بالشویک انقلاب کے 99 سال: پھر سے لازم ہے کہ انکار کا فرمان کوئی اترے!

| تحریر: آصف رشید |

انسانی سماج کی تاریخ میں انقلابات غیر معمولی واقعات ہوتے ہیں جو تاریخ کے دھارے کا رخ بدل دیتے ہیں اور نسل انسانی کے لئے نئی منازل اور مقاصد کا تعین کرتے ہیں۔ لاکھوں بے کس، مجبور اور محکوم انسان تاریخ کے میدان میں براہ راست سرگرم عمل ہو جاتے ہیں، اپنی تقدیر بدل ڈالتے ہیں، رائج الوقت سیاست، معیشت، ثقافت، اخلاقیات اور روایات کا جبر ٹوٹنے لگتا ہے۔ انسانیت کے ایک نئے جنم کا آغاز ہوتا ہے جو تمام حدود قیود کو پاش پاش کر دیتا ہے۔ طاقتوں کا توازن ریاستوں کے ہاتھوں سے نکل کر محنت کش طبقات کے ہاتھوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔ لیکن عام لوگ انقلاب کے راستے کو آغاز میں اپنی مرضی کے تحت نہیں اپناتے بلکہ یہ معروضی حالات کی ناگزیر ضرورت بن کر اپنا اظہار کرتا ہے۔ لوگ انقلاب کی طرف اس وقت جاتے ہیں جب کوئی دوسرا راستہ نہ رہ جائے۔ عام حالات میں استحصال زدہ طبقات اپنے مسائل کے حل کے لئے آسان رستے تلاش کرتے ہیں، وہ لڑتے ہیں، آگے بڑھتے ہیں، باربار پسپا ہونے کے بعد آخری وار کرنے کا عز م لے کر حتمی فتح کے لئے سرکشی کر جاتے ہیں۔

storming-of-winter-palace
’بالشویکوں نے اپنی بے نظیر جرأت، دلیری اور مستقل مزاجی سے روس کے پرولتاریہ کی درست انقلابی رہنمائی کی‘

انقلاب کی اولین شرط رائج پیداواری قوتوں کا پیداواری رشتوں سے تضاد اور ٹکراؤ کا اس کیفیت میں چلے جانا ہے کہ جہاں مجموعی سماجی ارتقا رک جائے اور عوامی شعور اس بحران کا ادرا ک حاصل کر لے۔ انقلاب اس وقت ممکن ہے جب ایک نیا طبقہ سماج میں جنم لے کر تاریخ کے پیش کردہ مسائل کو حل کرنے کا کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ ایک انقلاب سماج کی از سر نو تشکیل کر کے سماج میں نئے سماجی اور پیداواری رشتے تخلیق کر دیتا ہے۔

سامراجی ممالک کے مالیاتی سرمائے کی یلغار اور زار شاہی کے داخلی جبر اور بعد ازاں پہلی عالمی جنگ کے تحت بحران نے وہ موزوں حالات تخلیق کئے جس میں روس کے محنت کش طبقے کی قیادت سائنسی سوشلزم کے نظریات اور درست سیاسی لائحہ عمل سے مسلح بالشویک پارٹی نے کی۔ بالشویکوں نے اپنی بے نظیر جرأت، دلیری اور مستقل مزاجی سے روس کے پرولتاریہ کی درست انقلابی رہنمائی کی۔ یہ وہ عمل تھا جس نے انقلاب روس کے عظیم واقعے کو جنم دیا۔ یہی وجہ ہے کہ 7 نومبر (قدیم روسی کیلنڈر کے مطابق 26 اکتوبر) 1917ء کو روس میں برپا ہونے والا انقلاب انسانی تاریخ کا ناقابل فراموش واقعہ تھا، جس نے (پیرس کمیون کے بعد) پہلی دفعہ انسانی تاریخ میں اکثریتی محنت کش طبقے پر مبنی مزدور ریاست قائم کی اور پوری دنیا کے محکوموں کے لئے ایک نئی راہ متعین کی۔
70 سال تک سرمایہ داری کے زر خرید دانشور سوویت یونین کے خلاف عالمی سطح پر مہم چلاتے رہے۔ بالشویک انقلاب اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والی منصوبہ بند معیشت کو بدنام کرنے کا ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ سرمایہ دارانہ دانشوروں نے کوشش کی کہ اکتوبر انقلاب کے پسماندہ روس میں ابھرنے کے بعد تنہائی کا شکار ہونے کی وجہ سے اس کی بیوروکریٹک زوال پذیر ریاست کو سوشلزم کہہ کر بدنام کیا جائے۔ اگرچہ اکتوبر انقلاب کے بعد ابھرنے والی ریاست اپنے آغاز میں اس کرہ ارض پر بننے والی سب سے زیادہ جمہوری ریاست تھی۔
اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’ریاست اور انقلاب‘‘ میں لینن نے سوویت نظام کے اصول وضع کئے تھے:
۱۔ آزاد اور جمہوری انتخابات اور سوویتوں (محنت کشوں کی پنچائتیں) کی جانب سے عہدیداروں کو کسی بھی وقت واپس بلائے جانے کا اختیار۔
۲۔ کسی بھی اہلکار کی تنخواہ ہنر مند مزدور سے زیادہ نہیں ہو گی۔
۳۔ مستقل فوج کی جگہ مسلح عوام۔
۴۔ ریاست کو چلانے کے تمام امور باری باری ہر کوئی ادا کرے گا۔
بورژ وازی کی تمام تر بیہودگی اور غلیظ پروپیگنڈے کے باوجود منصوبہ معیشت کے تحت روس نے وہ کارہائے نمایاں انجام دئیے جس کی مثال تاریخ عالم میں کہیں نہیں ملتی۔ 21 سامراجی ملکوں کی طرف سے جنگ مسلط کئے جانے، معاشی پابندیوں کے باوجود سرمایہ دارانہ منڈی کی معیشت کو ترک کر کے انسانی ضروریات کی تکمیل پر مبنی منصوبہ بند معیشت کو لاگو کر کے پیداواری قوتوں نے بے مثال ترقی کی۔ دو عالمی جنگوں اور ان کے درمیان دو انقلابات اور ایک وسیع پیمانے کی انتہائی تباہ کن اور خونریز خانہ جنگی میں سے گزرنے کے باوجود 1945ء سے 1979ء تک جی ڈی پی میں پانچ گنا اضافہ ہوا۔ 1950ء میں سوویت یونین کا جی ڈی پی امریکہ کے جی ڈی پی کے 33 فیصد سے بڑھ کر 1979ء میں 58 فیصد ہو چکا تھا اور یہ اضافہ افراط زر اور بے روزگاری کے بغیر حاصل کیا گیا تھا۔ 1913ء (جنگ سے پہلے کے پیداواری عروج) سے لے کر 1963ء تک پچاس سال میں سوویت یونین کی صنعتی پیداوار میں 52 گنا اضافہ ہوا۔ امریکہ میں اسی دوران چھ گنا سے کم اضافہ ہوا۔ چند دہائیوں میں روس کی پسماندہ معیشت دنیا کی دوسری طاقت ور ترین معیشت بن گئی۔ تیل، فولاد، سیمنٹ، ٹریکٹر اور بہت سے دیگر شعبوں میں روس نے بہت سے ترقی یافتہ ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ 1928ء سے 1970ء تک سوویت یونین میں فی کس جی ڈی پی میں اضافہ دنیا میں سب سے زیادہ تھا۔

ussr economic miracle gdp per capita 1928 to 1970
1928 سے 1970 تک سوویت یونین نے فی کس جی ڈی پی میں اضافے میں مغربی ممالک کو پچھاڑ دیا۔

سماجی زندگی کی کسوٹی کے طور پر اگر تعلیم کے شعبے کو ہی لیا جائے تو اکتوبر انقلاب کی حاصلات نے ان مٹ نقوش چھوڑے۔ ایسا جامع تعلیمی نظام نہ پہلے دیکھا گیا تھا اور نہ ہی سنا گیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق 1917ء سے پہلے روس میں بالغ آبادی کا 73 فیصد ناخواندہ تھا۔ جبکہ اقلیتوں میں خواندگی کی شرح صرف 5 فیصد سے بھی کم تھی۔ قازقستان میں 2 فیصد، ازبکستان میں 1 فیصداورتاجکستان میں خواندگی کی شرح 5 فیصد تھی۔ روس میں 175 قومیتوں میں سے 124 کا اپنا رسم الخط موجود نہیں تھا۔ اقلیتوں کی صورتحال بدترین تھی اسکی وجہ انقلاب سے قبل زار حکومت کی وہ پالیسی تھی کہ قومیتوں کی ثقافت کو برباد کر دیا جائے جیسے یوکرائن اور جارجیا کو اخبارات، کتابوں اور عدالتوں میں اپنی زبان استعمال کرنے کی ممانعت تھی۔
