قدر، قیمت اور منافع
’’قدر ، قیمت اور منافع‘‘ یا ’’اجرت ، قیمت اور منافع‘‘ در اصل کارل مارکس کی ان تقاریر پر مبنی ہے جو انہوں نے 20اور 27جون 1865ء کو پہلی انٹرنیشنل کی جنرل کونسل کے دو اجلاسوں میں کیں۔
’’قدر ، قیمت اور منافع‘‘ یا ’’اجرت ، قیمت اور منافع‘‘ در اصل کارل مارکس کی ان تقاریر پر مبنی ہے جو انہوں نے 20اور 27جون 1865ء کو پہلی انٹرنیشنل کی جنرل کونسل کے دو اجلاسوں میں کیں۔
20 جون 1858ء وہ تاریخ ہے جب مئی 1857ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی راج کے خلاف شروع ہونے والی ہندوستانی سپاہیوں اور عوام کی تحریک حتمی شکست سے دو چار ہوئی۔
تحریر : ایلن ووڈز:- (ترجمہ : آدم پال) تغیر کا دور ’’مارکس سروینٹیز اور بالزاک کو باقی تمام ناول نگاروں سے زیادہ پسند کرتا تھا۔ ڈان کیخوٹے میں اسے پرانی رسمی شجاعت آخری سانسیں لیتی ہوئی نظر آئی جس کا ابھرتے ہوئے بورژوا سماج میں مذاق اْڑایا جاتا تھا۔‘‘
تحریر : ایلن ووڈز:- (ترجمہ : آدم پال) اس سال ڈان کیخوٹے،اسپین کے ادب کی عظیم ترین تخلیق، کی پہلی اشاعت کو 400برس ہو گئے ہیں۔محنت کش طبقہ، یعنی وہ طبقہ جو ثقافت کے تحفظ میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھتا ہے، اسے اس سالگرہ کوجوش وخروش سے منانا چاہیے۔
کیمونسٹ مینی فیسٹو کو کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز نے تحریر کیا اور 1848ء میں شائع ہوا ۔اپنی اشاعت کے بعد سے لے کر یہ دنیا پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی سیاسی دستاویز بن چکا ہے۔
تحریر: ولادیمیر لینن(1913ء) تمام متمدن دنیا میں مارکس کی تعلیمات سے بورژوا علم (سرکاری بھی اور اعتدال پسند بھی) بھڑکتا ہے اور سخت عداوت رکھتا ہے۔ اس کی نظر میں مارکس ازم کیا ہے، ایک ’’مہلک فرقہ‘‘۔
تحریر: حید رعباس گردیزی:- (ممبر فیڈرل کونسل پاکستان پیپلز پارٹی) کتنی لاتعداد صدیوں سے سورج طلوع ہورہاہے۔ غروب ہورہاہے۔ پھر طلوع ہورہاہے۔ پھر غروب ہو ر ہا ہے۔ مگر ان لامنتہاء صبحوں میں ایک سورج ایسابھی طلوع ہوتاہے جوایک لحاظ سے پھر غروب نہیں ہوتا۔
’’جس قسم کی اقدارکی پاسداری مارکسٹ نظریہ کرتاہے وہ ان سے تقریباً بالکل الٹ ہیں جو ہمارے موجودہ سائنسی طرزفکر سے سامنے آتی ہیں۔‘‘
تحریر:وقار احمد:- کسی بھی نظریئے کی تخلیق ،ترتیب اور ترقی کے لیے لازمی ہے کہ مروجہ سماج کے سیاسی ،معاشی اقتصادی ،سماجی اور موضو عی تضادات اور ان کے نتیجے میں جنم لینے والے واقعات کی فلسفے کی مدد سے توضیح اور تشریح کی جائے۔
تحریر: جان پیٹرسن:- (ترجمہ:فرہاد کیانی) ’’مارکس درست کہتا تھا!‘‘ مارکسسٹوں کے لیے یہ کوئی حیرت انگیز انکشاف نہیں ۔ ہم تو کب سے جانتے ہیں کہ اس جرمن انقلابی کا سرمایہ دارانہ نظام کے بارے میں تجزیہ اتنا ہی ٹھوس ہے جتنا یہ نظام غیر مستحکم ہے۔