طبقاتی جدوجہد پبلیکیشنز کی جانب سے شائع کی جانے والی ڈاکٹر لال خان کی نئی کتاب ’’چین کدھر؟‘‘ کا تعارف قارئین کے لئے شائع کیا جا رہا ہے۔
| تحریر: آدم پال |
لوشون چینی ادب کا عظیم نام ہے۔ 1936ء میں وفات پانے والے کمیونسٹ تحریک کے اس کارکن کا عظیم افسانہ ’پاگل آدمی کی ڈائری ‘ پہلی دفعہ مئی 1918ء میں شائع ہوا جسے نہ صرف جدید چینی ادب کا پہلا افسانہ کہا جاتا ہے بلکہ یہ اس عہد کے خلاف اعلانِ جنگ تھا۔ اس افسانے کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے۔
’’میرے اندر اس بات کو سوچنے کا حوصلہ نہیں۔
مجھے ابھی احساس ہوا ہے، جہاں میں رہ رہا ہوں وہاں پچھلے چار ہزار برسوں سے انسانی گوشت کھایا جا رہا ہے۔ جب ہماری بہن کی موت واقع ہوئی تھی اُس وقت بھائی نے گھر کا نظام سنبھالا ہی تھا۔ ممکن ہے اُس نے چاولوں اور دوسرے کھانوں میں بہن کا گوشت ڈالا ہو۔ ہم نے غیرارادی طور پر وہ کھا لیا۔
ممکن ہے میں نے غیرارادی طور پر اپنی بہن کا گوشت کھایا اور اب میری باری ہے۔ ۔ ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میرے جیسا آدمی جس کے پیچھے چارہزار سال آدم خوری کی تاریخ ہو(شروع میں، میں اس بارے میں لاعلم تھا) ایک صحیح آدمی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکے۔
غالباً ابھی کچھ ایسے بچے ہیں جنہوں نے آدمی کو نہیں کھایا۔ ان بچوں کو بچانا چاہئے۔ ۔ ۔‘‘
بیسیوں صدی کے انقلابات اور ردِ انقلاب کے طوفانی واقعات سے گزرنے کے بعد آج پھر چین ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ سرمایہ دارانہ استحصال اور جبر پوری شدت کے ساتھ چین کے سماج کو نوچ رہا ہے۔ کروڑوں محنت کش غربت، بھوک، بیماری، ذلت اور محرومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ دوسری طرف بھوکے اور بیمار محنت کشوں کی پیدا کی گئی دولت نہ صرف چین کے حکمرانوں کی پر تعیش زندگی کا باعث ہے بلکہ پوری دنیا کے سرمایہ داراس پر گدھ کی طرح حملہ آور ہیں۔ ایسے میں چین کو عالمی کارپوریٹ ذرائع ابلاغ پر ایک ابھرتی ہوئی معیشت اور طاقت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ کروڑوں چینیوں کے خون اور پسینے پر استوار ہونے والی اس دیو ہیکل ریاست کو گرتے ہوئے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے ایک کلیدی سہارے کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ لیکن دوسری جانب ان محنت کشوں کی حالتِ زار اور ان کی جدوجہد پر جہاں چین کی خونی ریاست لوہے کے پردے ڈالتی ہے وہاں مغربی ذرائع ابلاغ بھی یا تو اس سے نظریں چراتے ہیں یا اسے اپنے سامراجی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ چین کے سماج کا طبقاتی بنیادوں پر تجزیہ کیا جائے اور دوسرے خطوں کے محنت کشوں تک ایک حقیقی تصویر پیش کی جائے۔
دائیں بازو کے حملوں کے ساتھ ساتھ چین کی تاریخ اور موجودہ کیفیت کو بائیں بازو کے زوال پذیر دانشوروں نے بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام سے مفاہمت، مزدوروں کی تحریک اور بائیں بازو کے انقلابی نوجوانوں کی جدوجہد کو اقتدار کے حصول کے لیے استعمال کرنے کے لیے سابقہ سٹالنسٹ اور نام نہاد بائیں بازو کے لیڈر چین کے موجود ہ ماڈل کو مثال بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے چین کے محنت کشوں کی عظیم انقلابی روایات کو بھی مسخ کر کے پیش کیا جاتا ہے۔
