پاکستان ریلوے میں مزدوروں کے حالات

[رپورٹ: مشتاق احمد (ملتان)، مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ریلوے لیبر یونین]
ریلوے پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے اور گینگ مین وہ سٹاف ہے جس کے بغیر ریل کا پہیہ نہیں چل سکتا۔ ریلوے لائن کی حفاظت اور اس کی تعمیر نو کرنا گینگ مین کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ریل کا کو ئی حادثہ ہو، آندھی ہو یا سیلاب آئے، بارشیں یا طوفان ہوں، ریلوے لائن کی حفاظت کرنا گینگ مین کی ڈیوٹی میں شامل ہے۔ لیکن اس کے باوجود گینگ مین سٹاف سب سے زیادہ مظلوم اور استحصال کا شکار ہوتاہے اوراس کی تمام محنت افسر شاہی کی کرپشن کی نظر ہوجاتی ہے۔ گینگ مین بھرتی ہونے سے لے کر ریٹائرمنٹ تک ریلوے کے افسران کو منتھلی دینے پر مجبورہوتے ہیں۔ وہ مسلسل استحصال کاشکار رہتے ہیں اور افسران ان کی حق تلفی کرنا اور ان سے منتھلی وصول کرنا اپناحق سمجھتے ہیں۔ گینگ مین پیٹرولر گیٹ کیپر کی طرح ڈیوٹی سرانجام دیتا ہے، ریلوے انتظامیہ اس ڈیوٹی کو آرام دہ سمجھتی ہے اور اس لیے پیٹرولر اور گیٹ کیپر کے سٹاف سے ماہانہ منتھلی لی جاتی ہے، اسی طرح چھٹی لینا ہر ملازم کا بنیادی حق ہے لیکن گینگ مینوں کو چھٹیاں لینے کے لیے بھی معاوضہ ادا کرنا پڑتاہے۔ اس کے علاوہ گینگ کا انچارج ہر مہینے گینگ مینوں سے افسروں کے نام پر منتھلی وصول کرتا ہے اور کہتا ہے کہ افسران کا وزٹ ہے اور ان کی آؤ بھگت کرناہے، لہٰذا منتھلی دو۔ ریلوے کے وہ گینگ مین جو اس عمل کا حصہ نہیں بنتے اور منتھلی نہیں دیتے انہیں کئی مسائل کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ لیکن اس وقت ریلوے کے مزدورہی ہیں جو اپنی محنت اور جدوجہد سے ریلوے کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو بچا سکتے ہیں۔ اور جب بھی انقلابات آتے ہیں اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی تاریخ چھپی ہوتی ہے جس میں محنت کش طبقے کااستحصال ہوتا رہتاہے۔ ریلوے کے مزدوروں کے سامنے مرزا ابراہیم کی جدوجہد کی قابل فخر روایات ہیں جنہوں نے مزدوروں کے حق میں آواز بلند کی۔ آج ایک بار پھر ریلوے کے مزدوروں کو ریلوے انتظامیہ اور ریلوے افسران کی کرپشن سے نجات حاصل کرنے کے لیے اور نجکاری کے منڈلاتے ہوئے طوفان سے بچنے کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی جیسا کہ OGDCL کے محنت کشوں نے اپنے اتحاد، نظم وضبط سے کی اور حکومت کو نجکاری کا فیصلہ واپس لینا پڑا۔
ریلوے لیبر یونین بھی ریلوے ملازمین کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں اور استحصال کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ ریلوے ملازمین سے زیادہ مظلوم طبقہ شاید ہی کسی اور ادارے میں ہو۔ ریلوے ملازمین اپنی ہی ٹرینوں میں سفرکرنے سے محروم ہیں۔ ایسے میں نجکاری کا عمل مختلف پردوں میں آگے بڑھایا جارہا ہے۔ سب سے پہلے ریلوے میں ’’پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ‘‘ کے ڈھونگ سے ہزارہ ایکسپریس چلائی گئی اور پھر بزنس ایکسپریس، جس میں نام نہاد ٹریڈ یونین لیڈران نے ذاتی فائدے حاصل کئے۔ پھر شالیمار1 اور شالیمار2 کے نام سے ٹرینیں چلائی گئیں جن کے انجن سے لے کر کوچز، مرمتی کام اور ڈرائیورتک، سب کچھ ریلوے کے ذمے تھا لیکن ریلوے کے ملازمین کا اس ٹرین میں سفرکرنا جر م ہے، اگرکوئی ملازم سفر کرے تو اسے چارجزکر دیے جاتے ہیں۔ اس پر ستم یہ کہ اب ملتان سے لاہو راور لاہور سے ملتان کے لیے موسیٰ پاک کے نام سے ریلوے ٹرین چلائی جو کہ مکمل طورپر ریلوے کی ملکیت ہے لیکن ریلوے ملازمین اس ٹرین میں اپنے ذاتی پاس اور PTO پر ایڈوانس ریزرویشن نہیں کروا سکتے۔
ملتان ڈویژن میں DN لائن پہ کام کرنے والے گینگ مینوں کو کنفرم نہیں کیا گیا جبکہ پورے پاکستان میں ریلوے میں DN لائن پر کام کرنے والے گینگ مینوں کو کنفرم کر دیا گیاہے۔ جون، جولائی کی شدید گرمی ہو یا دسمبر، جنوری کی شدیدسردی، گینگ مین کھلے آسمان کے نیچے دن رات کام کرتے ہیں لیکن انہیں Hard Working Allownce سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ گینگ مینوں کو تین روپے جوتاسلائی کے لیے دیے جاتے ہیں، یہ حکمرانوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ آج اس مہنگائی کے دورمیں کون تین روپے میں جوتا سلائی کرتاہے۔ ریلوے میں RTL سٹاف اور کیرج سٹاف گاڑی کے نقطہ آغاز سے لے کر نقطہ اختتام تک کے سفرمیں اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں لیکن نہ توانہیں مائلیج الاؤنس دیا جاتاہے اور نہ ہی رہائش کے لیے رننگ روم دیاجاتاہے۔ اس کے علاوہ حکومت ہر سال بجٹ میں مزدوروں کی کم سے کم تنخواہ مقررکرتی ہے۔ اس سال بھی حکو مت نے حاتم طائی کی قبرپر لات ماری اور مزدورکی کم ازکم تنخواہ بارہ ہزار ماہانہ مقررکی جبکہ ملتان ڈویژن میں ریلوے ملازم TLA پر کام کرتاہے اسے ساڑھے آٹھ ہزار ماہانہ تنخواہ دی جارہی ہے۔ اسی طرح لاہور اور کوئٹہ ڈویژن کے TLA ملازمین سات ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لے رہے ہیں۔ دوسری طرف محکمے کا بیڑا غرق کرنے والے چےئر مین اور جنرل منیجر کی ہوش ربا تنخواہوں کا کوئی حساب نہیں ہے۔ یہ دہرامعیارہمیں ہر ادارے میں نظرآتاہے جسے ریلوے کے محنت کش ہر گزقبول نہیں کرتے۔
ان تمام حق تلفیوں اور استحصال کے خاتمے کے لیے ریلوے لیبر یونین اسی ماہ سے اپنی تحریک کا آغازکوئٹہ ڈویژن سے کرنے لگی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں تمام مزدوروں کی کم ازکم تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر کی جائے۔ ریلوے کے ملازمین کے معاشی استحصال کو بندکیاجائے اور مزدوردشمن پالیسیوں کاخاتمہ کیاجائے۔ ہم واپڈا، PIA ،OGDCL، سوئی گیس اوردیگراداروں کے ملازمین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مزدوروں کے اس معاشی استحصال، ٹھیکیداری نظام اور نجکاری کے خلاف متحد اور منظم ہو تے ہوئے مزدورکمیٹیاں تشکیل دیں اور سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے تمام اداروں کو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں لینے کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