فرقہ وارانہ، لسانی اور دوسرے رجعتی نظریات پر مبنی آگ اور خون کا کھلواڑ سرمایہ دارانہ معیشت کی پرتشددشکل کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ یہاں معاشی پہلو کے سوا دہشت گردی کے ہر پہلو پر بحث ہوتی ہے۔ کبھی مذاکرات کر کے اسے قابو میں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی طاقت کے ذریعے اسے کچل دینے کے لئے آپریشن کئے جاتے ہیں۔ لیکن ذرائع ابلاغ، سیاست دان اور دانشور کبھی اس ناسور کی مالیاتی سپلائی کا ذکر نہیں کرتے۔ دہشت گرد گروہوں کے پاس آخر اتنا پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ جب تک اس زہر آلود کالی دولت کی پائپ لائنیں بند نہیں ہونگی، معاشرہ تاراج ہوتا رہے گا۔
دہشت گردی اور خونریزی کے مرتکب گروہ دراصل مختلف مافیا گینگ ہیں جو کالے دھن کے حصول کے لئے اندھی قتل و غارت گری کرتے ہیں۔ ان سے مذاکرات عوام کے ساتھ بیہودہ مذاق تھے۔ مذاکراتی کمیٹیوں والے اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ گروہ کبھی بھی’’امن‘‘ قائم کرنے کے لئے اپنا منافع بخش کاروبار بند نہیں کریں گے۔ کون سا سرمایہ دار ایسا ہے جو اپنی دولت اور منافع میں کمی چاہتا ہو؟ اور پھر مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے والے تو ’’قانونی‘‘ سرمایہ داروں سے کہیں زیادہ سفاک، بے صبرے اور وحشی ہیں۔ جہاں تک فوجی آپریشن کا تعلق ہے تو دہشت گردی سے گھائل عوام کے پاس فی الوقت امیدیں باندھنے کے سوا چارہ ہی کیا ہے؟ لیکن اس قسم کے فریبی، پوشیدہ اور چھپ کر وار کرنے والے دشمن کے خلاف آپریشن بڑا پیچیدہ اور گھمبیر ہوتا ہے۔ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے سیاستدان کسی خوش فہمی کا شکار ہیں۔ نپولین نے ایک بار لکھا تھا کہ ’’کسی بھی جنگ کی حکمت عملی میدان جنگ میں اترنے کے بعد ہی بنتی ہے۔ اس سے پیشتر بنائے گئے سارے منصوبے جنگ شروع ہوتے ہی ہوا ہوجاتے ہیں۔‘‘
جنگی حکمت عملی تیار کرنا بڑا نازک، متضاد اور پرپیچ عمل ہے۔ اس مقصد کے لئے بنائے گئے فوجی کالجوں، تربیتی اداروں اور اکیڈمیوں کی دنیا بھر میں بھرمار ہے۔ ان اداروں میں نہ صرف نئے طریقہ کار اور لائحہ عمل سکھائے جاتے ہیں بلکہ ماضی کے جرنیلوں کے تجربات، جنگوں کے نتائج اور اسباق بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں سٹاف کالج کوئٹہ سے گریجویشن کئے بغیرافواج کے افسران کی پروموشن میجر یا کرنل کے عہدوں سے اوپر نہیں ہوسکتی۔ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے کہ امریکہ کے فورٹ لیون ورتھ اور فورٹ بریگ سے لے کر برطانیہ کے سینڈ ہرسٹ تک، تمام سرکاری اور نجی فوجی تربیت گاہوں میں ماضی کے دوسرے سپہ سالاروں کے علاوہ سامراج کے سب سے بڑے دشمن لیون ٹراٹسکی کی جنگی حکمت عملی پر تصانیف بھی پڑھائی جاتی ہے۔ بالشویک انقلاب کے بعد لیون ٹراٹسکی نے تین لاکھ سپاہیوں پر مشتمل زار روس کی بچی کھچی اور خستہ حال فوج کو چند مہینوں میں آہنی عزم اور ڈسپلن کی حامل 30 لاکھ کی سرخ فوج میں تبدیل کر دیا تھا۔ اسی سرخ فوج نے دنیا بھر کے محنت کشوں کی حمایت اور انقلابی جوش و جذبے کے تحت مزدور ریاست کا دفاع کرتے ہوئے 21 سامراجی ممالک کی جارحیت کو شکست فاش دی تھی۔
