صدر مملکت سے ڈھابے کے ویٹر تک

[تحریر: لال خان]
پاکستان کی سیاست نظریات اور سماج کو یکسر بدل دینے کی مقصدیت سے جتنی خالی ہے، جلسوں اور دھرنوں کا شور اتنی ہی زیادہ ہے۔ نظریات سے عاری سیاست محض شعبدہ بازی اور دھوکہ دہی ہوا کرتی ہے۔ ایسے میں ذاتیات کے گرد ہونے والی الزام تراشی، بہتان بازی، ہلڑ بازی اور تیسرے درجے کی طنز ہی ’’سیاست‘‘ کا درجہ اختیار کر جاتی ہے۔ ہر دور میں سماج کے عمومی شعور پر فکر و دانش کے کسی مخصوص رجحان کی چھاپ واضح ہوتی ہے۔ حکمران طبقے کے مختلف دھڑے اپنے حواری دانش وروں، تجزیہ نگاروں اور صحافیوں کے ذریعے ایک دوسرے کے خلاف سیاسی حملے کرتے رہتے ہیں لیکن اس ’’لڑائی‘‘ میں بھی ایک نظم اور ضبط ہوتا ہے۔ ہر اس نظرئیے، رجحان اور دلیل کو دبا دیا جاتا ہے جو بحیثیت مجموعی حکمران طبقے کی سیاسی و معاشی حاکمیت اور استحصال کو چیلنج کرے۔ میڈیا سے لے کر نظام تعلیم، فن، ادب، ثقافت، صحافت، سیاست…غرضیکہ کے زندگی کے ہر شعبے میں انہی افراد، نفسیات اور نظریات کو پروان چڑھایا اور منظر عام پر لایا جاتا ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کی حدود و قیود کے تابع ہوں۔
آج انقلابی سوشلزم، کمیونزم اور مارکسزم کے نظریات کو اس قدر تضحیک، تمسخر اور حقارت سے پیش کیا جاتا ہے کہ زندگی میں ’’آگے‘‘ بڑھنے اور ’’کیرئیر‘‘ بنانے کے خواہشمند دانشور، لکھاری اور سیاست دان اس ’’شجر ممنوعہ‘‘ کو ہاتھ نہ لگانے میں ہی عافیت جانتے ہیں۔ ایسے ادوار میں ’’حقیقت پسندی‘‘ کے نام پر ’’ظاہریت‘‘ کو پیش کیا جاتا ہے، انسان دشمن نظام سے سمجھوتہ کر لینے کی خود غرضی کے لئے’’پراگمیٹزم‘‘ جیسی ’’ماڈرن‘‘ اصطلاحات گھڑی جاتی ہیں، ضمیر فروش اور مفاد پرست بڑے دھڑلے سے اپنے ’’پریکٹیکل‘‘ ہونے پر فخر کرتے ہیں۔ ان حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لینے کا مطلب اس نظام کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا ہے جو نسل انسان کی بھاری اکثریت کو غربت اور ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیلتا چلا جارہا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود انسان روٹی، پانی، روزگار، رہائش اور علاج کے لئے ترس رہا ہے۔ امارت اور غربت کی وسیع خلیج کے ہولناک اعشارئیے ہر روز شائع ہورہے ہیں اور جریدے ’’فوربس‘‘ کی تازہ رپورٹ کے مطابق 67 افراد کے پاس دنیا کے غریب ترین 3.5 ارب انسانوں سے زیادہ دولت ہے۔ انسانی تاریخ میں اس سے قبل امارت اور غربت کی خلیج اتنی وسیع کبھی نہ تھی۔
