[تحریر: لال خان]
جعلی انقلابوں، موسمی انقلابیوں، علامتی لانگ مارچوں اور بے مقصد دھرنوں کے اس حبس زدہ موسم میں انقلابی سوشلزم کے سائنسی نظریات، طریقہ کار اور لائحہ عمل کا ادراک رکھنے والے بہت کم ہیں۔ گھٹن، جمود اور رجعت کے ادوار میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

آج سے 74 سال قبل 20 اگست کو ہی میکسیکو میں ایک 60 سالہ جلاوطن بوڑھے کو قتل کر دیا گیا تھا۔ ظاہری طور پر ایک انسان کا خون کیا گیا تھا لیکن ایک نظریئے، سوچ اور انقلابی تناظر کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا مقصود تھا۔ روسی آمرجوزف سٹالن کے ایجنٹ رامان مرکاڈور نے ایک ایسے شخص کے سر پر بے دردی سے کلہاڑی کے جان لیوا وار کئے جس نے اقتدار، شہرت اور طاقت کی بلندیوں کو ٹھکرا کر جلاوطنی کی مصائب سے بھری زندگی اور بعد ازاں موت کو ترجیح دی لیکن اپنے نظریات کا سودا کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ شخص 1917ء کے بالشویک انقلاب کا معمار اور اس انقلاب کو کچلنے کے لئے روس پر حملہ آور ہونے والی 21 سامراجی ممالک کی افواج کو شکست فاش دینے والی انقلابی سرخ فوج کا بانی لیون ٹراٹسکی تھا، جس نے ولادیمیر لینن کی وفات کے بعد بالشویزم کی حقیقی روایات کا پرچم سربلند رکھا اور سوویت روس کی افسر شاہانہ زوال پزیری کے خلاف آخری وقت تک جدوجہد کرتا رہا۔

’’ایک ملک میں سوشلزم‘‘ کے فرسودہ سٹالن اسٹ نظرئیے کے خلاف مارکسزم کی حقیقی روح، یعنی پرولتاری بین الاقوامیت کا دفاع کرنے کی پاداش میں لیون ٹراٹسکی کو کمیونسٹ پارٹی سے نکال کر 1929ء میں جلا وطن کر دیا گیا۔ سٹالن نے ٹراٹسکی کی رہنمائی میں منظم ’’لیفٹ اپوزیشن‘‘ کو بے دردی سے کچل دیا اور انقلاب کے پاسبان ہزاروں بالشویک یا تو قتل کر دئیے گئے یا کبھی واپس نہ لوٹنے کے لئے سائبیریا کے یخ بستہ میدانوں میں قائم جبری مشقت کے کیمپوں میں بھیج دئیے گئے۔ ٹراٹسکی کے قریبی ساتھیوں اور بچوں کو قتل یا پھر خود کشی پر مجبور کر دیا گیا۔ تیسری انٹرنیشنل (کامنٹرن) کی ناقابل اصلاح زوال پزیری کے بعد ٹراٹسکی نے جلاوطنی میں چوتھی انٹرنیشنل کی بنیاد ڈالی اور ایک طرف سٹالن ازم کے جبر تو دوسری طرف سامراج کی وحشت کے خلاف جدوجہد جاری رکھی۔ سوویت بیوروکریسی کی نمائندے کی حیثیت سے سٹالن اس بات سے بخوبی آگاہ تھا کہ محنت کش طبقے کی پشت پر سوار افسر شاہی کی مراعات، مفادات اور عیاشیوں کو سب سے بڑا خطرہ لیون ٹراٹسکی کے نظریات اور سیاسی جدوجہد سے لاحق ہے۔ 24 مئی 1940ء کو میکسکو میں ٹراٹسکی کی رہائش گاہ پر گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی لیکن وہ محفوظ رہے۔ 20 اگست 1940ء کو سٹالن کی خفیہ پولیس (NKVD) کیلئے کام کرنے والے رامون مرکارڈر نے ٹراٹسکی کے دفتر میں گھس کر ان کے سر پر کلہاڑی سے کئی وار کئے۔ ٹراٹسکی مر کے بھی اپنے نظریات، جدوجہد اور آنے والی نسلوں کے لئے چھوڑ کر جانے والی انقلابی میراث کے ذریعے امر ہو گیا۔ ایک فلسطینی کہاوت ہے کہ ’’ تم میری آنکھیں چھین سکتے ہو۔ ذرا میرے خواب تو چھین کر دکھاؤ۔‘‘