اس پسِ منظر میں زیرِنظر کتاب خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کتاب میں چینی سماج کی پوری تاریخ کو تاریخی مادیت کی بنیادوں پر پرکھ کرایک حقیقت پر مبنی نکتہ نظر کو منظر عام پر لایا گیا ہے۔ موجودہ کیفیت کا تجزیہ کر کے آئندہ کے بارے میں حالات کے رخ کی پیش گوئی کرنے کے لیے ضرور ی ہے کہ اس خطے کی تاریخ کو درست انداز میں سمجھا جائے۔
اس مقصد کے لیے پہلے باب میں چین کی قدیم تاریخ کامارکسی بنیادوں پر تجزیہ کیا گیا ہے۔ چین کی قدیم تاریخ بیسویں صدی میں متعدد بار مارکسی تجزیہ نگاروں میں بحث کا موضوع رہی ہے۔ تیسری انٹرنیشنل میں بھی چین میں انقلاب کے کردار کا تعین کرنے کے لیے جو بحثیں ہوئیں ان میں قدیم تاریخ کا تجزیہ بھی مختلف حوالوں سے کیا گیا۔ ٹراٹسکی نے واضح کیا تھا کہ چین میں انقلاب کا کردار سوشلسٹ ہو گا اور اس کے لیے کسی سرمایہ دار طبقے سے مفاہمت کرنا خود کشی کے مترادف ہو گا۔ اسی طرح ان بحثوں کے دوران مارکس کے ایشیائی طرزِ پیداوار پر کیے گئے کام پر بھی بحث کی گئی۔ لیکن سٹالنزم کے غیر مارکسی نظریات کے باعث مارکس کے نظریات کو رد کرتے ہوئے میکانکی انداز میں یورپ کے سماج کے تاریخی مراحل کو چینی سماج پر مسلط کر دیا گیا۔ ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹیوں کی سٹالنسٹ قیادتوں نے یہاں بھی ایسا ہی کیا۔ 1949ء کے غیر کلاسیکی سوشلسٹ انقلاب کے بعد بھی اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور چین کی قدیم تاریخ انقلابیوں کے لیے ایک معمہ بنی رہی۔ اس حوالے سے یہ باب اہمیت کا حامل ہے۔
انیسویں صدی میں چین پر ہونے والا سامراجی تسلط بھی توجہ کا مستحق ہے جس نے وہاں کے سماج کو جہاں تاراج کیا وہاں انقلابات کے بیج بھی بوئے۔ چین کے حکمران طبقات اس دور کو جہاں ذلت اور شرمندگی کا عہد قرار دیتے ہیں وہاں مارکسسٹ سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کرتے ہوئے اس عہد کے ذریعے چین کو ایک تکلیف دہ عمل سے عالمی سرمایہ داری سے جڑتے ہوئے اوروہاں ایک پرولتاریہ کا ظہور ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ انہی تبدیلیوں کے باعث 1911ء کا بورژوا انقلاب برپا ہوا جس نے چین میں ایک نئے عہد کا آغاز کیا اور اسے قدامت سے نکال کرجدید دنیاکے ساتھ جوڑا۔ دوسرے اور تیسرے ابواب میں انہی حوالوں سے سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔
چین کی کمیونسٹ پارٹی کا قیام چین کے ہزاروں سال پرانے سماج میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلی عالمی جنگ کے خاتمے پر جہاں عالمی مزدور تحریک منظم ہو رہی تھی اور چینی گماشتہ سرمایہ داری کا جنم ہو رہا تھا ، ساتھ ہی چین میں ایک تازہ دم پرولتاریہ بھی لڑائی کے لیے انگڑائی لے رہا تھا۔ ایسے میں ہمسایہ ملک روس میں ہونے والا 1917ء کا سوشلسٹ انقلاب اس محنت کش طبقے کے لیے بہت بڑے تحرک کا باعث بنا۔ اسی دوران چین کی کمیونسٹ پارٹی کا قیام اور پھر 1925-27ء کا انقلاب ایسے واقعات ہیں جوپوری دنیا کے انقلابیوں کے لیے نہ صرف اس وقت اہمیت کے حامل تھے بلکہ آج بھی اہم نتائج اخذ کرنے کے لیے ان کا مطالعہ ضروری ہے۔ تیسری انٹرنیشنل کی ان واقعات میں مداخلت اور اس پرٹراٹسکی کا جرات مندانہ مؤقف کی تفاصیل چوتھے اور پانچویں ابواب میں درج ہیں۔