پاکستان کی بات کی جائے تو 65 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے سمیت، کل ریاستی قرضہ 149 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ سابقہ قرضوں کا سود اتارنے کے لئے نہ صرف نئے قرضے لئے جارہے ہیں بلکہ عوام پر بالواسطہ ٹیکس، مہنگائی اور نجکاری کے ذریعے ایک کے بعد دوسرا معاشی حملہ ہورہا ہے۔ اس نظام معیشت میں کوئی اور چارہ نہیں ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ظلم اور استحصال کا سلسلہ کبھی لا امتناہی طور پر جاری نہیں رہ سکتا۔
دیوار برلن کے انہدام اور سوویت یونین میں سٹالن ازم کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد ’’سوشلزم کی ناکامی‘‘کا سامراجی جشن زیادہ عرصہ نہیں چل پایا۔ صرف چھ سال بعد ونزویلا میں ہوگو شاویز نے بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہونے کے بعد عالمی سامراج کو چیلنج کر ڈالا۔ 2006ء میں شاویز نے اعلان کیا کہ ’’سوویت یونین کے ٹوٹنے کے صرف 16 سال بعد 21ویں صدی کے سوشلسٹ انقلاب کا آغاز ہو رہا ہے۔ ‘‘ریڈیکل بائیں بازو کے ابھار کی یہ لہر آج پورے لاطینی امریکہ میں پھیل چکی ہے۔
پاکستان کے حکمرانوں کو سیاق و سباق سے بے بہرہ ہو کر دوسرے ممالک کی ’’ترقی‘‘ کی مثالیں دینے کا بہت شوق ہے۔ لیکن یہ جس ملک کی بھی مثال دیتے ہیں اس کا بیڑہ جلد ہی غرق ہو جاتا ہے۔ نواز شریف جن ’’ایشین ٹائیگرز‘‘ کا بڑا مداح تھا انہیں 1990ء کی دہائی میں ہی نجکاری نے بھیگی بلیاں بنا دیا۔ المیہ یہ ہے کہ اسی نجکاری کے ذریعے میاں صاحب اب بھی پاکستان کو ’’ایشین ٹائیگر‘‘ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ عمران خان آج کل یورپ کی فلاحی ریاستوں کی بہت باتیں کرتا ہے۔ موصوف شاید 1960ء یا 70ء کی دہائیوں میں زندہ ہیں۔ آج حالات یہ ہیں کہ فن لینڈ اور سویڈن سے لے کر برطانیہ اور فرانس تک، فلاحی ریاست کو تار تار کیا جارہا ہے۔ سکاٹ لینڈ کے ریفرنڈم میں برطانیہ ٹوٹتے ٹوٹتے بچا ہے۔ خان صاحب کو برطانیہ کے عام لوگوں کی حالت زار کا اندازہ شاید اس لئے نہیں ہے کہ ان کا ’’اٹھنا بیٹھنا‘‘ زیادہ تر برطانوی اشرافیہ میں ہوتا ہے۔ چین کی باتیں بھی بہت ہوتی ہیں لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ سرمایہ داری کی تیس سالہ ’’ترقی‘‘ کے بعد 82 کروڑ چینی بدترین غربت (1 ڈالر روزانہ) میں زندگی گزار رہے ہیں۔