فوج کا حوصلہ اور عزم جنگ کے نتائج پر فیصلہ کن اثرات مرتب کرتا ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ صرف بہادری اور دلیری ہی فتح کی ضمانت نہیں ہوتی۔ جدید ٹیکنالوجی، مالیاتی طاقت اور پراپیگنڈا کے ساتھ ساتھ سپہ سالاروں کا جنگی سائنس پر عبور اور دسترس بہت ہی اہم عناصر ہیں۔ علاوہ ازیں عسکری اور سول قیادت کا حوصلہ، ا عتماد، قوت ارادی اور یکسوئی بھی بعض اوقات جنگ کا پانسا پلٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران افریقہ کے صحراؤں میں جنرل منٹگمری (برطانیہ) اور جنرل رومیل (جرمنی) کی فوجوں کے درمیان ہونے والا سب سے بڑا معرکہ ’’الامین کی لڑائی‘‘ تھی۔ اس میں حصہ لینے والے برٹش انڈین آرمی کے کرنل شیر زمان بتایا کرتے تھے کہ جرنیل بعض اوقات بڑے حیران کن اور کارآمد طریقہ کار اختیار کرتے ہیں لیکن فیصلہ کن کردار متحارب ممالک کی صنعتی اور معاشی قوتیں ادا کرتی ہیں۔
پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن صرف وزیرستان اور گردو نواح کے کم آبادی والے علاقوں میں ہورہا ہے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے سینکڑوں ’’سلیپر سیل‘‘ ملک کے بڑے شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ پشاور، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، ملتان، جنوبی پنجاب، کراچی اور کوئٹہ میں بے شمار ٹھکانے موجود ہیں جہاں گنجان آبادیوں کے بیچ دہشت گرد گروہوں کے رہنما پناہ لیتے اور کاروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ شہروں کے کئی حصوں کو یرغمال بنانے والے یہی گروہ قبضوں، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور ڈاکوں میں بھی ملوث ہیں۔ اب یہاں فوجی آپریشن کیسے ہونگے؟ ان درندوں کے خلاف جب تک عوام کے حوصلے بلند نہیں ہونگے، محنت کش اور نوجوان منظم ہو کر گلیوں اور محلوں کی سطح پر مسلح دفاعی کمیٹیاں نہیں بنائیں گے، اس وقت تک دہشت گردی کا قلع قمع نہیں ہوسکتا۔
لیکن جس عوام نے دہشت گردوں کے خلاف لڑنا ہے اسے تو پہلے ہی حکمرانوں کی معاشی، سماجی اور سیاسی دہشت گردی نے مفلوج کیا ہوا ہے۔ ریاستی اداروں اور اہلکاروں کا نشانہ بھی اکثر و بیشتر غریب اور محنت کش ہی بنتے ہیں۔ عوام کو متحرک اور منظم کرنے کے لئے جرات مندانہ قیادت اور لائحہ عمل کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور معاشی جبر و استحصال سے نجات اور آزادی کا پروگرام بھی درکار ہے۔ ایسا پروگرام جو انکے جسم اور روح کے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔ زخم لگانے والے بھلا مرہم کیسے رکھ سکتے ہیں؟ استحصال کرنے والوں نے کبھی استحصال کے خلاف کوئی پروگرام دیا ہے؟ ایسے کسی اقدام کی ضرب دہشت گردی کے کالے دھن کے ساتھ ساتھ حکمران طبقے کے مفادات پر بھی پڑے گی کیونکہ ’’قانونی‘‘ سرمایہ دار بہت سے غیر قانونی دھندوں میں بھی ملوث ہیں اور یہ کالا دھن سفید ہوتا رہتا ہے۔ لہٰذا عوام کو متحرک کرنا پاکستان کے حکمران طبقے کے بس میں ہے نہ ہی وہ ایسی غلطی کرنا چاہیں گے۔ اس ملک کے محنت کش عوام ایک خود رو تحریک میں ہی اٹھیں گے اور عوام جب جاگتے ہیں تو بڑی سے بڑی دہشت گردی اور ظلم کو نیست و نابود کردیتے ہیں۔