1913ء میں پرائمری اور سیکنڈری سکولوں میں بچوں کی تعداد7.8 ملین تھی جو کہ 1940ء میں بڑھ کر 35 ملین ہو گئی تھی۔ جبکہ اسی عرصے میں تکنیکی سکولوں میں یہ تعداد 35 ہزار 8 سو سے بڑھ کر 9 لاکھ 51 ہزار9 سو ہو گئی تھی۔ یونیورسٹیوں کی تعداد 71 سے بڑھ کر 718 ہو گئی تھی جبکہ یونیورسٹیوں میں ہر سال طلبہ کی تعداد 1 لاکھ 12 ہزار سے بڑھ کر 6 لاکھ 50 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ یونین کی زیادہ پسماندہ اقوام میں یہ اضافہ زیادہ تیزی سے ہوا تھا۔ بوسنیا جہاں پہلے ایک بھی یونیورسٹی نہیں تھی اب وہاں 22 یونیورسٹیاں تھیں۔ آذربائیجان میں13 اور ازبکستان میں 30۔ ان دونوں ملکوں کا تعلق ایشیائی روس سے تھا۔ طالبات کی تعداد بھی ایک نئی چیز تھی جو کہ کل تعداد کا 47 فیصد ہو چکی تھی۔
سویت حکومت نے8 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے ایک آپشنل پری سکول ایجوکیشن سسٹم متعارف کروایا۔ اس سے قبل بچوں کی نگہداشت کے لیے صرف 550 مراکز موجود تھے۔ ان مراکز کی تعداد 1932ء میں 6 لاکھ جبکہ 1937ء میں 30 لاکھ ہوگئی اور یہ اضافہ مسلسل جاری رہا۔ یہ مراکز فیکٹری، اجتماعی فارموں، فلیٹس اور کام کی جگہوں کے ساتھ بنائے جاتے تھے۔ فیکٹریوں کی ٹریڈ یونینز، عوامی کمیٹیاں، والدین، انتظامی کمیٹیاں، اور صحت کے کمیسار ان مراکز کو چلانے میں تعاون کرتے تھے۔ نگہداشت کے مراکز کو کام کرنے کی جگہوں کے ساتھ اس لیے بنایا جاتا تھاکہ مائیں شیر خوار بچوں کو دودھ پلانے کے لیے کم وقت میں وہاں پہنچ سکیں۔ ہر 12 سے 15 بچوں کے گروپ کے لیے ایک تربیت یافتہ شخص مامور تھا جسکی مدد کیلئے معاون بھی موجود تھا۔ یہ مراکز والدین کی تربیت کے بہت ہی طاقت ور ادارے تھے۔ بہت چھوٹے بچوں کے سکول بھی نگہداشت کے مراکز کا کام کرتے تھے جہاں داخلہ رضاکارانہ بنیاد پر ہوتا تھا۔ ان مراکز میں آنے والے بچوں کی تعداد1940ء میں 8 لاکھ سے بڑھ کر 35 لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔ والدین اور اساتذہ کے درمیان سٹاف کونسل اور والدین کی کونسل کی ماہانہ بنیاد پر میٹنگز کے ذریعے باہمی تعاون موجود تھا۔ والدین کی سکول میں اور اساتذہ کی بچوں کے گھروں میں آمد کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ رسمی تعلیم 6 سال کی عمر سے شروع ہوتی۔ تمام بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر بھی بچوں کے لیے مخصوص کمرے اور کھیل کی جگہیں موجود تھیں۔ سویت منصوبہ بند معیشت کے تحت تعلیم کے شعبے میں بے پناہ ترقی ہوئی۔ پرائمری اور ثانوی سکولوں میں 1913ء میں بچوں کی تعداد 78 لاکھ تھی جو کہ 1942 میں بڑھ کر 4 کروڑ تک پہنچ گئی تھی۔ سارے سویت یونین میں لازمی تعلیم مرحلہ وار 8 سے15 سال تک قائم کی گئی۔ اب یہ کہا جا سکتا تھا ہر گاؤں کا اپنا سکول ہے۔ دوسرے 5 سالہ منصوبے میں 20 ہزار سکول تعمیر کیے گئے اور پھر تیسرے 5 سالہ منصوبے میں مزید20 ہزار سکول تعمیر کیے گئے جن میں سے 16 ہزار دیہی علاقوں اور 4 ہزار قصبوں میں بنائے گئے۔ سویت یونین کے زیادہ پسماندہ حصوں کو حکومت کی طرف سے اضافی امداد دی جاتی تاکہ وہ پوری یونین کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر سکیں۔
یونیورسٹیوں کے علاوہ دیگر سپیشل ادارے، جو کہ اساتذہ، زرعی ماہرین، وکلا، گلوکاروں، فنکاروں، ادیبوں، اداکاروں، ہدایتکاروں اور فزیکل ایجوکیشن والوں کو تربیت دیتے تھے، بڑی تعداد میں قائم کئے گئے۔ بہت سی دیگر مفت اور سستی سہولیات کے ذریعے بھی طلبہ کی مالی معاونت کی جاتی تھی۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں طلبہ کو سفر کے دوران ریلوے کے کرایوں میں بھی بہت چھوٹ دی جاتی تھی۔ بہت سے شہروں میں یونیورسٹی ٹاؤن موجود تھے جو تمام طلبہ کی تعلیمی اور ذاتی ضروریات پوری کرتے۔ جہاں لائبریریاں، ریستوران اور مفت لانڈری کی سہولتیں موجود تھیں۔
