رپورٹ : کامریڈ داؤد:-
ڈیرہ غازی خان میں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن اور آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے زیرِاہتمام ایپکا کے مرکزی دفتر میں دو اپریل کو ایک تقریب آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر نذر حسین کورائی کی زیرِصدارت منعقد کی گئی۔جس کے مہمانِ خصوصی پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن کے مرکزی سیکریٹری نشرواشاعت کامریڈ علی اکبر اور عنوان عالمی و ملکی معاشی،اورسیاسی صورتحال میں محنت کشوں کا کردار تھا۔دیگر مہمانانِ گرامی میں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن جنوبی پنجاب کے جنرل سیکرٹری کامریڈ حمید،انجمنِ پٹواریان کوٹ ادو کے کامریڈ شفقت بلوچ اور کامریڈ عامر کے علاوہ ڈیرہ غازی خان سے مرکزی پریس سیکریٹری ایپکاسرفراز اللہ والا، پی آئی اے پیپلز یونٹی کے سینئر عہدیداران حمید گورمانی اور خالد جاوید ، پنجاب ٹیچرز یونین کے ضلعی جنرل سیکرٹری خالد مصطفی کھوسہ اور نائب صدر جاوید ریاض لُنڈ ، انجمنِ پٹواریان کے صدر رانا سجاد ، پائی ٹیوٹا کے صدر طلعت صاحب، ٹی ایم اے ورکرز یونین کے سر پرست اعلیٰ شیخ ندیم ، صدرماما حشمت اور دیگر عہدیداران ، ریلوے لیبر الائنس کے سب ڈویژن کے صدر اختر بلوچ ، پیرا میڈیکل سٹاف یونین کے راہنماء ریاض بھٹہ ، نوپ کے صدر افتخار علی اورپوسٹ مین یونین کے عہدیدار عبداللہ، پی ٹی سی ایل کی ایمپلائزیونین کے سینئر عہدیداران محمد اسحاق،ناصر لغاری ،حاجی ارشداور سیف الرحمن، الغازی ٹریکٹر فیکٹری کی نیو ورکرز یونین کے جنرل سیکریٹری سید قمرعطاشاہ ، پیپلز پارٹی کے سٹی جنرل سیکرٹری اقبال بھٹہ ، پیپلز لائرز فورم کے ملک جاوید میسن، آل پاکستان پروگریسویوتھ الائنس کے کامریڈ داؤد، بے روز گار نوجوان تحریک کے کامریڈ الطاف و دیگر کامریڈز اور اداروں کے یونین ورکرز نے بھرپور شرکت کی۔سٹیج سیکریٹری کامریڈ گلزار لودھی نے عالمی اور ملکی معاشی اور سیاسی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بحث کا آغاز کیا۔مقررین نے طبقاتی لڑائی ، محنت کش طبقہ کی جڑت اور انقلاب کی اہمیت پرزور دیااور کھیتوں، فیکٹریوں ،کالجوں اور گلی محلوں میں محنت کشوں کومنظم کرنے کا عزم کیا۔مہمانِ خصوصی کامریڈ علی اکبر نے بحث کو سمیٹتے ہوئے طبقاتی جنگ کے ماضی کے اسباق کی روشنی میں حال اور مستقبل کے لائحہ عمل کے طور پر نظریاتی تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔آخر میں صدرِتقریب نذر حسین کورائی نے محنت کش طبقہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لیے ایک جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنانے کی قرارداد پیش کی جس پر فوری طور پر ایک متفقہ عبوری کمیٹی تشکیل دی گئی۔