راولاکوٹ: تنخواہ مانگنے پر محکمہ صحت کے چوبیس ملازمین گرفتار

| رپورٹ:PTUDC راولاکوٹ |

کشمیر میں حالیہ دنوں میں محکمہ صحت کے ملازمین نے ہیلتھ الاؤنس اور گزشتہ نو ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کے خلاف کام چھوڑ ہڑتال کی جس کے بعد انتظامیہ انتقامی کاروائیوں پر اتر آئی اور متعلقہ محکمہ کی قیادت کے تبادلے کئے گئے۔ مورخہ 4 جون کو محکمہ صحت کے چوبیس ملازمین کو اپنے حقوق کی خاطر لڑائی لڑنے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا۔ ان ملازمین میں ضلعی صدر خورشید اقبال، سرپرست اعلیٰ سردار خالد محمود، ضلعی رہنما و مرکزی جوائنٹ سیکرٹری PTUDC کشمیر زبیر خان، سردار عنایت، رفاقت حسین طاہر، سید لطیف شاہ، سردار شاہد رفیق، ممتاز بخاری، سہراب آزاد، ساجد اشفاق، محمد حفیظ، محمد نوید انجم، محمد بشیر خان، افضال احمد، شبیر احمد، ساجد محمود، اظہر شاہ، محمد شہزاد، عبدلحمید، محمد نعیم، محمد رشید خان شامل ہیں۔ گرفتار رہنماؤں نے ضمانتیں نہ کروانے کا اعلان کرتے ہوئے غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ کس جرم کی سزا دی گئی ہے۔ اسی اثنا میں دیگر قائدین کے انتقامی تبادلہ جات کئے جارہے ہیں۔ ہیلتھ ورکرز کو گزشتہ نو ماہ سے تنخواہیں نہیں دی جارہی ہیں۔ ان جائز مطالبات پر احتجاج کرنا ملازمین کا حق ہے۔ گرفتار شدہ ملازمین نے مزید کہا کہ محنت کشوں کی تنظیموں پر عائد پابندی کا ایکٹ فوراً منسوخ کیا جائے اور ہمارے تمام تر مطالبات کو تسلیم کیا جائے۔ اس سلسلے میں 6 جون کو کشمیر بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے جبکہ دیگر محکمہ جات نے بھی جمعرات سے کام چھوڑ ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے۔ سوموار کو PTUDC اور JKNSF کے وفد نے، جن میں مرکزی صدر JKNSF بشارت علی خان، ضلعی چیئرمین JKNSF التمش تصدق، مرکزی رہنما JKNSF شہزاد ایوب، مرکزی جنرل سیکرٹری PTUDC کشمیر حلیم ساجد، PTUDC کشمیر کے انچارج مزدور نامہ کاشف عباس شامل تھے نے ملازمین سے راولاکوٹ جیل میں ملاقات کی۔ وفد نے گرفتار ملازمین کو بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ انتظامیہ طاقت کے زور پر ملازمین کو اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی، ریاست کے اس جبر کے خلاف ملازمین کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور غیر مشروط رہائی تک احتجاجی تحریک چلائیں گے۔