لاہور میں’منّو بھائی‘ کی یاد میں تعزیتی ریفرنس

رپورٹ: ارشد علی

مؤرخہ 23 جنوری 2018ء بروز منگل طبقاتی جدوجہد پبلی کیشنز کی طرف سے معروف ترقی پسند ادیب منیر احمد قریشی المعروف ’منّو بھائی‘ کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا اہتمام پاک ٹی ہاؤس لاہور میں کیا گیا۔ جس میں منّو بھائی کی بیٹی اور داماد سمیت کئی دہائیوں تک ہر وقت اُن کے ساتھ رہنے والے ان کے ڈرائیور محمد شریف بھی شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ ان کے قریبی سیاسی و نظریاتی دوستوں و ساتھیوں نے بھی شرکت کی۔ اِس موقع پر ترقی پسند سیاسی کارکنان اور نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ منّو بھائی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ سٹیج سیکرٹری اویس قرنی تھے جبکہ مقررین میں امتیاز عالم، جواد احمد، فاروق طارق، ساجدہ میر، فرخ سہیل گوئندی، الیاس خان، پچھلے چند سالوں سے منو بھائی کے کالم ترتیب دینے والے انکے بھانجے احمد بلال اور ڈاکٹر لال خان شامل تھے۔
کامریڈ آصف بٹ نے منّو بھائی کی مشہور نظم ’کیہ ہویا اے‘ پڑھ کے سنائی جبکہ اسد بخاری نے منو بھائی پر اپنی نظم سنائی۔مقررین نے خطاب میں منّوبھائی کی جدوجہداور انکی سیاسی و سماجی بصیرت کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ مقررین نے کہا کہ منّو بھائی ایک غیر طبقاتی سماج کے قیام کے لیے ہر وقت کوشاں تھے۔ بائیں بازو اور سوشلسٹ نظریات سے ان کی جڑت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ وہ ایک جرأت مند انسان تھے جس کا اظہار ہم ان کی تحریروں میں واضح طور پر ملتا ہے۔ 1990ء کی دہائی میں اپنی پیشہ ورانہ صحافت کی زندگی کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے انقلابی سیاست میں سرگرم انداز میں شرکت کی۔ وہ ’طبقاتی جدوجہد‘ کے مارکسی ساتھیوں کے انتہائی قریب تھے جو پاکستان میں انقلابی قوت کی تعمیر کر رہے تھے۔ وہ مین سٹریم اخباروں کے علاوہ کئی سالوں تک ’طبقاتی جدوجہد‘ کے رسالے کے لیے مارکسی نقطہ نظر سے خصوصی مضامین لکھتے رہے۔ منو بھائی نے ان سرگرمیوں میں حصہ لینے والے کامریڈوں کی حتی الامکان مدد کی۔ پاکستان میں سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد اور انقلابی پارٹی کی تعمیر میں منوبھائی کا ناقابل فراموش کردار ہے۔