[رپورٹ: کامریڈ فارس]
یوں تو پاکستان میں عام آدمی کے مسائل میں آئے روز بڑے پیمانے پر اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے مگر بیروزگاری کا مسئلہ خاص کر نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر متاثر کر رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام بیروزگار نوجوانوں کو زبردستی جرائم اور منشیات کی دلدل میں دھکیل رہا ہے۔ موجودہ دائیں بازو کی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں سے بیروزگاری میں خوفناک رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر انقلابی نوجوانوں نے کراچی میں ایک مرتبہ پھر ’’بیروزگارو نوجوان تحریک‘‘ (BNT) کی رجسٹریشن مہم شروع کر دی ہے تاکہ بے روزگار نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر سیاسی طور پر منظم کرتے ہوئے بیروزگاری کی لعنت اور اس کی بنیادی وجہ یعنی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد تیز کی جاسکے۔
اس سلسلے میں سب سے پہلا کیمپ 6 اکتوبر بروز اتوار پہاڑ گنج چورنگی نارتھ ناظم آباد میں لگایا گیا۔ کیمپ 12 بجے سے شام 6 بجے تک جاری رہا جس میں علاقے کے نوجوانوں کی گہری دلچسپی ظاہر کی۔ اس موقع پر طبقاتی جدوجہد میگزین اور مارکسی لٹریچر کا سٹال لگایا گیا جس کے گرد دن بھر گرما گرم بحثوں کا سلسلہ جاری رہا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے کیمپ کا دورہ کیا اوربیروزگار نوجوان تحریک کراچی کی طرف سے شائع کردہ حالیہ لیف لیٹ اور بینرز پر درج نعروں کو سراہا۔ چورنگی سے گزرنے والی بسوں، نجی گاڑیوں اور رکشوں وغیرہ میں بھی لیف لیٹ تقسیم کیا گیا۔ اختر کالونی، سٹیل ٹاؤن، میٹروول اور دیگر برانچز کے کامریڈز نے بھی کیمپ کی سرگرمی میں بھر پور حصہ لیا۔ پیپلز پارٹی سٹی ایریا کے صدر دل محمد، پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن (PSF) کراچی ڈویژن کے صدرفیصل شیخ اور پیپلز یوتھ آرگنائزیشن (PYO) ڈسٹرک کے نومنتخب صدر عارف قریشی نے کیمپ کا خصوصی دورہ کیا۔ انہوں نے اس سرگرمی کو سراہا اور BNT کی ٹیم کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ کیمپ پر 120 سے زائد نوجوانوں نے رجسٹریشن کروائی۔ کیمپ کے نتائج بہت حوصلہ افزا رہے اور BNT کراچی کی ٹیم نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اس طرح کے کیمپ کراچی کے طول و عرض میں لگائے جائیں گے اور دسمبر میں بیروزگار نوجوان تحریک کراچی کے کنونشن کا انعقاد کیا جائے گا۔