[رپورٹ: PTUDC سیالکوٹ]
بلیو ہاریزن فیکٹری سیالکوٹ کی مشہور دستانے بنانے والی اہم فیکٹریوں میں سے ایک ہے جس کی ماہانہ آمدنی کروڑوں روپے ہے۔ اس فیکٹری کے اہم گاہکوں میں امریکی ریٹیل چین HOME DEPOT شامل ہے جس کے لئے یہاں ہینڈ گلوز تیار کئے جاتے ہیں جو کہ انتہائی مہنگے داموں عالمی منڈی میں فروخت کیے جاتے ہیں جس کے منافعوں سے فیکٹری مالکان اپنے اثاثو ں میں کئی گنا اضافہ کر چکے ہیں۔ان منافعوں سے فیکٹری مالک عابد قریشی ارب پتی اور کاروباری ٹائکون بن چکا ہے۔مگر ان کی دولت کے یہ انبار محنت کشوں کی قو ت محنت کا بد ترین استحصال کر کے لگائے گئے ہیں۔ عام محنت کش کے لئے یہاں کام کرنا کسی عذاب سے کم نہیں۔پاکستانی ریاست کے نہ ہونے کے برابر لیبر قوانین پر بھی عملدآمد نہیں کیا جارہا۔ سوشل سیکیورٹی اور مستقل ملازمت یہاں کے محنت کشو ں کے لئے کسی آسائش سے کم نہیں۔ دوسری طرف محنت کش جہاں مالکان کے منافعوں میں اضافہ کرنے میں مگن ہیں وہی ان میں شدید اضطراب اور مالکان کے لئے شدید نفرت موجود ہے۔ اس کا اظہار حال ہی میں ہوا جب محنت کشوں نے فی گلو بنانے کے لئے دو روپیہ اجرت میں اضافہ کا مطالبہ کیا۔ جس کو پہلے مالکان نے کوئی اہمیت نہیں دی لیکن جب محنت کشوں نے مل کر فیکٹری میں احتجاج کیا تو وہ ان کے مطالبہ کو ماننے پر تیا ر ہوا۔حالات قابو میں آنے کے بعد محنت کشوں سے گفت و شنید کے موقع پر اپنے کیے گئے فیصلہ سے مکر گیا اور اس نے صرف چند سپیشل آرڈرز پر ہی اضافی اجرت دینے کا وعدہ کیا۔ محنت کشوں کے مطابق فیکٹری کے ماہانہ ریگولر آرڈرز کے گلوز لاکھوں تعداد میں تیار کئے جاتے ہیں جبکہ سپیشل آرڈرز ماہانہ اوسطً 15سے 20ہزارپیس کے درمیان ہیں۔ جب محنت کشوں کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا گیا تو انہوں نے کام کرنے سے انکار کردیا۔ فیکٹری مالک نے لیبر ڈیپارٹمنٹ سے ساز باز کر کے تمام محنت کشوں کو بر طر ف کر کے فیکٹری کو بند کروا دیا۔ پاکستان کی موجودہ بحران زدہ کیفیت میں جہاں بیروزگاری میں شدید اضافہ ہوا ہے وہاں ہی بیروزگاروں کی ایک بڑی فوج موجود ہے جو چند سکوں کی خاطر اپنی قوت محنت بیچنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ اسی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے مالک نے فیکٹری کو چند روز کے لئے بند کر دیا ہے اور ساتھ ہی اپنی تمام ٹرانسپورٹ کے ڈرائیورز سے گاڑیوں کی چابیاں بھی واپس لے کر انہیں بھی بر طرف کر دیا ہے۔ اس ساری صورتحال پر جہاں محنت کش شدید دباؤ میں ہیں وہاں ہی دانستہ طور پر ریاستی سر پرستی کے بل بوتے پر فیکٹری مالکان ان کو ڈرا دھمکا بھی رہے ہیں مگر پر عزم محنت کشوں متحد ہو کر فیکٹری مالکان اور ریاست کے خلاف سر پر پیکار ہیں۔ اس موقع پر پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفیس کمپیئن محنت کشوں کے تمام مطالبات کی غیر مشروط حمایت کرتے ہوئے ان کے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے کا عزم کرتے ہوئے اس لڑائی میں دوسری فیکٹریوں کے محنت کشوں کو شامل کر تے ہوئے غیر مصالحت جدوجہد کا اعلان کرتی ہے۔