ٹراٹسکی کے قاتل اور ان قاتلوں کے نظریاتی پیروکاروں کو تاریخ نے خود نیست ونابود کردیا۔ مارکسزم کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا، سامراجی پراپیگنڈا کی یلغار نے سوشلزم کا نام لینے کو بھی جرم بنا دیا اور کمیونزم کے نام لیوا اپنے نظریات کو سر بازارنیلام کرتے رہے۔ لیکن سٹالنزم، ماؤازم اور سوشل ڈیموکریسی سمیت مارکسزم میں ہرقسم کی ترمیم اور موقع پرستی نے عملی واقعات اورتجربے سے شکست کھائی ہے۔ ٹراٹسکی کو ’’غدار‘‘ قرار دینے والے ماسکو اوربیجنگ کے حواریوں کاقبلہ و کعبہ آج واشنگٹن ہے۔ یہ سابقہ بایاں بازو آج کل این جی اوز کے منافع بخش کاروبار میں ’’انقلاب‘‘ برپا کررہا ہے۔ اسی قماش کے لوگوں کے متعلق ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ ’’بہروں کو موسیقی سنانے، اندھوں کو رنگ دکھانے اور مایوس و بدظن افراد کو سوشلسٹ انقلاب سمجھانے پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔‘‘

سرمائے کی دانش سوویت یونین کے جس انہدام کو ’’سوشلزم‘‘ کی ناکامی بنا کر پیش کرتی رہی ہے اس کی واضح پیش گوئی لیون ٹراٹسکی نے 1936ء میں اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’انقلاب سے غداری‘‘ میں کر دی تھی۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ 1989ء اور 1991ء کے واقعات کا سکرپٹ 55 سال پہلے ہی لکھا جا چکا تھا:
’’سوویت بیوروکریسی کبھی بھی پر امن اور رضاکارانہ طور پر سوشلسٹ مساوات کے حق میں اپنی مراعات ترک نہیں کرے گی۔ یہ مراعات تب تک ادھوری ہیں جب تک ایک بیوروکریٹ انہیں اپنے بچوں تک منتقل نہ کر سکے۔ ۔ ۔ لہٰذا ایک ریاستی ادارے کا ڈائریکٹر ہونا ہی کافی نہیں بلکہ اس میں حصہ داری ضروری ہے۔ اس صورت میں افسر شاہی ایک نئے صاحب ملکیت طبقے میں تبدیل ہو جائے گی۔‘‘
روس اور مشرقی یورپ میں منصوبہ بند معیشت کا خاتمہ اور سرمایہ داری کی بحالی بالکل یہی عمل تھا جس کی نشاندہی ٹراٹسکی نے کی تھی۔ 1978ء کے بعد چین میں بھی یہی ہوا۔ لیکن ٹراٹسکی کا تناظر مشروط تھا۔ اس کی کوشش اور خواہش تھی کہ محنت کش طبقہ ایک سیاسی انقلاب کے ذریعے سے سیاست اور معیشت پر جونک کی طرح چمٹی افسر شاہی کو کچلتے ہوئے ایک صحت مند اور جمہوری مزدور ریاست قائم کرکے انقلاب کو بچالے:
’’بالشویزم کے نظریات کو زندہ کرتے ہوئے ایک انقلابی پارٹی اگر بیوروکریسی کا تختہ الٹتی ہے تو عوام ریاستی مشینری کی تطہیر کریں گے۔ عہدے، عیاشیاں اور مراعات ختم کر دی جائیں گی۔ نوجوانوں کو آزادانہ طور پر سیکھنے، تنقید کرنے اور اپنی ذات کی تکمیل کے مواقع میسر آئیں گے۔ مزدوروں اور کسانوں کے مفادات کے مطابق قومی دولت کی تقسیم کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔ ۔ ۔ افسر شاہی پر محنت کش طبقے کی فتح کا مطلب سوشلسٹ انقلاب کا نیا جنم ہوگا۔‘‘
بالشویک انقلاب کے دفاع کا یہی عظیم مقصد تھا جس کے لئے ٹراٹسکی مرتے دم تک سرگرم رہا اور اپنی جان قربان کر دی۔

سوویت یونین کے انہدام کے بعد تاریخ کے خاتمے کا اعلان کر کے جس سرمایہ داری کو انسانیت کی آخری منزل قرار دیا گیا تھا وہ دو دہائیاں بھی نہیں چل سکی۔ امن اور خوشحالی کے سنہرے خواب دکھانے والے دانشور آج خود سر پکڑے بیٹھے ہیں۔ 14 اگست 2014ء کو ’’انڈی پینڈنٹ‘‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 162 میں سے صرف 11 ممالک جنگ یا خانہ جنگی سے محفوظ ہیں۔ 2008ء کے بعد بحران، سیاسی عدم استحکام، بیروزگاری اور معاشی حملے معمول بن چکے ہیں۔ ترقی یافتہ مغرب سے لے کر تیسری دنیا تھا، معیار زندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ گرتا چلا جارہا ہے۔ معاشی نا ہمواری اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ یہ ذلت، محرومی اور بربادی انسانیت کا مقدر نہیں ہے۔ آج مشرق اور مغرب میں محنت کش طبقے کی ایک نئی جدوجہد کے پہلے قافلے تاریخ کے افق پر ابھر رہے ہیں۔ یہ ایک غیر معمولی عہد ہے۔ اس نظام کی نہ ختم ہونے والی اذیت نے عوام کے روح اور احساس میں بغاوت کی وہ چنگاری سلگا دی ہے جو بھڑک کر شعلہ بنے گی۔
ٹراٹسکی کے مطابق ’’نسل انسان کی تاریخ کا تمام بحران آج سمٹ کر انقلابی قیادت کا بحران بن گیا ہے۔‘‘ ٹراٹسکی کے ’’نظریہ انقلاب مسلسل‘‘ سے مسلح اور بالشویک بنیادوں پر منظم ایک سیاسی قوت محنت کشوں کی بڑی تحریکوں کو منظم، متحرک اور سیاسی قیادت فراہم کرکے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور بنیادی فریضہ پورا کرسکتی ہے۔ ٹراٹسکی کے خون کا انتقام ایک ملک میں شروع ہونے والے سوشلسٹ انقلاب کو دنیا بھر کے محنت کشوں کی جدوجہد سے جوڑتے ہوئے انسانیت کو ہر طرح کے جبر و استحصال، طبقات، لسانی و مذہبی تعصبات اور محرومی سے نجات دلا کر کے ہی لیا جاسکتا ہے۔
زندگی کے آخری ایام میں ٹراٹسکی کے یہ الفاظ، استحصال سے پاک انسانیت کے مستقبل پر اس کے یقین اور اس عظیم مقصد کی جدوجہد میں کسی پچھتاوے سے پاک عزم و حوصلے کے گواہ ہیں:
’’میں اپنی شعوری زندگی کے 43 سالوں میں انقلابی رہا ہوں اور ان میں سے 42 سال تک میں نے مارکسزم کے پرچم تلے جدوجہد کی۔ اگر مجھے دوبارہ زندگی ملے تو میں ثانوی غلطیوں سے بچنے کی کوشش کروں گا مگر میرا مقصد حیات کبھی تبدیل نہیں ہوگا۔ میں محنت کش طبقے کے انقلابی اور مارکسسٹ کے طور پر مرنا پسند کرونگا۔ انسانیت کے کمیونسٹ مستقبل کے بارے میں میرا یقین متزلزل نہیں ہوا۔ درحقیقت آج یہ یقین جوانی کے دنوں کی نسبت کہیں زیادہ پختہ ہو چکا ہے۔
تھوڑی دیر پہلے نتاشا نے باغیچے کی طرف کھلنے والی کھڑکی کو تھوڑا اور کھول دیا تاکہ کمرے میں سے ہوا کا گزر ہو سکے۔ میں دیوار کے نیچے گھاس کی چمکدار سرسبز تہہ کو دیکھ سکتا ہوں جس کے اوپر شفاف نیلا آسمان ہے، سنہری دھوپ ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔ زندگی کتنی خوبصورت ہے۔ آنے والی نسلیں یقیناًاسے مصائب، ظلم اور جبر سے پاک کر کے ہر ممکن حد تک لطف اندوز ہو سکیں گی۔‘‘
متعلقہ:
انقلابِ روس کے دفاع میں
لیون ٹراٹسکی کی شہادت: جب نظریہ موت کو قتل کرتا ہے!
لیون ٹراٹسکی:مر کر بھی زمانے کو جاں دے گیا!
لیون ٹراٹسکی: موت جسے مٹا نہ سکی!