بلاول بھٹو! بغاوت باتوں میں نہیں عمل سے کرنا ہوگی!

| تحریر: قمرالزماں خاں |

26 مارچ کوصادق آباد سے ستائیس کلومیٹر شمال کی طرف، ’جمال دین والی‘ نامی قصبے کے سامنے اکٹھا ہونے والا ہزاروں افراد کا جم غفیر لمبے عرصے کے بعدکچھ ’’پرجوش‘‘ سیاسی اجتماع تھا۔ بلاشبہ یہ تعداد اتنی تھی کہ ’اعداد وشمار‘ کے مبالغے کی گنجائش موجود تھی۔ یہ ملا جلا مجمع تھا، پاکستان پیپلز پارٹی کے پرچم تھامے، ڈھول کی تھاپ پر جھومر کھیلتے اور نعرے لگا تے ان نوجوانوں، بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد موٹر سائیکلوں، ٹرالیوں اور اپنی سواریوں پر جلسہ گاہ تک پہنچی تھی جبکہ حالیہ بلدیاتی الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے عہدیداران کے زیر انتظام سینکڑوں بسوں، ویگنوں اور سپانسرڈ سواریوں کے ذریعے بھی لوگوں کو جلسہ گاہ تک پہنچایا گیا تھا۔ ضلع رحیم یارخاں میں اتنے بڑے جلسے کی مثال دینا مشکل ہے، اس بڑے جلسے کا موازنہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ہی کسی ماضی کے جلسے سے کیا جاسکتا ہے۔ بالخصوص حالیہ سیاسی جمود اور سیاست سے عوام کی بیزاری کے ’معروض‘ میں اتنے لوگوں کا جمع ہونا یا کیاجاناحیران کن سیاسی ایونٹ تھا۔

ppp jalsa in rahim yar khan
لمبے عرصے کے بعد پیپلز پارٹی سندھ سے باہر اتنا بڑا جلسہ منعقد کرنے میں کامیاب رہی

یہ جلسہ کئی حوالوں سے منفرد تھا۔ جلسے سے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کا خطاب بھی ماضی کے جلسوں میں کی گئی تقاریر سے یکسر مختلف تھا۔ بلاول بھٹونے اپنی تقریر میں شریف برادران پر تابڑ توڑ حملے کئے جو پاکستان پیپلز پارٹی کی ’’فرینڈلی اپوزیشن ‘‘کی دیرینہ پالیسی سے کسی طور مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ اسی طرح سندھ کے شوگر مافیا زرداری خاندان سے تعلق ہونے اور کئی شوگرملزکے مالک مخدوم احمد محمود کی میزبانی کے باوجود بلاول بھٹونے شوگر مل مالکان کو دی جانے والی سبسڈی پر تنقید کی اور کسانوں کے استحصال کو اپنی تقریر کا اہم موضوع بنائے رکھا۔ اسی طرح بلاول نے اپنی مختصر سی سیاسی زندگی میں کی جانے والے تقاریر کے برعکس کچھ نئے نکات پر بات کی۔ مثلاً انہوں نے کہا کہ ’’یہ نظام غریب کو غریب اور امیر کو امیر بناتا ہے‘‘، انہوں نے جلسے میں موجودہ ہزاروں کسانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’محنت آپ کرتے ہیں اور فائدہ کوئی اور اٹھاتا ہے‘‘، اسی طبقاتی لائن پر ہی بات کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ’’میں تخت لاہور اور غریب دشمن نظام کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہوں، اسکی سزا کا بھی پتا ہے، پاکستان میں غریب کے حقوق کے لئے کھڑا ہونے والوں کو قتل کردیا جاتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹوکو غریبوں کی جنگ لڑنے پر ماردیا گیا‘‘۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ’’ہماری لڑائی مظلوموں سے نہیں حکمرانوں، غاصبوں اور مفادپرستوں سے ہے‘‘، ’’پاکستان کی اکثریت سیکنڈ کلاس زندگی گزاررہی ہے‘‘۔ اگلے دن ستائیس مارچ کو جمال دین والی میں ہی پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے نومنتخب بلدیاتی نمائندگان اور پارٹی عہدیداران سے مخاطب ہوتے ہوئے بلاول بھٹونے کہا کہ کل کے جلسے میں، میں نے جو سیاسی پروگرام آپ کے سامنے پیش کیا ہے اس کو عوامی رابطے کے ذریعے ملک بھر میں پھیلادیں تاکہ ہم پیپلزپارٹی کو پنجاب سمیت ملک کی مضبوط پارٹی بناسکیں۔ اسی میٹنگ میں انہوں نے اپنی ماضی کی ’’مفاہمت ‘‘ کی پالیسی کے جواب میں نواز حکومت کی طرف سے منفی جواب دئیے جانے پر بھی تنقید کی۔ اگرچہ بلاول بھٹو نے جلسے میں موجود سرائیکی قوم پرستوں کی طرف سے سرائیکی قوم پرستی پر مبنی نعروں اور مطالبوں کو یکسر نظر انداز کیا مگردوسری طرف جنوبی پنجاب کی پسماندگی اور شریف برادران کی طرف سے لاہور کے ایک چھوٹے سے حصے پر وسائل خرچ کرنے کے معاملے کو اٹھا کرخوب تنقید کی۔ بلاول بھٹو کی رومن انگلش میں لکھی گئی اپنی تقریر سے ذہنی مطابقت تھی یا نہیں، اس کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جاسکتا، مگر کچھ تضاد عیاں ہوتے ہیں۔ مثلاً انہوں نے جمال دین والی جلسے میں طبقاتی پوزیشن لی، امیر غریب اور ’’نظام‘‘ کی بات بھی کی، لیکن ’’نظام‘‘ کا نام لیا نہ پارٹی کے بنیادی منشور میں موجود اس نظام کے سوشلزم کے ذریعے خاتمے پر کوئی بات کی۔ شاید آدھا سچ بول کر اور لوگوں کے جذبات سے کھیل کر وہ زوال پزیر پارٹی کی مردہ روح میں نئی جان پھونکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے شریف برادران پر تو بہت تنقید کی جو اسی’ ظالمانہ نظام‘ کے حقیر سے کارندے ہیں، جس نے بقول بلاول بھٹو ’’پاکستان کی اکثریت کو سیکنڈکلاس زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہوا ہے‘‘، مگر انہوں نے اس نظام کے ’بالائی حصے‘ یعنی امریکی سامراج، عالمی مالیاتی اداروں اور استحصالی بینکوں کے خلاف ایک لفظ نہیں کہا، یہاں پر پھر مفاہمت کی سیاست انکی سوچ (اگر تقریر انکی اپنی تھی تو) پر غالب آگئی۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے عوام دشمن کردار، پراکسی جنگ کی پالیسی اور اس کے نتیجے میں ملک کے طول و عرض میں جاری آگ اور خون کی ہولی پر انہوں نے شاید اس لئے کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا کہ درجنوں پارٹی رہنماؤں، بالخصوص ان کے والد گرامی اور پھوپھی جان محترمہ پر لاتعداد کرپشن چارجز کی تلوار لٹک رہی ہے۔ اسی طرح بلاول نے پاکستانی عوام کی جس کسمپرسی اور سیکنڈ کلا س شہری ہونے کا تذکرہ کیا اسکی مزید وضاحت یا حل پر کوئی بات نہیں کی۔
بلاول بھٹو، جن کا تعلق خود پاکستان کے حکمران طبقے سے ہے، کو واضح کرنا ہوگا کہ جن مسائل کا تذکرہ وہ اب اپنی تقاریر میں کر رہے ہیں ان کا حل کیا ہے؟ اس سلسلے میں پیپلزپارٹی کا بنیادی منشور آج بھی کھلی کتاب ہے اور 1967ء کی نسبت کہیں زیادہ قابل عمل ہے اور اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ مگر اس سے پہلے انہیں اپنے والد اور اس کے حواریوں کی مفاہمت، مصالحت اور بدعنوانی سے خود کو الگ کرنا ہوگا۔ ان کو کھلے دل اور ذہن سے اپنی ماضی کی حکومت کے محنت کش طبقے کے خلاف جرائم کا اعتراف کرکے ازالے کی بات کرنا ہو گی۔ یہ ازالہ پارٹی کے بنیادی منشور کی طرف لوٹے بغیر کسی صورت نہیں ہو سکتا۔ بلاول بھٹو کو اپنے نظریات کا درست طور پر تعین کرنا ہوگا تاکہ وہ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں جو ان کی ماضی کی مختلف سیاسی پوزیشنز میں نظر آتی ہیں۔
