جھنگ میں بے روز گار نوجوانوں کی تنظیم سازی کا آغاز

رپوٹ:کامریڈ عصمت:-

اتوار 8اپریل 2012ء کے دن بے روزگار نوجوان تحریک کے زیرِ اہتمام جھنگ میں ایک ا جلاس کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان ’’پاکستان میں سیاسی و معاشی بحران اس کا حل تھا‘‘۔جلسے کی صدارت کامریڈ آدم پال نے جبکہ 15خواتین سمیت جھنگ ، فیصل آباد اور چنیوٹ سے 90سے زیادہ نوجوانوں نے شرکت کی۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں زیرِ تعلیم کامریڈ عصمت نے سٹیج سیکریٹری کے فرائض انجام دئے اور جلسے کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے عوام گہرے معاشی و سیاسی بحران کا شکار ہیں ، معیارِ زندگی روز بروز گر رہا ہے ، سماجی حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں اور آج ہمارے یہاں اکٹھے ہونے کا مقصد ، مارکسی بین الاقوامیت کے نقطہ نظر سے اس بحران کا جائزہ لینا ہے۔
کامریڈ آدم پال نے اپنی تقریر میں عالمی سرمایہ داری کے بحران پر روشنی ڈالی اور کہا کہ انسانی سماج میں سے ایسے بحرانات تب تک ختم نہیں ہو سکتے جب تک ذاتی ملکیت اور سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ نہ کر دیا جائے ۔ اور یہ سب صرف اور صرف محنت کش طبقے کی جدوجہد سے ممکن ہے جو کہ ایک عالمی سوشلسٹ انقلاب پر منتج ہو کر دنیا کو بھوک، بیروزگاری، افلاس اور جنگوں سے نجات دلائے گا۔
اس تقریر کے بعد ہال میں بیٹھے نوجوانوں نے بیروزگاری کے خاتمے کے لئے لائحہ عمل پر بہت سے سوالات کئے۔انہوں نے کہا ہمیں مسائل کی وضاحت و تشریح کے ساتھ ساتھ ان کے عملی حل کے لئے حکمت عملی بھی چاہیے۔اس کے بعد بہت سے کامریڈز اور بے روز گار نوجوانوں نے سٹیج پر آ کر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور گرما گرم بحث کو آگے بڑھایا۔
ایشین مارکسسٹ ریویو کے ایگزیٹو ایڈیٹر کامریڈ ثقلین ، پیپلز یوتھ آرگنائزیشن جھنگ کے سیکرٹری جنرل کامریڈ ذوالقرنین ، پیپلز پارٹی لیبر بیورو کے صدر اور واپڈا ہائیڈرو یونین جھنگ کے رہنما طفیل شاہد ،پاور لوم ورکرز نعمت آباد فیصل آباد کے صدر کامریڈ صفدر، اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے کامریڈ ارتقاء نے پاکستان کے نوجونواں اور محنت کش طبقے کے مسائل اور ان کی وجوہات کو تفصیل سے بیان کیا۔پی ٹی سی ایل سے تعلق رکھنے والے کامریڈ مجاہد نے فیض احمد فیض کی انقلابی شاعری پر جوش اندازمیں سنائی۔
آخر میں کامریڈ آدم پال نے تمام گفتگو کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے جذبے کو دیکھتے ہوئے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں انقلاب اب زیادہ دور نہیں۔ وقت کی اہم ضرورت ایک انقلابی بالشویک پارٹی کی تعمیر ہے جو انقلابی لمحات میں موضوعی عنصر کا کردار ادا کرتے ہوئے محنت کش طبقے اور نوجوانوں کی قیادت کرتے ہوئے گلے سڑے سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ پھینکے۔انہوں نے جھنگ کے کامریڈز سے اپیل کی کہ وہ یونین کونسل اور ضلعی سطح پر بے روز گار نوجوانوں کو منظم کرتے ہوئے سیاسی ، تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے سوشلزم کے نظریات کی ترویج کریں۔
انہوں نے نوجوانوں کے سوالات کے جواب بھی تفصیل سے دیے۔ انقلابی پارٹی کے مالی معاملات چلانے کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انقلابی تنظیمیں اور پارٹیاں اپنی سرگرمیوں کے لئے پیسے انقلابی نوجوانوں اور محنت کش طبقے سے لیتی ہیں نہ کہ سرمایہ داروں سے۔ سرمایہ داروں سے پیسے لینے کا مطلب یہ ہوگا کہ آخری تجزئے میں آپ ان کے لئے کام کر رہے ہو نہ کہ سوشلسٹ انقلاب کے عظیم مقصد کے لئے۔الیکشن کے حوالے سے کہا کہ یہ مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ عوام کو بیوقوف بنا کر اس نظام کو چلانے کا ایک طریقہ ہے جو یہ تمام مسائل پیدا کرتا ہے۔
کامریڈ آدم پال نے لائل پور (جسے اب فیصل آباد کہا جاتا ہے )کے ایک نواحی گاؤں سے تعلق رکھنے والے عظیم نوجوان انقلابی بھگت سنگھ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کے قاتل یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اس کی موت کے ساتھ اس کا مقصد بھی مر جائیگا۔لیکن بھگت سنگھ آج بھی ہر انقلابی نوجوان کی صورت میں زندہ ہے جبکہ اسے قتل کرنے والے بزدلوں کو تاریخ نے مجروح کر کے رکھ دیا ہے جنہیں آج کوئی بھی نہیں جانتا۔انہوں نے کہا کہ آج میں ہر نوجوان کی آنکھوں میں وہ انقلاب دیکھ رہا ہوں جس میں غریبوں کا نہیں بلکہ غاصبوں اور چور لٹیروں کا خون بہے گا ۔تاریخ نے ہمارے کندھوں پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے ۔روٹی ، کپڑا، مکان اور روزگار عیاشی نہیں بلکہ ہر انسان کا بنیادی حق ہیں اور یہ حق سرمایہ داری نے اکثریت سے چھین رکھا ہے۔ ہم اپنے حقوق مانگیں گے نہیں بلکہ سوشلسٹ انقلاب کرتے ہوئے چھین لیں گے۔