گوجرانوالہ: کوکا کولا میں مزدوروں کی جبری برطرفیوں کے خلاف احتجاج

[رپورٹ: اویس علی]
کوکا کولا کی انتظامیہ کی طرف سے محنت کشوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کے ایک اور سلسلے کا آغاز ہوا ہے جس میں بڑے پیمانے پر محنت کشوں کو برطرف کیا جا رہا ہے۔ محنت کشوں کے مطالبات کی لڑائی لڑنے کی پاداش میں انتظامیہ نے کوکا کولہ ورکرز یونین کے مرکزی صدر نصراللہ چوہان کو نشانہ بناتے ہوئے ملازمت سے برطرف کیا اور پھر ان کی حمایت میں آنے والے 39 ورکرز بھی اسی انتقامی کاروائی کا شکار ہوئے۔ کوکا کولا انتظامیہ کمپنی کی شرح منافع کو برقرار رکھنے کے لئے بڑے پیمانے پر ڈاؤن سائزنگ کو عملی جامہ پہنانے کی طرف جا رہی ہے۔ سیلز کا شعبہ جو پہلے کمپنی کے پاس تھا، جس سے سینکڑوں ملازمین کا روزگار وابستہ ہے، اس کو ٹھیکوں پر دیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے گاڑیوں کو ٹھیکے پر دیا گیا جس کی وجہ سے سیلز کے شعبے سے ڈرائیورز کو نکالا گیا اور اب سیلز سٹاف سے دیگر لوگوں کو بھی برطرف کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یونین کے عہدیداران کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ کوئی بھی انتظامیہ کی ان کاروائیوں کے خلاف بات نہ کر سکے۔ انتظامیہ کی اس غنڈہ گردی کے خلاف گوجرانوالہ پلانٹ ورکرز یونین نے احتجاجی عمل کا آغاز کیا ہے جس میں ہر ہفتے میں احتجاجی مظاہرہ کیا جا رہا ہے، اگر یونین کے مطالبات منظور نہیں ہوتے تو یونین احتجاج کے اس عمل کو دیگر اداروں کے محنت کشوں کے ساتھ جوڑنے کی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے۔ گزشتہ احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے گوجرنوالہ پلانٹ ورکرز یونین کے صدر یوسف سپرا نے اس کہا کہ جب تک ہمارے مزدور ساتھی بحال نہیں ہو جاتے اور ہمارے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔ اس احتجاجی مظاہرے میں یونین کی دیگر قیادت اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے رہنما بھی شریک ہوئے۔

مطالبات:
* جن ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے انہیں فارغ کرنے کی بجائے کسی دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں ایڈجسٹ کیا جائے۔
* سی او ڈی کے نکات پر عمل در آمد کرایا جائے۔
* ورکرز کے حقوق کو دبایا نہ جائے۔ قانون کے مطابق ورکرز کو تمام مراعات دی جائیں۔
* جب تک چالیس بندے بحال نہیں کیے جاتے جنگ جاری رہے گی۔
* الیکٹرک ڈیپارٹمنٹ کے ٹیکنیشن حافظ احسان جسکی موت کرنٹ لگنے کی وجہ سے واقع ہوئی تھی اسکی انشورنس آٹھ لاکھ ہے اگر اسی صورت حال میں مینیجمنٹ کا کوئی بندہ مرتا تو اسے ایک کروڑ دیا جاتا۔ اس طبقاتی تفریق کو ختم کیا جائے۔
* نصراللہ چوہان جو کہ کوکا کولا فیڈریشن کے صدر ہیں، کو عدالتی فیصلے کو نہ مانتے ہوئے زبردستی برطرف کر دیا گیا اور 39 ورکرز کو اسکی حمایت کی پاداش میں برطرف کر دیا گیا، ان کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔
پی ٹی یو ڈی سی اور ورکر یونین مل کر ورکرز کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

متعلقہ:
گوجرانوالہ: کوکا کولا میں انتظامیہ کی جبری برطرفیوں کی منصوبہ بندی
صدر کوکاکولا ایمپلائز یونین گوجرانوالہ، یوسف سپرا کا انٹرویو