| رپورٹ: عبدالرحمان (ریلوے کالونی لاہور) |
پاکستان ریلوے ملکی معیشت میں کلیدی کردار کی حامل ہے۔ سستی مال برداری کے ساتھ ساتھ عوام کو سستی سفری سہولیات بھی ریلوے فراہم کرتی ہے۔ لیکن جس طرح دیگر قومی ادارے حکمرانوں کی نااہلی، کرپشن اور عدم توجہ کا شکار ہو کر تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں اسی طرح ریلوے بھی عوام دشمن پالیسیوں کا شکار ہے جس کی سب سے واضح مثال ریلوے رہائشی کالونیوں کی حالتِ زار ہے۔
تمام ریلوے مزدور وں کی تنخواہوں میں سے ہر ماہ 5 فیصد رقم کالونیوں کی دیکھ بھال اور مرمت کے زمرے میں کاٹی جاتی ہے اور یہ کٹوتی کالونیوں میں رہائش کے پہلے دن سے شروع ہو جاتی ہے۔ لیکن رہائشی کالونیوں کے حالات دیکھ کر واضح ہو جاتا ہے کہ یہ تمام تر رقم افسر شاہی اور سیاسی حکمرانوں کی جیبوں میں ہی جارہی ہے۔
صفائی کا کوئی انتظام سرے سے موجود نہیں ہے۔ ایک طرف کوڑے کرکٹ کے ڈھیر بیماری اور آوارہ کتوں کی آماجگاہ ہیں تو دوسری طرف ٹوٹی ہوئی گلیاں اور سڑکیں اعصاب شکن مناظر پیش کرتی ہیں۔ گٹر دن رات گندگی اگل رہے ہیں، سیوریج کا انتظام انتہائی ناقص ہے اور سٹریٹ لائیٹس صدا تاریک۔ نکاس اور صاف پانی کے پائپ پھٹے ہونے کی وجہ سے یہ پانی مل جاتا ہے جس سے وبائی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ رہائشی مکانوں کی چھتیں ذرا بارش برداشت نہیں کر پاتیں اور دیواریں گرنے کو ہیں۔ برسات میں کئی مزدوروں کی چھت گرنے کی وجہ سے موت واقع ہو چکی ہے مگر انتظامیہ اور حکومت کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگی۔ کھیل کے میدانوں اور تفریحی باغات کا شدید فقدان ہے جس کے باعث بچے اور نوجوان صحت مند سرگرمیوں سے محروم ہیں۔
ایک طرف تو یہ شدید ناانصافی کا منظر ہے اور دوسری طرف ریلوے کے افسران کی رہائشی کالونیاں ہیں جہاں دو دوکنال کے بنگلے واضح طبقاتی تفریق کا منظر پیش کرتے ہیں۔ ہر سال کروڑوں روپیہ ان بنگلوں کی ملمع کاری اور آرائش پر خرچ ہوتا ہے۔ ریلوے ورکرز کی جائز شکایت ہے کہ تمام یونین قیادتیں ان مسائل پر اپنی سیاست تو چمکاتی ہیں مگر ان کے حل پر نہ تو دھیان دیتی ہیں اور نہ ہی وقت آنے پر کوئی عملی اقدامات کرتی ہیں۔