لانگ مارچ آج پوری دنیا میں جدوجہد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ دائیں بازو کے مفاد پرست سیاستدانوں سے لے کر انقلابی راہنماؤں تک ہر کوئی اس علامت کو اپنے کارکنوں کو تحریک دینے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ اس کی حقیقت اور اس کے کردار سے واقف ہیں۔ انقلاب کی جدوجہد میں مگن کارکنوں کو اس تاریخ کے اہم ترین واقعہ کا علم ہونا ضروری ہے۔ بہت سی بائیں بازو کی قیادتیں اس لانگ مارچ کی معروضی وجوہات اور اس کے کردار کو سمجھے بغیر اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور مسلح جدوجہد کے لیے اسے دلیل کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے بھی اس واقعہ کو اس کے تاریخی پسِ منظر میں جاننا ضرور ی ہے۔ دوسری جانب سامراجی طاقتیں بھی گوریلا جنگ کے لائحہ عمل اور طریقہ کار کو سمجھنے کے لیے ماؤ کے لانگ مارچ پر خصوصی تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی سامراجی قوتیں جنگ کے طریقہ کار کو سمجھنے کے لیے ٹراٹسکی، کلازیوٹز اور سن تزو کے ساتھ ساتھ ماؤ کو بھی کلیدی نظریہ دان تسلیم کرتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس کو درست طور پر صرف مارکسی بنیادوں پر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ چھٹے باب میں اسے مارکسی مؤقف اور تجزیئے کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
اسی طرح 1949ء میں چین میں برپا ہونے والا سوشلسٹ انقلاب انسانی تاریخ کا 1917ء کے روس کے سوشلسٹ انقلاب کے بعد دوسرا اہم ترین واقعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس انقلاب کی نظریاتی بنیادوں اور اہم واقعات کے ساتھ ساتھ اس کی زوال پذیری پر بھی اہم بحث ساتویں اور آٹھویں باب میں کی گئی ہے۔
اس عظیم انقلاب کے خلاف ردِ انقلاب اور چین میں سرمایہ داری کے ظالمانہ نظام کی استواری بھی مارکسی نظریات سے وابستہ انقلابیوں کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل موضوعات ہیں۔ ماضی میں کیے جانے والے جرائم پر پردہ پوشی سے نہ تو کچھ سیکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی آئندہ کی جدوجہد اور انقلابات کو لاحق خطرات سے درست انداز میں لڑا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ چین کے موجودہ کردار کو سمجھنے اور وہاں کے حکمران طبقے کی حقیقت جاننے کے لیے بھی اس ردِ انقلاب کا مارکسی تجزیہ ضروری ہے۔ اس لیے نواں اور دسواں باب اہمیت کے حامل ہیں۔
گیارہواں باب چین کی خارجہ پالیسی اور دنیا بھر میں اس کی ابھرتی ہوئی سامراجی قوت پر روشنی ڈالتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ چین نہ صرف پوری دنیا سے خام مال درآمد کر رہا ہے بلکہ اس کی ترسیل کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات بھی کر رہا ہے۔ اسی طرح چینی مصنوعات کی دنیا بھر میں میں موجود منڈی کا تحفظ کرنے کے لیے اختیار کی جانے والی معاشی اور اقتصادی پالیسیاں دیگر سامراجی قوتوں سے ٹکراؤ کا باعث بن رہی ہیں۔ گیارہواں باب انہی تضادات کی وضاحت کرتا ہے۔ جبکہ آخری باب چین کی موجودہ صورتِ حال ، حکمران طبقات کے تضادات اور محنت کش طبقے کی کیفیت کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی تحریک کا تناظر پیش کرتا ہے۔
