[تحریر: یاسر ارشاد]
بلند و بانگ عمارات، کشادہ شاہراہوں، پلازوں، تجارتی و کاروباری مراکز(شاپنگ مالز)، نائٹ کلبوں، تفریحی ساحلوں اور چار سو آنکھوں کو چندیا دینے والی روشنیوں کا شہر دبئی جس کا شمار عالمی سرمائے کی محفوظ ترین پناہ گاہوں میں ہوتا ہے، ٹیکس فری ہونے کی وجہ سے تیسری دنیا کے بیشتر ٹیکس چور اور بدعنوان نو دولتیوں سمیت کالے دھن (انڈرورلڈ) کے بیوپاریوں کی بھی خاص اماجگاہ ہے۔ اس شہر کی انہی رنگینیوں کے باعث یہ متحدہ عرب امارات ’’جو سات چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے مالکان شیوخ خاندانوں کے ایک وفاقی اتحاد پر مشتمل ہے‘‘ کی خاص پہچان بنا ہوا ہے۔ بورژوا ذرائع ابلاغ پر بھی عموماً اس شہر اور متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کے اسی طرح کے روشن پہلوؤں کو ہی دکھایا جاتا ہے لیکن ان بلند و بانگ عمارات، شاہراہوں اور حکمرانوں کے محلوں کے معماروں کو اس انداز سے نظر انداز کیا جاتا ہے جیسے یہ سب کچھ ان دولت کے لٹیروں نے خود اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا ہے۔ درحقیقت ان شہروں کی تمام رنگینیوں سے کچھ فاصلے پر نیم اندھیروں میں ڈوبا، غلاظت سے اٹا، لاکھوں مزدوروں کی سانسوں سے بوجھل ایک نیم فاقہ کش شہر اور بھی ہے جس کے باسیوں کے لہو کے جلنے سے نہ صرف یہ شہر پر نور رہتے ہیں بلکہ ان محنت کشوں کے دور دراز ممالک میں اپنے خاندانوں کے چولہے بھی جلتے ہیں۔ 80 لاکھ سے زائد کی آبادی کے اس ملک کی صرف بیس فیصد آبادی مقامی ہے جس کو شہری تسلیم کیا جاتا ہے اور ان کو تمام شہری حقوق دیئے جاتے ہیں۔ آمدن کے لحاظ سے متحدہ عرب امارات کو دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جس کی فی کس سالانہ آمدن اڑتالیس ہزار ڈالر ہے۔ مقامی آبادی کو مفت پانی، بجلی اور صحت کی سہولیات سمیت سوشل سیکیورٹی بھی دی جاتی ہے۔ بظاہر خوشحال نظر آنیوالی مقامی آبادی کے اندر بھی دولت کی ایک بیہودہ تفریق موجود ہے۔ متحدہ عرب امار ات کے بے پناہ تیل اور گیس کے ذخائر سے حاصل ہونیوالی دولت کا 90 فیصد حصہ مقامی آبادی کے صرف 0.2 فیصد کی ملکیت ہے۔ شیخ خلیفہ کی ذاتی دولت 15 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ مطلق العنان بادشاہت اور سرمایہ داری کے ملغوبے سے تشکیل پانے والی یہ ریاست ایک بد معاش ڈاکو راج سے مشابہہ ہے جہاں نہ صرف قدرتی وسائل اور غیر ملکی محنت کشوں کی محنت سے حاصل ہونیوالی تمام تر دولت کو حکمران خاندان کے چند افراد لوٹ لیتے ہیں بلکہ ہر قسم کی تحریر و تقریر، یونین سازی اور سیاسی سرگرمیوں کے انعقاد جیسے بنیادی حقوق پر بھی مکمل پابندی عائد ہے۔ مقامی آبادی کے بڑے حصے اور حکمر ان خاندانوں کے درمیان دولت کی تفریق دنیا کے غیر مساوی ترین سماجوں کے برابر ہے۔