دہشت گردی کی مالیاتی بنیادوں اور کالی دولت کی آمدن کے ذرائع کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو بات بہت ’’دور‘‘ تک چلی جاتی ہے۔ یہ ’’مذہبی‘‘ اور ’’غیر مذہبی‘‘ دہشت گردی صرف پاکستان میں ہی نہیں ہے۔ وسط ایشیا سے مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے لے کر جنوبی امریکی تک مختلف سامراجی اور مقامی اجارہ داریوں کے مالیاتی مفادات کے تحت دہشت اور خونریزی کا بازار گرم ہے۔ افریقہ کا شاید ہی کوئی ملک خانہ جنگی اور انتشار سے بچا ہو۔ معدنیات اور ہیروں کی کانوں پر تسلط، اسلحے کی فروخت ، منشیات کے کاروبار اور انسانوں کی سمگلنگ جیسی کئی وجوہات اس خونریزی کے پیچھے کارفرما ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں ایسی مذہبی دہشت گردتنظیمیں موجود ہیں جو تیل کے کاروبار اور امریکہ سے درآمد شدہ گاڑیاں مغربی افریقہ میں فروخت کر کے ہوشربا منافع کما رہی ہیں۔
عالمی سرمایہ داری کی نمائندگی کرنے والا سب سے پرانا اور اہم جریدہ ’’اکانومسٹ‘‘ اپنے ادائیے میں لکھتا ہے کہ ’’اغوابرائے تاوان، منشیات کی سمگلنگ، بینکوں میں خرد برد اور بھتہ خوری ان بے شمار طریقوں میں شامل ہیں جن کے ذریعے دہشت گرد اپنے ہولناک جرائم کی فنانسنگ کرتے ہیں۔ حکومتیں ان بینکوں کے خلاف اقدامات کرنے کی کوشش کرتی ہیں جو ان خطرناک عناصر کے مالی معاملات میں معاونت کرتے ہیں۔ 2012ء میں امریکی حکومت نے ایک برطانوی بینک HSBC پر کالے دھن کو سفید کرنے کے جرم میں 1.9 ارب ڈالر کا جرمایہ عائد کیا تھا۔ اسی طرح بارکلیز (برطانیہ)، اِنگ (ہالینڈ) اور سٹینڈرڈ چارٹر (برطانیہ) پر انہی الزامات کی بنیاد پر بھاری جرمانے عائد کئے گئے ہیں۔ فرانس کے بینک ’بی این پی پاری باس‘ کو 10 ارب ڈالر کے جرمانے کا سامنا ہے۔ ۔ ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دہشت گردی کے پیسے کی سپلائی بند کردی جائے تو یہ ٹوٹ کر بکھر جائے گی۔ ‘‘باقی کے مضمون میں مختلف توجیہات پیش کی گئیں ہیں کہ اایسا مکمل طور پر کیوں ممکن نہیں ہے۔ تاہم اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ ‘‘کرنے والے سامراجی ممالک کے اپنے بینک اور اجارہ داریاں پوری طرح دہشت گردی کی معیشت میں ملوث ہیں۔