طلبہ کو شادی کرنے کی ممانعت نہیں تھی۔ بہت سے طلبہ شادی شدہ تھے اور انکے بچے بھی تھے۔ یونیورسٹی میں طلبہ کے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے فیکٹریوں کی طرح نرسریاں موجود تھیں۔ ہر یونیورسٹی کا اپنا طبی عملہ، معالج خانہ اور آرام گھرہوتاتھا۔ یونیورسٹی ہاسٹلز میں سنگل کواٹر کے ساتھ ساتھ شادی شدہ طلبہ کے لیے بھی کواٹر موجود تھے۔ مختلف قسم کے کلب یونیورسٹی میں ہی بنائے جاتے اور کھیلوں کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔
1917ء کے انقلاب کے بعد ثقافتی ترقی پر بہت توجہ دہ گئی۔ 1913ء میں تھیٹرز کی تعداد 153 تھی جو بڑھ کر 1940ء میں 825 ہو گئی۔ اسی طرح اسی عرصے میں کلبوں کی تعداد 222 سے بڑھ کر 1 لاکھ تک پہنچ گئی اور لائبریریوں کی تعدا 12 ہزار 6 سو سے بڑھ کر 70 ہزار ہو گئی تھی۔ سویت یونین کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ’’ سوویت یونین طلبہ کی قوم ہے۔ ‘‘بالغ آبادی میں سے ناخواندگی کے خاتمہ کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا گیا۔ وسیع پیمانے پر بالغ آبادی کی تعلیم کو فیکٹریوں اور کھیتوں میں مطالعہ، بحث ومباحثہ، سٹڈی سرکلز، پریس، سینما، تھیٹر اور پوسٹرز کے ذریعے ممکن بنایا گیا۔ بالغاں کی تعلیم نے ایک قسم کی اتوار یونیورسٹی کی شکل اختیار کر لی جہاں لوگ فارغ دنوں میں پڑھتے اور لیکچر لیتے تھے۔ اس کے علاوہ والدین کو بچوں کے دیکھ بھال کے لیے بھی تعلیم دی جاتی تھی۔
ثقافتی تعلیم کے لیے سینما ایک بہت مفید ذریعہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ فلمی صنعت نے 1917ء کے بعد سے بہت ترقی کی۔ سویت ہدایت کا ر ’’آئیزن سٹین‘‘ دنیا بھر میں آج بھی مشہور ہے اور اسے جدید فلم سازی کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سفری سینما کے استعمال سے فلم کو سائبیریا کے کھیتوں، جنگلوں اورشمال میں قازقستان، جہاں قدیم کسان ابھی تک اپنا کام کتوں اور رینڈیروں کے ذریعے کرتے تھے، وہاں تک لے جایاگیا۔ بہت سے سٹوڈیو صرف بچوں اور نوجوانوں کے لیے فلمیں بنانے کی مہارت رکھتے تھے۔
یہ ان معاشی اور سماجی بنیادوں کی معمولی جھلکیاں ہیں جنہوں نے اکتوبر 1917ء کے بالشویک انقلاب کے بعد انسانی تاریخ کے دھارے کا رخ موڑ دیا۔ ٹراٹسکی کے الفاظ میں منصوبہ بند معیشت نے اپنی برتری کو جدلیات کی زبان یا ’کیپیٹل‘ کے صفحات پر نہیں بلکہ سٹیل، سیمنٹ اور صنعت کی بنیاد پر منوایا۔
’’اکتوبر انقلاب نے ایک بالکل نئی ثقافت کی بنیاد رکھی تھی۔ اسی وجہ سے اسے بین الاقوامی اہمیت حاصل ہوئی تھی۔ ہم تھوڑی دیر کے لئے تسلیم کر لیتے ہیں کہ ناموافق صورتحال کے باعث اگر یہ انقلاب وقتی طور پر ناکام بھی ہوجاتا تو پھر بھی اس کے ناقابل فراموش نقوش باقی رہ جاتے اور ان کا اثر مستقبل پر ہمیشہ کے لئے قائم رہتا‘‘۔ (لیون ٹراٹسکی، انقلاب روس کی تاریخ)
دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح برصغیر پاک و ہند پر بھی بالشویک انقلاب نے بڑے گہرے اثرات مرتب کئے۔ سوشلزم کا نظریہ بڑی تیزی سے بر صغیر میں پھیلااور اس نے یہاں کی سیاست، ثقافت، شاعری اور سیاست کو بے حد متاثر کیا۔ برطانوی سامراج کے خلاف قومی آزادی کی تحریک میں اشتراکی نظریات دیکھتے ہی دیکھتے نمودار ہو ئے۔ روس میں ہونے والی تبدیلیاں کسی معجزے سے کم نہیں تھیں۔ دنیا بھر کے محنت کشوں اور مظلوموں کی طرح برصغیر کے محنت کشوں کے لئے بھی اکتوبر انقلاب صدیوں کی محکومی اور ذلت سے نجات پانے کیلئے ایک مشعل راہ تھا۔ برطانوی سامراج کے خلاف 1920ء کی دہائی میں ابھرنے والی مزدوروں کی تحریک اور قومی آزادی کی جدوجہد میں روسی انقلاب اور اشتراکی نظریات کی واضح چھاپ موجود تھی۔ بے شمار انقلابی نوجوانوں نے اس تحریک کو اپنی جان دے کر جلا بخشی۔ جن میں بھگت سنگھ، راج گرو، سکھ دیو اور دیگر بہت سے نوجوان شامل ہیں۔
ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ مغرب کے مقابلے میں ایک پسماندہ ملک میں محدود ہو جانے کی وجہ سے روسی انقلاب کی زوال پذیری اور افسر شاہی کے ابھار نے دوسرے ممالک کی کمیونسٹ پارٹیوں پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب کئے۔ اس سے مارکسی نظریات پر پہلی کاری ضرب لگی، افسر شاہی روز بروز طاقت ور اور مضبوط ہونے لگی۔ بڑا ظلم یہ ہوا کہ دنیا کی بے شمار دوسری کمیونسٹ پارٹیوں کی طرح ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی کو بھی سوویت افسر شاہی کے ماتحت کر دیاگیا۔ برصغیر میں کمیونسٹ پارٹی 1928ء کے بعد نظریاتی زوال کا شکار ہوئی۔ 1936ء تک اس کی نظریاتی صحت کسی حد تک قائم تھی۔ لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ پارٹی آگے بڑھنے کے سارے امکانات گنوا بیٹھی۔ یہ بھی روسی افسر شاہی کی پیروی کرنے لگی۔ 1943ء میں سٹالن، روزویلٹ اور چرچل کے درمیان معاہدے کے بعد کمیونسٹ پارٹی اپنا انقلابی کردار بالکل کھو بیٹھی، اس نے سامراج کے خلاف جدوجہد ترک کر دی، اس نے برطانوی وائسرائے لارڈ ویول کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان کی قومی آزادی کی جدوجہد جو سوشلسٹ انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی ہندو مسلم کی تقسیم کے ہتھے چڑھ گئی اور ہندوستان کی نام نہاد آزادی جاگیردارانہ اور سرمایادارانہ لوٹ کھسوٹ کا تسلسل بن گئی جو آج بھی پاکستان اور بھارت میں جاری ہے۔ یہ پارٹی بر صغیر کی مذہبی بنیاد پر تقسیم کی نہ تو مخالفت کر سکی اور نہ ہی اسکو روک سکی۔
فطری طور پر روسی انقلاب نے پوری دنیا کو متاثر کیا تھا۔ عالمی سطح پر روسی انقلاب نے بہت سی تحریکوں کو جنم دیاجنہو ں نے موقع پرست اور سرمایہ داروں کی حمایت یافتہ ’’سوشل ڈیموکریٹک پارٹیوں‘‘ کو مسترد کیا۔ ان پارٹیوں نے پہلی قاتلانہ عالمی جنگ میں اپنی بورژوازی کی حمایت کرتے ہوئے محنت کش طبقے سے غداری کی تھی۔ اسی غدار سوشل ڈیموکریسی نے جرمنی میں سرمایہ داری اور عالمی جنگ کی مخالفت کرنے والے عظیم انقلابیوں روزالکسمبرگ اور کارل لیبنخت کو قتل کروایا تھاجو جرمن انقلاب کی ناکامی کی ایک اہم وجہ تھی۔ یہی وہ جرمنی کا انقلاب تھا جس سے متعلق بالشویک انقلاب کے قائدین ولادیمیر لینن اور لیون ٹراٹسکی کا خیال تھا کہ یہ روس کے بالشویک انقلاب کا تسلسل بنے گا اور جرمنی کی جدید صنعت طاقتور منصوبہ بند معیشت اور صحت مند مزدور ریاست کی بنیاد بنے گی۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا!
