| رپورٹ: ینگ نرسز ایسوسی ایشن ملتان |
ینگ نرسز ایسوسی ایشن (YNA) ملتان کی 6 روز سے جاری جدوجہد فتح سے ہمکنار ہو گئی۔ دھرنے اور احتجاج کے چھٹے روز نشتر ہسپتال کی انتظامیہ نے ینگ نرسز کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور نشتر نرسنگ ہسپتال کی سپریٹنڈنٹ کوکب ناہید کا تبادلہ کر دیا گیا۔ کوکب ناہید نے 3 سال سے نرسز کو بلاوجہ ظلم اور جبر کا نشانہ بنا رکھا تھا۔ کسی نرس کو آئندہ تعلیم حاصل کرنے کیلئے NOC جاری نہ کیا جاتا تھا اور نہ ہی کس کو اپنے آبائی علاقے میں تبادلے کی اجازت تھی۔ معمولی باتوں پر نوکری سے نکال دینے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں اور اگر کوئی بیمار ہو جائے تو اسے چھٹی بھی نہیں دی جاتی اور غیر حاضری لگا کر تنخواہ کاٹ لی جاتی، ایمرجنسی کی صورت میں بھی چھٹی نہیں دی جاتی تھی۔ نرسز کی ڈیوٹی شفٹ تبدیل نہیں کی جاتی تھی اور اگر کوئی شفٹ تبدیل کرے تو اس کی غیر حاضری لگا کر تنخواہ کاٹ لی جاتی تھی۔ اسی طرح حاملہ نرسز کو بھی کسی قسم کا کوئی ریلیف نہیں دیا جاتا تھا، الٹا ان کی ڈیوٹی مزید سخت کر دی جاتی تھی۔
ینگ نرسز نے مطالبات تسلیم ہونے کے بعد کہا کہ آ ج ہمارے لیے اہم دن ہے کہ کوکب ناہید کا تبادلہ کر دیا گیا ہے اور نرسز کی جان اس کے ظلم اور جبر سے چھوٹ گئی ہے۔ اس جدوجہد سے ینگ نرسز نے ایک سبق سیکھا ہے کہ حقوق صرف جدوجہد سے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ تبادلے کا نوٹیفیکیشن حاصل کرنے کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا اور ڈھول کی تھاپ پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ علاوہ ازیں ینگ نرسز ایسوسی ایشن کی عہدے داران مہناز کوثر، رخسانہ ابراہیم، نزہت سلطانہ، سیما انصاری اور نادیہ شبیر نے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے ندیم پاشا، نادر گوپانگ، اسلم انصاری، سقراط اور توصیف کا اس جدوجہد میں شامل ہونے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ PTUDC کے ساتھ محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد جاری رہے گی۔