لاہور: بالشویک انقلاب کی سالگرہ پر سیمینار اور سانحہ گڈانی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

| رپورٹ : ارشد علی |

مورخہ 20 نومبربروز اتوارسہ پہر 3 بجے پاکستان ٹریڈیونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے زیراہتمام بالشویک انقلاب کی 99ویں سالگرہ کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد پاک ٹی ہاؤس میں کیا گیا جس میں طلبہ، محنت کشوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے بھرپور شرکت کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض رضوان اختر نے سر انجام دئیے۔ سیمینار کے آ غازمیں کامریڈ شفیق احمد شفیق نے انقلابی نظم پڑھی جسکے بعد بحث کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔ اویس قرنی نے بالشویک انقلاب کے واقعات کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہوئے 1905ء کے انقلاب کی ناکامی کی وجوہات اور پہلی عالمی جنگ کی تباہی کے بعد اٹھنے والی تحریکوں میں بالشویک پارٹی کی موثر مداخلت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بالشویک انقلاب کے عالمی سطح پر ہونے والے اثرات اور سوویت یونین کے انہدام کی وجوہات بیان کیں۔ اسکے بعدساجدہ میر ،الیاس خاں اور امان اللہ نے خطاب کرتے ہوئے بالشویک انقلاب کی حاصلات، پاکستان میں 1968-69ء کی تحریک اور اس کے مضمرات، انقلابی پارٹی کی اہمیت اور موجود ملکی و عالمی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بالشویک انقلاب سے اسباق اخذ کرنے اور اسے مشعل راہ بناتے ہوئے سرمایہ داری کے خاتمے کی جدوجہد تیز کرنے پر زور دیا۔ ڈاکٹر طاہر شبیر نے انقلابی نظم پڑھی جسکے بعد آخر میں عمران کامیانہ نے تفصیل کے ساتھ سماج کی انقلابی تبدیلی، منصوبہ بند معیشت کی حاصلات اور کامیابیوں کو بیان کیا اورسوویت یونین میں افسرشاہی کے ابھا ر کی وجوہات، اس کے مجرمانہ کردار اور اسکے سرمایہ داری کی طرف ناگزیر جھکاؤ کی مادی وجوہات بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ آج سرمایہ داری نریندرا مودی، ڈونلنڈ ٹرمپ اور نواز شریف جیسے حکمرانوں کو سماج پر مسلط کرنے کے سوا کچھ نہیں دے سکتی اور سوشلسٹ انقلاب ہی واحد راہ نجات ہے۔
تقریب کے اختتام پر گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں محنت کشوں کی اموات کے ذمہ داران کے خلاف احتجاجی مظاہرہ مال روڈ پر کیا گیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کے ذمہ داران مرکزی و صوبائی حکومت اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں، متعلقہ سرمایہ داروں اور ٹھیکیداروں کے خلاف قتل کے مقدمات درج کئے جائیں اور نہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