اسی طرح اکتوبر انقلاب کے اثرات کے تحت امریکہ میں اصلاح پسند پارٹی میں پھوٹ کے باعث ایک اہم کمیونسٹ پارٹی وجود میں آئی تھی۔ اس کمیونسٹ پارٹی نے ٹراٹسکائٹ تحریک کے ساتھ ملکر (جو بعد میں الگ ہو گئی تھی) 1930ء میں سان فرانسسکو کی عام ہڑتال میں انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا۔ 1934ء میں ایک لڑاکا صنعتی یونین CIO قائم کی گئی جس نے روز ویلٹ انتظامیہ کو محنت کش طبقے کے لئے بڑی مراعات دینے پر مجبور کیاتھا۔ جس میں سوشل سکیورٹی، کم سے کم 40 سینٹ فی گھنٹہ اجرت، 40 گھنٹے کے ہفتہ وار اوقات اور اوور ٹائم، چائلڈ لیبر کا خاتمہ اور روزگار کی فراہمی جیسے مطالبات منوائے گئے تھے۔ یہ تمام مراعات جہاں لڑاکا کمیونسٹ قیادت اور ٹریڈیونین کی جدوجہد کا نتیجہ تھیں وہیں امریکی حکمرانوں کے انقلاب سے خوف کا عنصر بھی شامل تھا۔ امریکہ اور دوسرے ملکوں میں انقلاب کو اصلاحات کے ذریعے زائل کر دیاگیا۔
اسی طرح برطانیہ، فرانس، آسٹریا ہنگری، سپین، چین اور کئی دوسرے ملکوں میں محنت کش طبقہ اکتوبر انقلاب کی راہ پر چل نکلا تھا۔ قیادت کی عدم موجودگی، سٹالنزم کے انٹرنیشنلزم سے انحراف اور اصلاح پسند پارٹیوں کی غداری نے محنت کش طبقے کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ اکتوبر انقلاب کی زوال پذیری کی جہاں اور بہت سی وجوہات تھیں وہاں دوسرے ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ملکوں میں انقلاب کا نہ پھیل سکنا اس کی سب سے اہم وجہ تھی۔

lenin and trotsky with workers
بالشویک انقلاب کے قائدین لینن اور ٹراٹسکی

اکتوبر انقلاب ایک بین الاقوامی مظہر تھا اور بالشویک پارٹی کی قیادت نے واضح طور پر اپنی جدوجہد کو عالمی سطح پر ترقی یافتہ ملکوں کے محنت کش طبقے کے ساتھ جوڑنے کے لئے مسلسل کوششیں جاری رکھی تھیں۔ جولائی 1918ء میں لینن نے امریکی مزدوروں کے نام خط میں لکھا تھا۔ ’’ہم اس وقت ایک محصور قلعے میں ہیں (اور اس وقت تک رہیں گے) جب تک بین الاقوامی سوشلسٹ انقلاب کی قوتیں ہماری مدد کو نہیں آتیں‘‘۔
نومبر 1918ء میں اپنے ایک دوسرے خط میں لکھا: ’’دنیا کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ ہم نے روسی انقلاب کو برپا کر کے کوئی مہم جوئی نہیں کی تھی بلکہ یہ ایک اہم ترین ضرورت تھی کیونکہ اور کوئی راستہ ہی نہیں تھا۔ لیکن اگر دنیا بھر میں سوشلسٹ انقلاب اور دنیا بھر میں بالشویزم فتح یاب نہیں ہوتا تو برطانوی، فرانسیسی اور امریکی سامراج روس میں پرولتاری انقلاب اور آزادی کا گلا گھونٹ دے گا‘‘۔