تیسری بار صدر منتخب ہونے کے بعد عوام سے خطاب کر رہے ہیں

یہاں ہوگوشاویز کی مثال آج تک کسی نے دی نہ ایوو مورالس کی بات کوئی کر سکتا ہے۔ ایوو مورالس بولیویا میں ریڈیکل بائیں بازو کی پارٹی ’’تحریک سوشلزم‘‘ کا بانی ہے اور اسی ہفتے 61 فیصد ووٹ لے کر مسلسل تیسری بار صدر منتخب ہوا ہے۔ صرف آٹھ سال پر محیط ایوو مورالس کے دور حکومت میں بولیویا کی شرح غربت 80 سے کم ہو کر 20 فیصد پر آگئی ہے، کم از کم حقیقی اجرت میں 87 فیصد جبکہ فی کس آمدن میں 126 فیصد اضافہ ہوا ہے، ناخواندگی ختم ہوگئی ہے، بجٹ خسارے کو سرپلس میں تبدیل کر دیا گیا ہے، عوامی بہبود پر ریاستی اخراجات میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے تعلیم اور علاج کی سہولیات تقریباً مفت ہو گئی ہیں۔ 2012ء میں مورالس حکومت نے بجلی سے وابستہ سامراجی کمپنی کو نیشنلائز کر دیا تھا جس کے بعدلوڈ شیڈنگ ختم اور بجلی کے نرخ 60 فیصد کم ہوگئے تھے۔ لاطینی امریکہ میں، جہاں برازیل سے میکسیکو تک، تمام بڑی معیشتیں زوال یا منفی شرح نمو کا شکار ہیں وہاں پچھلے پانچ سالوں میں بولیویا کی معاشی شرح نمو 6.2 فیصد رہی ہے۔
سامراج اور سرمایہ داری کے علمبردار بھی مورالس کی سوشلسٹ پالیسیوں کی کامیابی تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے ادارئیے میں لکھا ہے کہ ’’مورالس کی معاشی اصلاحات نے بولیویا کو بھکاری سے ایک ایسے ملک میں تبدیل کر دیا ہے جس کی تعریف کرنے پر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے مخالفین بھی مجبور ہیں۔‘‘ برطانوی اخبار گارڈین نے ایک خصوصی مضمون ’’مورالس نے ثابت کر دیا کہ سوشلزم معیشت کے لئے مضر نہیں ہے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے جس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ بولیویا میں ایوو مورالس کے آٹھ سالوں جتنی ترقی پچھلے 35 سال میں نہیں ہوئی، یہ دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں غربت اور امارت کی خلیج میں کمی آرہی ہے اور ’’اس کارکردگی نے واشنگٹن، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے منہ بند کر دئیے ہیں۔‘‘ یہ وہی ایوو مورالس ہے جس نے غزہ پر حالیہ اسرائیلی جارحیت کے دوران اسرائیل کو سرکاری طور پر دہشت گرد ملک قرار دے دیا تھا۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژینہوا کو انٹرویو دیتے ہوئے مورالس نے کہا ہے کہ ’’ملک کے قدرتی وسائل کو قومی تحویل میں لینا اور غریبوں کے حق میں دولت کی تقسیم نو معاشی ترقی کا نسخہ ہیں۔ پہلے سامراجی اجارہ داریاں یہاں سرمایہ کاری کر کے دولت لوٹتی تھیں اب یہ دولت ملک میں ہی رہتی ہے اور بزرگوں، حاملہ خواتین، نومولود بچوں اور طالب علموں پر صرف ہوتی ہے۔ ‘‘ یہ درست ہے کہ بولیویا ابھی کوئی سوشلسٹ ملک نہیں ہے لیکن تحریک اور جدوجہد جاری ہے۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ اگر اس سمت میں سفر کے آغاز کی حاصلات یہ ہیں تو ایک مکمل منصوبہ بند معیشت میں سماجی خوشحالی اور معاشی آسودگی کس سطح تک جاسکتی ہے۔
حالیہ انتخابات سے پہلے لاطینی امریکہ کے مشہور اخبار ’ایل ڈیبر‘ (El Deber) کو انٹرویو دیتے ہوئے مورالس نے کہا تھا کہ ’’یہ میرا آخری دور صدارت ہوگا۔ اس کے بعد میں کسی ریستوران میں ویٹر کی نوکری کرنا پسند کروں گا۔‘‘ اس بیان پر سامراجی دانشوروں اور تجزیہ نگاروں نے خوب قہقہے لگائے تھے لیکن مورالس کی بھاری فتح کے بعد ان کی بتیسی اندر ہوگئی ہے۔

ایوو مورالس کا کہنا ہے کہ تیسری بار صدارتی مدت پوری کرنے کے بعد وہ ویٹر کی نوکری کرنا پسند کریں گے

عمران خان اور قادری صاحب کو شاید ایکوا ڈور، ونزویلا اور بولیویا کے مثالیں دینے سے ڈر لگتا ہے۔ لگنا بھی چاہئے وگرنہ ان کے ’’انقلاب‘‘ کی ’’فنانسنگ‘‘ ہی بند ہو جائے گی۔ ایوو مورالس کا نام لینے سے ہی ان ’’انقلابی‘‘ لیڈروں کی سیاسی ’’سپانسر شپ‘‘ اور معاشی مراعات معطل ہو جائیں گی۔ محنت کش طبقے کو کمتر اور ذلیل جاننے والے حکمران طبقے کے یہ سیاسی نمائندے بھلا اس شخص کا ذکر کیسے کر سکتے ہیں جس نے ان کے سامراجی آقاؤں کو ذلیل کر دیا ہے اور جو صدارت کے بعد ایک محنت کش کی زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ لیکن پاکستان میں حالیہ سیاسی سرکس بھی زیادہ دیر چلنے والے نہیں ہیں۔ محنت کش عوام کا جم غفیر جب ایک تحریک میں ابھرے گا تو حکمرانوں کو ان کے نظام سمیت مٹا کر ہی دم لے گا۔ لاطینی امریکہ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ کہیں بلند پیمانے پر یہاں بھی ہوگا۔ انقلابی سوشلزم کے نظریات کو ملکوں اور خطوں کی سرحدیں روک سکی ہیں نہ کبھی روک سکیں گی۔

متعلقہ:

ونزویلا:انقلابِ مسلسل

بے حس عہد میں غزہ لہو لہو

اصلاح پسندی کی نامرادی

جب وقت کا بدلا مزاج؟