تبدیلی، مگر کیسی؟

تحریر: لال خان:-
(ترجمہ: فرہاد کیانی)

حد سے زیادہ دھوم دھڑکا کرنے والی عدلیہ کے ہاتھوں ایک نسبتاً کمزور وزیرِ اعظم کی معزولی ریاست کے مختلف حصوں کے مابین جاری لڑائیوں ہی کا ایک تسلسل ہے۔ پاکستانی ریاست کے اندرونی تضادات کے پیچھے پاکستانی حکمران طبقے کے مفادات کا تحفظ کار فرما ہے۔ ریاست کے ان نام نہاد ستونوں کے مابین جاری یہ اندرونی جھگڑا سماج میں پھیلی گہری بے قراری کا اظہار ہے جو اب ایک تباہ کن طوفان کی شکل اختیار کر چکا ہے اورجو اس نظام اور سیاست کے تابع سماجی ڈھانچوں کو برباد کر سکتا ہے۔ ایک کے بعد دوسری سول اور فوجی حکومتوں کی جانب سے سرمایہ دارانہ نظام کو بچانے اور مسلط رکھنے کی معاشی پالیسیوں نے سماج کو تاراج اور اس دھرتی کے باسی عوام پر بے رحمانہ طریقے سے معاشی اور سماجی مظالم ڈھائے ہیں۔سامراجی کی ڈاکہ زنی، فوجی اخراجات اور حکمران طبقات کی لوٹ مار نے سرمایہ دارانہ غلامی میں رہنے والے 19 کروڑ بے یارو مددگار انسانوں کے لئے کچھ نہیں چھوڑا۔ بنیادی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، مہنگائی جان لیوہ،غربت اذیت ناک، بنیادی ضروریات نایاب یا پھر اسطاعت سے باہر ہیں اور عوام کی وسیع اکثریت کی زندگی جہنم بن چکی ہے۔ 50ڈگری کی جھلساتی گرمی میں ملک کے بیشتر حصوں میں بیس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہی عوام کے صبر کے پیمانے کو پھاڑ دینے کے لیے کافی ہے۔
وزیر اعظم کی نا اہلی سے پہلے کے چند دنوں میں پر تشدد اور برق ربا مظاہرے ہو رہے تھے۔اس لوڈ شیڈنگ کے ہاتھوں مفلوج ہوتی انسانی زندگیوں سے تنگ نوجوان اور محنت کشوں کے کھولتے ہوئے غیظ و غصب نے منتشر لیکن انتہائی پر زور قوت سے ظاہری جمود کو توڑ ڈالا۔ عوام کو جیسے کوئی سزا دی جا رہی ہے اور اس لوڈ شیڈنگ کے ہاتھوں نہ ختم ہونے والی اذیت نے ان کی زندگیاں عذاب بنا دی ہیں۔اگرچہ شریفوں کی قیادت میں دائیں بازو کی دکھاوے کی اپوزیشن نے اس مسئلے کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن جلد ہی انہیں احساس ہو گیا کہ یہ مظاہرے ان کے کنٹرول سے باہر نکل رہے ہیں اور وہ وفاقی حکومت سے بھی زیادہ خوفزدہ ہو گئے۔وہ میدان میں آئی ان قوتوں کو واپس کھینچنے کے لیے ہاتھ پیر مارنا شروع ہو گئے۔ لیکن عوام کوایک بار متحرک کرنے اور پھر انتقام کی آگ سے بھرے غصے اور نفرت کا اظہار کرتے ہوئے متحرک عوام کو دوبارہ قابو کرنے میں بہت فرق ہوتاہے۔ان متشدد مظاہروں کے مناظر کسی حد تک 27دسمبر2007ء کو بے نظیر کے قتل کے بعد ہونے والے واقعات کی جھلک تھے۔ بینک، پولیس تھانے، پیٹرول پمپ، پر تعیش شاپنگ مال، بجلی کمپنیوں کے دفاتر سمیت کچھ سیاسی لیڈروں کے محل نما گھر عوام کے غیض و غذب کا نشانہ بنے۔لیکن یہ بھی درست ہے کہ عوامی تحریک کی قیادت کرنے اور اسے منظم اور جاری رکھنے کے لیے اگر کوئی انقلابی پارٹی نہ ہو تو اس کا مقدر افرا تفری اور اور بدنظمی ہوتا ہے۔ لمپن اور دیگر ایسے عناصر صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور آتش زنی، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کا امکان ہوتا ہے۔ خاص طور پر تحریک کے شروعاتی مراحل میں۔