سٹالنزم کے پیروکار جس بھونڈے انداز میں ایک ملک میں سوشلزم کے نظریے کی وکالت کرتے ہیں اور آج کی گلوبلائزڈ دنیا میں قومی سوشلزم کی گمراہ کن پالیسی پر اڑے ہیں، لینن نے بہت پہلے اس کی وضاحت کر دی تھی۔ لینن نے کہا تھا، ’’روس کا پرولتاریہ ایک علیحدہ سوشلسٹ ملک کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ایک خود کفیل سوشلسٹ ریاست صرف پیٹی بورژوازی ( درمیانے طبقے ) کا خیال پرستانہ تصور ہے… بیرونی دنیا سے علیحدہ رہ کر اس کی معاشی بنیادوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کرنا صرف پیٹی بورژوا تصور ہو سکتا ہے‘‘۔
سرمایہ دارانہ نظام ایک بین الاقوامی مظہر ہے اور اس کے خلاف جدوجہد بھی بین الاقوامی بنیادوں پر ہی کی جا سکتی ہے۔ اسی اصول کو بنیاد بنا کر مارکس نے مزدوروں کی عالمی تنظیم کی بنیاد رکھی تھی اور لینن نے اس بنیاد کو مضبوط کرنے کی کوشش کی تھی۔ سٹالن نے انٹرنیشنلزم کی نفی کرتے ہوئے تیسری انٹرنیشنل کو دوسری عالمی جنگ کے اواخر میں سامراجی حکمرانوں کے اصرار پر توڑ دیا۔ اس کے بعد پوری دنیا کی پارٹیاں ماسکو اور بیجنگ کی پیروکار بن گئیں جس سے عالمی انقلاب کے لئے لڑنے کی بجائے وہ خود روس اور چین کی خارجہ پالیسی کی تابعداری میں اپنی حیثیت اور اہمیت کھو کر سرمایہ داری کی آلہ کار بن کر تحلیل ہو گئیں۔
پاکستان کا حکمران طبقہ انقلاب کے لفظ سے جو کھلواڑ کر رہا ہے، انقلاب کی اس سے بڑی تضحیک شاید پوری انسانی تاریخ میں کبھی نہ کی گئی ہو۔ سرمایہ داروں سے کروڑو ں روپے لے کر انقلاب کا پتلی تماشا بنیادی طور پر لوگوں کو انقلاب سے متنفر کرنے کا ہتھکنڈا ہے۔ انقلاب کا یہ ڈرامہ بنیادی طور پر سماج میں سطح کے نیچے دہکتے ہوئے انقلاب سے خوف کی غمازی بھی کرتا ہے۔ حکمران انقلاب کی لفاظی تو کرتے ہیں لیکن انقلاب جن بنیادوں اور جن طبقات کو زیر کر کے میدان عمل میں آتا ہے اس کا تصور بھی ان حکمرانوں کے لئے جان لیوا ہے۔ ریاست کا بحران اس حد تک بڑھ چکا ہے، مختلف مالیاتی اور سیاسی مفادات کی لڑائی اتنی شدید ہو چکی ہے کہ خود حکمرانوں کے اپنے کنٹرول سے باہر نکل کر وقتاً فوقتاً منظر عام پر آجاتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکمران طبقہ اب پرانے طریقوں سے ریاست کو چلانے میں ناکام ہے، دوسرا محنت کش عوام کو ’کنٹرول‘میں لانے کے تمام روایتی حربے بھی دم توڑتے جا رہے ہیں۔ لیکن عوام اور بالخصوص محنت کش طبقے کی طرف سے اس نظام کے خلاف بغاوت واضح شکل میں سیاسی افق پر نمودار نہیں ہورہی۔ جبکہ اس ملک میں طبقاتی تفریق اور تضادات میں جس شدت سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس کا اظہار ناگزیر طور پر آنے والے دنوں میں دھماکہ خیز انداز میں ہو گا، جس کو ایک بالشویک انقلابی مستقبل دینے کا فریضہ مارکسزم کی انقلابی قوت پر منحصر ہے، جو اس خطے میں بسنے والے انسانوں کو ایک نئی زندگی سے ہمکنار کر سکتی ہے۔ اس کی تیاری ہی آج کے عہد کا سب سے بڑا چیلنج ہے جو بالشویک انقلاب کی میراث کو پھر سے زندہ کرتے ہوئے محنت کش طبقے کو حتمی فتح دلائے گا۔
جیسے بالشویک انقلاب پوری دنیا کے محنت کش طبقے کے لئے ایک حوصلہ لے کر ابھرا تھا ویسے ہی سوویت یونین کے انہدام نے محنت کش طبقے میں ایک مایوسی اور بدگمانی کو جنم دیا جس کا ناگزیر نتیجہ بائیں بازو کی پارٹیوں اور لیڈروں کے موقع پرستی کا شکار ہو کر سرمائے کے خداؤں کے سامنے سرنگوں ہونے کی صورت میں نکلا۔ سٹالنزم کی ناکامی کو سوشلزم کی ناکامی قرار دے کر منڈی کی معیشت کو آخری نسخہ قرار دے دیا گیا۔ بہت سے بائیں بازو کے لیڈر اور دانشور سرمایہ داری کی گود میں جا بیٹھے اور محنت کش طبقے کو ذلت اور رسوائی میں مایوس چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرلی۔ لیکن 2008ء کے عالمی معاشی زوال نے سرمایہ داروں کی نیندیں حرام کر دی ہیں، ان کے تمام نسخے ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ کٹوتیوں کی پالیسی، قرضوں کے پہاڑ، کینشین ازم، آزاد منڈی کی معیشت، نجکاری، ڈاؤن سائزنگ جیسا ہر حربہ ناکام ہوتا نظر آرہا ہے۔ طبقاتی جدوجہد پھر سے عالمی افق پر نمودار ہو رہی ہے۔ عرب بہار، برطانیہ میں جیرمی کوربن، امریکہ میں برنی سینڈرز کی مہم، یونان میں سائریزا کا ابھار، ہندوستان میں اٹھارہ کروڑ محنت کشوں کی ہڑتال، یہ وہ تمام واقعات ہیں جو تاریخ کے خاتمہ کا منہ چڑا رہے ہیں۔ یہ تمام تحریکیں مختلف کیفیات سے گزر یں گی۔ انقلابات پسپائیوں کا شکار بھی ہوں گے، عرب انقلاب کی پسپائی اوررد انقلابی صورتحال طوالت بھی اختیار کر سکتی ہے جو محنت کش طبقے کو وقتی مایوسی اور بد گمانی میں مبتلا کر سکتی ہے۔ اس نظام کی ٹوٹ پھوٹ اور تاریخی انحطاط میں شدت آئے گی۔ اصلاح پسندی یورپ، امریکہ اور دوسرے خطے میں زوال پذیری کا شکار ہے۔ سٹالنزم اپنی موت پر ماتم کناں ہے۔ قدامت پرستی کی سیاست بھی دم توڑ رہی ہے۔ اس نظام اور اس کی پروردہ سیاست اپنے مسلسل زوال کی جانب گامزن ہے۔
محنت کش طبقے کے پاس دو ہی راستے بچے ہیں۔ یا تو ان تمام حالات کو قبول کر کے ذلت اور رسوائی کی زندگی کو اپنا مقدر بنائے یا اس نظام کو چیلنج کرتے ہوئے جدید ذرائع پیداوار کو نجی ملکیت سے نجات دلا کر نسل انسانی کی تعمیر و ترقی کے لئے استعمال کرے۔ اس حوالے سے محنت کش طبقے کے مستقبل کا تمام تر انحصار بالشویزم کی نئی تجدید پر ہے۔ سٹالنزم کے انہدام اور چین میں سرمایہ داری کی بحالی نے تمام ابہام دور کر دئیے ہیں، محنت کش طبقے کے کندھوں پر سے ماضی کی غداریوں کا بوجھ اتر رہا ہے، نیا عہد طلوع ہو رہا ہے، اب کی بار محنت کش طبقہ جو کروٹ لے گا وہ سرمایہ داری کے خاتمے اور سوشلزم کی فتح پر منتج ہو گی۔ سوال صر ف ایک بالشویک قیادت کی تیاری کا ہے کیونکہ بالشویک انقلاب ہی آج بھی مشعل راہ ہے!