بلاول بھٹونے نواز شریف کی نج کاری کی پالیسی پر کڑی تنقید کی، لیکن اتنا کافی نہیں۔ نجکاری کے خلاف جنگ کا آغاز اگر وہ کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے سندھ سے کریں جہاں ہسپتال تک این جی اوز کو بیچے جار ہے ہیں۔ ساتھ ہی انہیں گیلانی اور بے نظیر بھٹو کے ادوار میں کی گئی نجکاری پر محنت کشوں سے معافی مانگنا ہوگی اور ان اقدامات کی مذمت کرنا ہو گی۔ بلاول کو واضح طور پر اعلان کرنا ہوگا کہ وہ مستقبل میں نجکاری جیسی مزدور اور عوام دشمن پالیسی کو کسی طور پر اختیار نہیں کریں گے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور اپنے نانا کے سیاسی فلسفے اور انقلابی پروگرام کو اپناتے ہوئے تمام نجی اداروں کو قومی تحویل میں لیں گے اور ان تمام غلطیوں اور خامیوں (سرمایہ داری کو برقرار رکھنا، ملٹی نیشنل کمپنیوں کو چھوڑ کر غیر ضروری طور پر چھوٹے چھوٹے صنعتی یونٹس کو نیشنلائز کرنا وغیرہ) کو بھی نہیں دہرائیں گے جو بھٹو دور میں کی گئیں۔ اس طرح بلاول بھٹو کو اپنی نئی سیاسی زندگی کا آغاز ہی سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت کا کردار اپنے دعووں کے مطابق بدل کر کرنا ہو گا جو محنت کشوں پر ریاستی تشدد میں نواز لیگ سے بھی آگے نظر آتی ہے، جیسا کہ کراچی میں احتجاجی اساتذہ کے ساتھ ہونے والے حالیہ سلوک سے واضح ہے۔ بصورت دیگر ان کی ’ریڈیکل‘ باتوں کو سیاسی شعبدہ بازی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔
بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ جنوبی پنجاب میں جانوراور انسان ایک ہی جگہ سے پانی پیتے ہیں۔ یہ مناظر تو ہمیں تواترسے سندھ کے طول وعرض میں بھی نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر طویل صحرائی پٹی کی انسانی آبادیاں کئی سوسال پہلے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہی علاقوں میں رہنے والی ہندو آبادیوں کو پینے کے پانی سمیت بنیادی خوراک تک میسر نہیں ہے۔ اسی فیصد سے زیادہ آبادی غذائی قلت کا شکار ہے اور نومولو د بچوں کی اموات کی شرح پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ بلاول کی طرف سے ہولی کی مناسبت سے خیر سگالی بیانات اور پاکستان میں ہندو صدر بنائے جانے کے مطالبات اپنی جگہ درست، مگر عام ہندو شہری کو بنیادی سہولیات مہیا کرنا سب سے پہلا فریضہ ہے جس کو کسی مطالبے کی بجائے خود بلاول اپنی سندھ حکومت کے ذریعے عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایسے اقدامات، یا کم از کم ایسے اقدامات کے آغاز سے ایک تو ان کے قول وفعل میں تضاد کے تاثر کی نفی ہوگی اور انکی نعرہ بازی کو ’’نئے دھوکے‘‘کی بجائے سنجیدہ سمجھا جائے گا، دوسرا پنجاب سمیت ملک کے دوسرے صوبوں میں قریب المرگ پیپلز پارٹی کو نئے سرے سے عوامی حمایت ملنے کے امکانات روشن ہوں گے۔ تاہم بلاول بھٹو کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ حکومتوں کی تبدیلی اور اقتدار کا حصول نظام کی تبدیلی نہیں ہوا کرتا اورنہ ہی ان تمام مسائل اور مصائب کا حل سرمایہ دارانہ نظام میں رہتے ہوئے ممکن ہے۔