حالیہ مظاہرے گزشتہ چند برسوں میں لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور سماج پر ڈھائے جانے دوسرے مظالم کے خلاف ہونے والے مظاہروں ہی کی ایک کڑی ہیں۔اکتوبر2007ء کے بعد سے ملک میں کوئی بہت بڑی عوامی تحریک سامنے نہیں آئی۔ اکتوبر2007ء کی تیزی سے بڑھتی اور ریڈیکل ہوتی تحریک کو بے نظیر کے قتل سے غم اور مایوسی میں ذائل کر دیا گیا۔ دلچسپ امر ریاست میں ان ابھاروں کے ایک عوامی تحریک میں بدل جانے کے حوالے سے پایا جانے والاخوف اور اس کی شدید کمزوری ہے۔میڈیا اور دانشور عوامی شعور کو مختلف ریاستی اداروں اور حکمران طبقے کے دھڑوں کی جانب داری پر قائل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا چکے ہیں۔لیکن لوڈ شیڈنگ سمیت زندگی کے حقیقی مسائل اس قدر تلخ ہیں کہ جلد یا بدیر عوام کے پاس ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ اگرچہ ریاست اور اشرافیہ کے مختلف حصوں کے درمیان ذاتی اور مالی تنازعات موجود ہیں لیکن اس نظام کو چلائے رکھنے کے لیے ان میں ایک مخصوص ہم آہنگی بھی پائی جاتی ہے۔لیکن جیسے جیسے اس نظام کے گلنے سڑنے کی وجہ سے سماج میں ہل چل تیز ہو رہی ہے ، اس سے اقتدار کے ایوانوں میں بھونچال جنم لے رہے ہیں۔حکمران طبقات کے اندرونی تنازعات منظر عام پر آ رہے ہیں۔ عدلیہ اور انتظامی کے مابین جھگڑا اسی شورش کا اظہار ہے۔
عدلیہ اور ملک ریاض کے جھگڑے کے ماند پڑتے ہی عوام کو گھائل کرتے سماجی اور معاشی مسائل کا اظہار پر تشدد مظاہروں کی صورت میں نظر آیا۔ریاست اور حکومت کے مختلف درجے اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ وہ مزید سماجی شورش کے متحمل نہیں ہو سکتے۔کراچی میں جاری قتل و غارت، بلوچستان میں خونریز پراکسی جنگ، پختون خواہ میں اضطراب، قبائلی علاقوں میں سامراجی جارحیت اور بنیاد پرستی کی دہشت گردی اور پنجاب میں ایک پر زور عوامی بغاوت کو کنٹرول کرنا اس ریاست کے بس کی بات نہیں تھی۔ اس کے علاوہ ریاستی ایجنسیوں اور دوسرے اداروں کے اصلی مکروہ چہرے کا اس اندرونی لڑائی میں بے نقاب ہونا بھی شامل ہے۔ سماج میں پکنے والے دباؤ کو ذائل کرنے کے لئے اگلاحربہ وزیر اعظم کی برطرفی تھی۔لیکن اس ہتھکنڈے سے عوام کو بہت لمبے عرصے تک اس ظلم کے خلاف بغاوت سے روکا اور دبایا نہیں جا سکتا۔حکمران اشرافیہ کی تبدیلی پاکستان میں اس وقت جاری خوفناک حالات کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ڈوبتی ہوئی معیشت میں یہ صورتحال مزید ابتر ہو گی۔ سرمایہ دارانہ نظام میں اوپر کی تبدیلی سے کوئی بھی بہتری لانے کی گنجائش ختم ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاست کے مختلف دھڑوں کے مابین جاری لڑائی میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔وزارت عظمیٰ کے ایک امیدوار کی نامزدگی پہلے ہی اینٹی نارکاٹکس ایجنسی کے سربراہ پاکستانی فوج کے حاضر میجر جنرل کی جانب سے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سے کھٹائی میں پڑ چکی ہے۔اب نئے وزیر اعظم کے لیے راجہ پرویز اشرف کا نام لیا جا رہا ہے۔اس کاچناؤ خود پیپلز پارٹی کی حکمران قیادت کے دیوالیہ پن کو ننگا کرنے کے لیے کافی ہے۔ قبل از وقت انتخابات کی صورت میں عوام بڑے پیمانے پر ان سے لا تعلق رہیں گے۔روائتی دایاں بازو اور مذہبی پارٹیاں ایک اتحاد بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ دائیں بازو کا پاپولسٹ اظہار عمران خان کی شکل میں اس میں شامل ہو سکتا ہے۔ اگر وہ جیت بھی گئے تو کوئی بھی مسئلہ حل نہیں کر سکیں گے۔موجودہ حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی حکمران اتحاد ٹوٹ جائے گا۔ اتحادی مزیدکمائی اور نئی حکومت میں لوٹ مار کیلئے موزوں عہدوں کے لیے سیاست کی منڈی میں اتر آئیں گے۔پی پی پی کی موجودہ قیادت کا ’’مفاہمت کے ذریعے حکومت‘‘ کا ناٹک حکمران طبقات اور سامراجیوں کے لیے بہت فائدہ مندتھا۔انہوں نے عوام کی روائتی پارٹی کے لیڈروں کے ذریعے لوگوں پر سارے (معاشی و سماجی )حملے کروائے۔گزشتہ چار برسوں میں جو کچھ عوام نے برداشت کیا ہے، اس سے انہوں نے بہت تلخ سبق سیکھا ہو گا۔موجوہ کیفیت میں انتخابات کے نتائج واشنگٹن میں تیار ہوں گے۔لیکن ایک انقلابی تحریک بلند تر میعار پر 1970ء کو دہرائے گی۔
ڈیلی ٹائمز، 24جون 2012ء