اس حوالے سے یہ نسبتاً مختصر کتاب چین کی ہزاروں سال پر محیط تاریخ کا مارکسی نکتہ نظر پیش کرتی ہے۔ بہت سے قارئین میں ان تمام موضوعات کو مزید تفصیل میں جاننے کی خواہش ضرور موجود ہو گی جس کے لیے انہیں زیرِ نظر کتاب میں تشنگی اور کمی محسوس ہوسکتی ہے۔ اسی لیے یہ کہنا بھی درست ہو گا کہ اس تصنیف میں موجود ہر باب پر ایک علیحدہ کتاب لکھی جا سکتی ہے۔
حقیقت کو جاننے کا عمل کبھی بھی مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہ ہمیشہ جاری و ساری رہتا ہے۔ سائنسی بنیادوں پر علم کے حصول کا عمل مسلسل گہرائی کی جانب گامزن رہتا ہے۔ محض واقعات کو بیان کر دینا کافی نہیں ہوتا اور نہ ہی انہیں کیلنڈر کے مطابق ترتیب دینے سے تاریخ کو جانا جا سکتا ہے۔ حقیقت جاننے کے لیے ضروری ہے کہ مختلف واقعات کے درمیان معروضی تعلق کو تلاش کیا جائے اور ایک سے دوسری کیفیت میں تبدیلی کے عمل کو جانا جائے۔ اس کے لیے تاریخ کے قوانین کو جاننا ضروری ہے جو خود اس تاریخ میں سے ہی اخذ کیے گئے ہوں نہ کہ محض خیال کی پیداوار ہوں اور انہیں تاریخ پر تھوپ دیا جائے۔ اسی طرح تاریخ کو ایک مسلسل عمل کے تسلسل میں جاننا ضروری ہے۔ بچپن سے بڑھاپے تک انسان بہت سی اشیا اور عوامل کو جانتا ہے۔ لیکن کسی بھی عمل یا شے کو جیسے ایک بچہ دیکھتا ہے ایک بزرگ اسے مختلف انداز میں دیکھتا ہے۔ ایک ہی بات کسی نا تجربہ کار نوجوان کی زبان سے ادا ہو تو اس کے معنی اور ہوتے ہیں لیکن وہی جملہ ایک وسیع تجربے کا حامل شخص بیان کرے تو اس کی گہرائی اور معنی مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسان کا عمومی شعور بھی مسلسل گہرا ہوتا جاتا ہے اور اس عمل کا کوئی اختتام نہیں بلکہ یہ ہمیشہ جاری و ساری رہے گا۔ اینگلز اپنی تصنیف ’’لڈوگ فیورباخ اور کلاسیکی جرمن فلسفے کا خاتمہ‘‘ میں لکھتا ہے،
’’ تاریخی لحاظ سے یکے بعد دیگرے آنے والے سارے سماجی نظام انسانی سماج کے ارتقا کے لامحدود دھارے میں ، نیچے سے لے کر اوپر تک محض عبوری منزلیں ہوتے ہیں۔ ہر منزل ضروری ہے اور اسی لئے اس وقت اور حالات کے لئے مناسب ہوتی ہے جن کی وہ پیداوار ہوتی ہے۔ لیکن نئے اور زیادہ بلند حالات کے سامنے جو خود اس کے بطن میں پرورش پاتے ہیں، یہ منزل اپنا جواز اور معقولیت کھو بیٹھتی ہے۔ اس کو زیادہ بلند منزل کے لئے اپنی جگہ چھوڑنی پڑتی ہے اور یہ بھی اپنی باری آنے پر فرسودہ ہو کر فنا ہو جاتی ہے۔ ۔ ۔ جدلیاتی فلسفہ مختتم (Marginal) اور مطلق سچائی کے تمام نظریات اور اس سے مطابقت رکھنے والی انسانیت کی ساری مطلق حالتوں کے تصورات کو ختم کر دیتا ہے۔ جدلیاتی فلسفے کے لئے کچھ بھی مختتم، قطعی اور مقدس نہیں۔ وہ ہر چیز میں اور ہر چیز پر لازمی زوال کی چھاپ دیکھتا ہے۔ ہستی اور نیستی کے متواتر اور نیچے سے اوپر کی طرف بلند ہونے کے لامحدود عمل کے سوا اور کوئی چیز اس کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی۔ اور خود جدلیاتی فلسفہ سوچنے والے دماغ میں اس عمل کے عکس کے سوا اور کچھ نہیں۔ ‘‘
مذکورہ بالا بنیادوں پر لکھی جانے والی یہ کتاب چین کی تاریخ کو جاننے اور اس کے مستقبل کا تناظرتخلیق کرنے کے لیے تمام قارئین کے علم میں یقینااضافہ کرے گی اور دنیا بھر کے محنت کشوں کو یکجا کرتے ہوئے پاکستان، ایشیا اور عالمی سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد میں لازماًاپنا کردار ادا کرے گی۔
لاہور، 25 فروری 2015ء