بلاول کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ’’پاکستان میں غریب کے حقوق کے لئے کھڑا ہونے والوں کو قتل کردیا جاتا ہے‘‘ اور ’’ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹوکو غریبوں کی جنگ لڑنے پر ماردیا گیا‘‘۔ یہ خدشہ درست ہے مگر تاریخ کا یہ سبق بھی واضح رہنا چاہئے کہ مبہم نظریات اور ادھورے اقدامات کی صورت میں ایسے انجام کے خطرات کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھ جاتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی آخری کتاب میں خود واضح کیا تھا کہ ان کی موت کی وجہ اھورے انقلاب کی پالیسی تھی۔ انہوں نے کہا تھاکہ ’’میں نے ملک کے شکستہ ڈھانچے کو جوڑنے کے لئے دومتضاد مفادات کے حامل طبقات میں آبرومندانہ مصالحت(حالیہ دورمیں لفظ مفاہمت استعمال کیا جارہا ہے )کرانے کی کوشش کی تھی، مگر موجودہ فوجی بغاوت(5 جولائی1977ء) ثابت کرتی ہے کہ مختلف مفادات کے طبقات میں مصالحت ایک یوٹوپیائی خواب ہے۔ اس ملک میں ایک طبقاتی کشمکش ناگزیر ہے جس میں ایک طبقہ برباد اور دوسرا فتح یاب ہوگا‘‘ (’’اگر مجھے قتل کیا گیا‘‘، صفحہ نمبر55)۔
ریاست اور حکمران طبقے کے حملوں کا جواب صرف ٹھوس اور واضح انقلابی لائحہ عمل کے ذریعے ہی دیا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں پاکستان کے کروڑوں مزدور اور کسان طبقاتی جدوجہد کو آگے بڑھانے والوں کی حفاظت کا فریضہ خودسرانجام دیں گے، جیسا کہ بلاول نے خود جمال دین والی جلسے کے آخر میں کہا ہے کہ’’ جب بغاوت ہوگی تو پھر تاج اچھالے جائیں گے اور تخت گرائے جائیں گے، پھر اٹھے گا انا الحق کا نعرہ اور راج کرے گی خلق خدا‘‘۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس قسم کی نعرے بازی ماضی میں بھی پیپلز پارٹی کی قیادتوں کی طرف سے کی جاتی رہی ہے مگر انہوں نے ہمیشہ انقلابی لفاظی اور طبقاتی تضاد کو اجاگر کرکے پھر اسی غاصبانہ، طبقاتی اور استحصالی نظام کا حصہ بننے کا فیصلہ کرکے کروڑوں محنت کشوں اور غریبوں کو دھوکہ دیا۔ بغاوت کا نعرہ بلند کرنا آسان کام ہے مگر بغاوت اگر کرنی ہے تو اس کا آغاز بلاول کو سب سے پہلے پیپلز پارٹی کے اندر سے کرنا ہو گا اور پارٹی پر مسلط کالے دھن کے ان داتاؤں، ضیا الحق کی باقیات، سرمایہ داروں، جاگیرداروں، عوام دشمن عناصر اور بدعنوان ٹولے کو نکال باہر کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے جراحی کے متقاضی ہیں لیکن اس کے بغیر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ اس ملک کے محنت کش عوام نے بہت دھوکے کھائے ہیں، بہت ذلت برداشت کی ہے۔ بلاول کو پارٹی کا بنیادی منشور بغیر کسی ’ملاوٹ‘کے، ایک بار پھر عوام کے سامنے پیش کرنا ہوگا اور اپنے عمل کی مطابقت اس منشور سے قائم کرنا ہو گی۔ پیپلز پارٹی کے اڑتالیس سالوں کی تاریخ میں عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کی پے درپے نیلامی کے بعد اب محض لفاظی سے عوام کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے نہ پارٹی کو ماضی کی مقبولیت پر بحال کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ:

بہت دیر سے سوشلزم یاد آیا!