فیصل آباد: پاور لوم سیکٹر انتخابات میں کامریڈ صفدر کی شاندار جیت

کامریڈ صفدر

[رپورٹ :کامریڈ عثمان]
نام نہاد مزدور قیادت اور فیکٹری مالکان کی طرف سے شدید مخالفت اور سازشوں کے باوجود منگل کے روز سیکٹر سطح پر ہونے والے انتخاب میں مزدوروں کی جانب سے کامریڈ صفدر کو نعمت آباد سیکٹر کا صدر منتخب کیا گیا ہے۔ یہ انتخاب اس لئے بھی اہمیت کے حامل ہیں کہ پہلی بار کسی سیکٹر میں ووٹنگ کے ذریعے کابینہ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ کامریڈ صفدر لمبے عرصے سے پاور لوم ورکرز کی جدوجہد میں پیش پیش ہیں۔ لیکن ان کو ہمیشہ فیکٹری مالکان اور اپنی مزدور تنظیم کی قیادت کی جانب سے مخالفت کا سامنا رہا ہے۔ان کو کئی بار کام سے نکالا گیا اور دور دراز علاقے میں کام تلاش کرنے پر مجبور کیا گیا لیکن کامریڈ نے نظریات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
دو ماہ پہلے نعمت آباد سیکٹر کے مزدوروں نے فنڈ میں کرپشن کرنے پر سابقہ صدر اور جنرل سیکرٹری کو عہدوں سے دستبردار کر دیا اور مرکزی قیادت کی موجودگی میں نئی کابینہ منتخب نہیں کی گئی۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک اور تنظیم ’نیشنل لیبر فیڈریشن‘(NLF) جس کی بنیاد مزدور دشمن نظریات پر ہے اور جس نے کئی بار مزدور تحریک کو نقصان پہنچایا ہے، نے تنظیم سازی کی کوشش کی جس کو مزدوروں نے یکسر مسترد کر دیا۔ کامریڈ صفدر اس تنظیم کی مخالفت کرتے رہے جس پر کامریڈ کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ سیکٹر کے مزدوروں نے کامریڈ کا بھرپور ساتھ دیا اور اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہے اور مزدوروں کی اسی حمایت اور یکجہتی کی وجہ سے مخالفین کو حملہ کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔
دو ماہ کے اس اعصاب شکن دور میں لیبر قومی موومنٹ (LQM) کی جانب سے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ اس عرصے میں تنظیم سازی نہ کر کے انھوں نے مخالف تنظیم کو جڑیں مضبوط کرنے کا موقع فراہم کیا۔ مرکزی قیادت کے اس روئیے سے تنگ آکر نعمت آباد سیکٹر کے مزدوروں نے اکٹھے ہو کر خود ہی تنظیم سازی کے عمل کو مکمل کیا۔ نئی کابینہ کے انتخاب کے بعد NLF کے عہدے داروں نے کامریڈ صفدر کو دھمکی دی کہ اگر وہ سیکٹر میں آئے تو ان کا استقبال ڈنڈوں سے کیا جائے گا۔ تمام تر دھمکیوں کے باوجود کامریڈ صفدر بدھ کو شام کی شفٹ میں کام کرنے کے لئے گئے لیکن مزدوروں کے ردعمل کے خوف کی وجہ سے مخالفین کامریڈ کے خلاف کچھ بھی نہ کر سکے بلکہ اسی شام ان کو صدر کی طرف سے ٹیلی فون پر بات چیت کے ساتھ معاملات کو حل کرنے کی دعوت دی گئی۔ ان حالات میں LQM قیادت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی اور مزدوروں نے اس روئیے پر شدید تنقید کی۔
ماضی میں بھی کامریڈ صفدر مرکزی قیادت پر مزدوروں کے فنڈ میں بے ضابطگیوں اور مزدوروں کے مسائل کے حل کے لئے بنائی جانے والی پالیسیوں اور کام کے طریقہ کار پر تنقید کرتے رہے، وہ تنظیم میں ہمیشہ جمہوری اقدار اپنانے کے لئے دباؤ ڈالتے رہے ہیں اور یہ بات کچھ افراد کو قابل قبول نہیں، اس لئے کئی بار کامریڈ کو پریشان بھی کیا گیا۔ مارچ 2011ء میں کامریڈ صفدر کو IMT کی کانگریس میں شمولیت کرنے کی پاداش میں رشید آباد سیکٹر سے نکال کر دھاندرہ سیکٹر میں بھیج دیا گیا جو کامریڈ کے گھر سے کافی دور ہے۔ بعد میں وہاں سے بھی سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات لگا کر نکال دیا گیا۔ لیکن کامریڈ نے کبھی بھی اپنے نظریات پر سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی کبھی انھیں چھپانے کی کوشش کی۔ کامریڈ صفدر کو بابو والہ سیکٹر میں کام ملا جہاں پر انھیں مزدور یونین کا جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ بابو والہ میں بھی انھیں مخالف تنظیم اور مالکان کی ملی بھگت سے کام سے فارغ کردیا گیا لیکن LQM کی مرکزی قیادت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی۔ کامریڈ صفدر اجرت میں اضافے، سوشل سیکیورٹی کارڈ کے حصول، کام کی جگہ پر بہتر ماحول، مزدوروں کے لئے بہتر علاج کی سہولیات، مزدوروں کے بچوں کی تعلیم اور لوڈشیڈنگ کے مکمل خاتمے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کے مطابق یہ مسائل صرف سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی حل کئے جا سکتے ہیں۔
NLF نہایت دائیں جانب کے سیاسی نظریات کی حامل ہے جو فیکٹری مالکان، سیاستدانوں اور بیوروکریٹس سے مذاکرات کے ذریعے مزدوروں کے مسائل حل کرنے کا پروگرام رکھتی ہے۔ NLF کے غیر ملکی NGOs کے ساتھ روابط ہیں جن کا فائدہ صرف اس تنظیم کے لیڈران اٹھاتے ہیں۔NLF کے پاور لوم ورکرز ونگ کے سربراہ ملک نذیرنے جولائی میں اجرت کے اضافے کے لئے ہونے والے لانگ مارچ کے بعد انتظامیہ اور مزدور قیادت کے مذاکرات میں13فیصد اضافے پر رضا مند ہو کر لانگ مارچ اور احتجاج کے خاتمے کا اعلان کر دیا تھا جبکہ حکومتی گزٹ نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ اضافہ28.6 فیصد ہونا چاہیے تھا۔ نیچے سے دباؤ کی وجہ سے مذاکراتی کمیٹی نے 13فیصد اضافے کو رد کیا جس کے بعد 16 فیصد اضافہ منظور کروایا گیا۔ حالات و واقعات اس بات کا واضح اظہار کرتے ہیں کہNLF کی تنظیم سازی مزدوروں کو تقسیم کرنے کے لئے کی گئی جس پر مالکان کو پورا اعتماد ہے۔ ایسے حالات میں کامریڈ صفدر کو سیکٹر صدر منتخب کروانا پاور لوم ورکرز اور سوشلسٹ نظریات کی ایک بہت بڑی جیت ہے جو پاور لوم ورکرز کی تحریک کو منظم کرنے اور اسے آگے بڑھانے میں ایک سنگِ میل ثابت ہو گی۔