2008ء میں شروع ہونے والے عالمی سرمایہ داری کے صنعتی اور معاشی زوال کے بعد یہ سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔ اربوں ڈالر کے جرمانوں کے باوجود بھی یہ کاروبار بڑا منافع بخش ہے۔ سرمایہ دار اپنی شرح منافع کو برقرار رکھنے کے لئے ہر ہتھکنڈا استعمال کرنے کے لئے تیار ہیں، چاہے وہ دہشت گردی کے کالے دھن سے منافع خوری ہی کیوں نہ ہو۔ پاکستان اور افغانستان میں جاری دہشت گردی کی معاشی بنیادیں سب سے پہلے امریکی سامراج نے ہی فراہم کی تھیں۔ 1978ء میں شروع ہونے والے ڈالر جہاد کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہیروئین اور دوسری منشیات کی پیداوار اور سمگلنگ کا نیٹ ورک سی آئی اے نے بچھایا تھا۔ اس کے بعد سے یہ کالی معیشت جتنی وسیع ہوئی ہے دہشت گردی کی وحشت اور خطے کے عدم استحکام میں اتنا ہی اضافہ ہے۔ اس آگ میں آج سامراجیوں کے اپنے ہاتھ بھی جلنے لگے ہیں۔
بی بی سی کی ویب سائٹ پر حال ہی میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اینڈریو نارتھ لکھتے ہیں کہ ’’جوں جوں نیٹو افغانستان میں پسپائی اختیار کررہی ہے، طالبان دولت کے انباروں میں لوٹ پوٹ ہورہے ہیں۔ یہ ’تحریک‘ ایک مجرمانہ کاروبار بن چکی ہے۔ ان کی دولت کے حوالے سے جو اندازے لگائے گئے ہیں، وہ بہت کم ہیں۔ جب تک طالبان اور دوسرے دہشت گردوگروہوں کی پیسے کی سپلائی بند نہیں ہوتی اس سرکشی کو دبانا ممکن نہیں ہے۔‘‘ اسی طرح کچھ ہفتے پہلے اقوام متحدہ کی شائع کردہ ایک رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’’اس سال افیون کی بڑی فصل سے منشیات کی آمدن میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔ منشیات کے علاوہ اغوا برائے تاوان، غیر قانونی کان کنی اور دوسرے مجرمانہ کاروباروں سے دہشت گردوں کے مختلف گروہ مافیا طرز کے ’سنڈی کیٹ‘ بن چکے ہیں۔ ماہانہ کروڑوں ڈالر ان کی تجوریوں میں گر رہے ہیں جس سے دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے۔ امن ان کے منافعوں کے لئے خطرہ ہے۔ اگلے سال اس دولت کے دوگنا ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ خلیج سے ان کے مالدار سرپرستوں کے پیسے کی ترسیل پاکستان میں قائم ہنڈی کے نظام کے ذریعے ہوتی ہے۔ کانوں پر قبضے، قیمتی پتھروں کی سمگلنگ اور جنگلات کی کٹائی ان دہشت گرد گروہوں کے کئی کاروباروں میں چند ایک ہیں۔ یہ کسی مذہبی نظرئیے پر مبنی تحریک نہیں بلکہ منافع پر مبنی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا متزلزل الحاق ہے۔‘‘
حکمرانوں کے اپنے ادارے تسلیم کر رہے ہیں کہ رد انقلابی ڈالر جہاد کے جس دیو کو سامراجیوں نے بوتل سے نکالا تھا وہ اب قابو سے باہر ہوگیا ہے۔ اس بربریت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس کالے دھن کو نہ صرف پاکستان اور افغانستان کی سرکاری معیشتوں پر سبقت حاصل ہے بلکہ اس ناسور کی جڑیں سرمایہ دارانہ نظام کی معیشت میں گہرائی تک جڑیں پکڑ چکی ہیں۔ کالے دھن پر مبنی یہ مذہبی جنون سماج، سیاست اور ریاست پر اثرورسوخ اور اتھارٹی حاصل کر چکا ہے۔ جرائم پر مبنی کالی معیشت کا کینسر پہلے سے ہی نیم مردہ نظام کو اندر ہی اندر کھارہاہے۔
محنت کش عوام کو سیاہ اور ’’سفید‘‘ سرمائے کے اس چنگل سے نکلنے کے لئے سرمایہ داری کے خلاف بغاوت کرنا ہوگی۔ انقلابی جراحی کے علاوہ اس سرطان کو جڑوں سمیت سماج پر سے کاٹ پھینکنے کا کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے!