رپورٹ: احمد جازی
مورخہ 13 اپریل کو مشال خان کے پہلے یوم شہادت کے موقع پرجموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے زیر اہتمام مظفرآباد طبقاتی جدوجہد کے آفس میں بعنوان ’مشال خان سے منظور پشتین تک‘ ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں موجود نوجوانوں اور محنت کشوں سے کامریڈ راشد شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشال خان وہ انقلابی نوجوان تھا جس نے یونیورسٹی میں ہونے والی کرپشن اور طلبہ کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف آواز بلند کی تھی جس کی پاداش میں یونیورسٹی انتظامیہ نے مذہبی جنون کوابھار کر مشال خان کو راستے سے ہٹایا۔ لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مشال خان کی قربانی آج کی نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ ہے اور آج کی نوجوان نسل مشال خان اور دیگر انقلابیوں کے قتل کا انتقام اس متروک سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب برپا کر کے ہی لے پائے گی۔ منظور پشتین، علی وزیر اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں خیبر پختونخواہ میں چلنے والی تحریک (پی ٹی ایم) کو نہ صرف پاکستان میں دوسری قومیتوں کے محنت کشوں اور نوجوانوں سے جوڑنے کی ضرورت ہے بلکہ اس کو دنیا کے دیگر خطوں کے تمام محکموں اور مظلوموں سے جوڑ کر ہی کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔ پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن(PSF) جامعہ کشمیر کے صدر معیب خان، معظم خان، اویس علی، باسط ارشاد، چوہدری شکور، مروت، دلاور اور دیگر نے بھی موضوع پر بات رکھی۔