[رپورٹ: ولید خان]
21 جنوری 2015ء کو برن یونیورسٹی (سوئزرلینڈ) کی مارکسسٹ سوسائٹی اور مارکسی جریدے ماہنامہ Der Funke کی جانب سے سیمینار منعقد کیا گیا جس میں 40 سے زائد طلبہ اور نوجوانوں نے شرکت کی۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے انٹرنیشنل سیکریٹری کامریڈ لال خان اور امریکہ کے مارکسی جریدے ’سوشلسٹ اپیل ‘کے ایڈیٹر جان پیٹرسن سیمینار کے مہمانان خصوصی تھے۔
اس موقع پر جان پیٹرسن نے امریکی معاشرے میں شدت اختیار کرتے طبقاتی تضادات، امریکی سامراج کی معاشی گراوٹ ، عالمی سرمایہ داری کے بحران کے امریکہ پر اثرات اور ان تمام مظاہر کے نتیجے میں بطور عالمی تھانیدار اپنی اجارہ داری قائم رکھنے میں امریکی سامراج کی نا اہلی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔انہوں نے کہادنیا بھر میں پائے جانے والے عام تاثر کے برعکس امریکہ کوئی یکجا اکائی نہیں ہے بلکہ اس میں ایک انتہائی طاقتور محنت کش طبقہ بھی موجود ہے جو سامراجیت اور سرمایہ داری کے خلاف شاندار انقلابی روایات کا امین ہے۔ 2008ء کے بعد سے شدت اختیار کرتا ہوا معاشی استحصال اور معیار زندگی کی گراوٹ ایک بار پھر امریکہ کے محنت کش عوام کو جھنجوڑ رہی ہے جس کا اظہار ہڑتالوں اور آکوپائی وال سٹریٹ جیسی تحریکوں کے ذریعے ہورہا ہے۔ محنت کشوں پر بڑھتے ہوئے معاشی حملے طبقاتی جنگ کو تیزی سے ابھارتے ہوئے مستقبل میں بڑے سیاسی و سماجی دھماکوں کا عندیہ دے رہے ہیں۔
کامریڈ لال خان نے جدید اسلامی بنیاد پرستی کے جنم، پھیلاؤ اور پھر اپنے ہی سامراجی آقاؤں کے قابو سے نکل جانے کے عوامل پر بات کی۔انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کی دہائیوں میں مشرق وسطیٰ، جنوب ایشیا اور مشرق بعید کے خطوں میں ابھرنے والی انقلابی تحریکوں اور بائیں بازو کی پاپولسٹ حکومتوں سے عالمی سرمایہ داری اور سامراج کو شدید خطرات لاحق تھے جنہیں سبوتاژ کرنے یا کچلنے کے لئے خود امریکی سامراج نے جدید اسلامی بنیاد پرستی اور مذہبی سیاست کو جنم دیا اور پروان چڑھایا۔ انقلابی قیادتوں کی ناقص حکمت عملی اور غلط تناظر کے پیش نظر سامراج کی یہ پالیسی خاصی کامیاب رہی۔ سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد امریکی سامراج کی پالیسی شفٹ اور کالے دھن پر پلنے والے جہادی گروہوں کے بڑی حد تک خودمختیار ہوجانے سے وہ تباہ کن صورتحال پیدا ہوئی جس سے آج پوری دنیا دوچار ہے۔انہوں نے کہا کہ سامراج ایک طرف مذہبی جنونیوں کے ذریعے اپنی پراکسی جنگیں لڑتا ہے تو دوسری طرف ان کی وحشت سے عوام کو ڈرا کر اپنی جارحیت کے جواز پیدا کرتا ہے۔ حتمی تجزئیے میں سامراجیت اورمذہبی بنیاد پرستی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں جو بستر مرگ پر پڑے سرمایہ دارانہ نظام کی نا گزیر ضرورت بن چکے ہیں۔ انقلابی سوشلزم ہی اس ظلم و بربریت سے نجات کا واحد راستہ ہے۔
حاضرین نے تمام گفتگو میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور Der Funke کا مارکسی لٹریچر بڑی تعداد میں فروخت ہوا۔ یہ نشست برن اور سوئزرلینڈ میں مارکسی نظریات کی ترویج اور تنظیم سازی میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