نیشنل بیورو برائے شما ریات کے مطابق مقامی آبادی میں بے ر وزگاری کی شرح 14 فیصد ہے اور بعض شمالی علاقوں میں یہ شرح 16 سے 20 فیصد تک ہے۔ اسی طرح علاقائی تفریق میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ زیادہ تر ترقی دبئی اور ابو ظہبی اور کسی حد تک شارجہ کے علاقوں تک محدود ہے جبکہ شمالی ریاستیں (امار ات) انتہائی پسماندہ ہیں اگرچہ ان شمالی علاقوں میں آبادی بھی دبئی اور ابوظہبی کی نسبت بہت کم ہے لیکن ان علاقوں میں انفراسٹریکچر سمیت عمومی صورتحال انتہائی پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ ہے۔
تمام دیگر خلیجی ریاستوں کی طرح متحدہ عرب امارات کی بھی بڑی خصوصیت تارکین وطن محنت کشوں کا بے رحمانہ استحصال ہے۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال، فلپائن اور دیگر ایشیائی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سے آئے ہوئے لاکھوں محنت کشوں کو انتہائی کم اجرتوں پر ملازم رکھا جاتا ہے۔ تارکین وطن محنت کشوں کا غالب حصہ غیر ہنر مند مزدوروں پر مشتمل ہے۔ جن کی ماہانہ اجرت500 سے 750 درہم ہے۔ ان لاکھوں محنت کشوں کو شہروں سے باہر لیبر کیمپوں میں رکھا جاتا ہے جہاں ایک چھوٹے سے کمرے میں 8 سے 12 افر اد رہتے ہیں اور ان لیبر کیمپوں میں اوسطاً 50 لوگوں کیلئے ایک بیت الخلاء اور 100 لوگوں کیلئے ایک چولہے کی سہولت موجود ہے۔ ایک گھنٹے کی مسافت طے کر کے شہر میں کام کی سائیٹ یا دفتر میں صبح آٹھ بجے پہنچنے کیلئے مزدوروں کو صبح چار بجے اٹھ کر پہلے باتھ روم کی قطار اور بعد میں ناشتہ بنانے کی قطار میں لگنا پڑتا ہے۔ اس طرح بارہ گھنٹے کے اوقات کار سولہ سے اٹھارہ گھنٹے ہو جاتے ہیں۔ ان غیر انسانی حالات میں بے پناہ مشقت کے بعد انتہائی کم اجرت کے حصول کیلئے لاکھوں محنت کش صرف اس لئے یہ غلامی برداشت کرتے ہیں کیونکہ ان کے اپنے ممالک میں انہیں روزگار میسر نہیں ہو پاتا۔ 2005ء میں بھارتی سفارتخانے کے ذرائع نے پانچ سو بھارتی مزدوروں کی خودکشی کے واقعات ریکارڈ کئے جن کی خود کشی کی وجہ کام کاطویل دورانیہ، رہائش کی دگرگوں صورتحال اور کم اجرت تھی۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد دبئی کے حاکموں نے بھارتی سفارتخانے کے اہلکاروں کو ایسے اعداد و شمار جمع کرنے سے منع کر دیا اور ایسے تمام واقعات کو حادثہ قر ار دینے کا حکم جاری کر دیا۔ تارکین وطن محنت کشوں کو ان تمام حالات کو صرف خاموشی سے برداشت کرنے کی اجازت ہے چونکہ کسی بھی قسم کے احتجاج کی صورت میں انہیں ملازمت سے برخاست کر کے واپس اپنے ملک بھیج دیا جاتا ہے جہاں زندگی اس سے کئی گناہ زیادہ تلخیوں سے بھرپور ہے۔ متحدہ عرب امارات کے اس انتہائی سفاکانہ طرز عمل کو نیو لبرل معیشت کے حامی کئی ایک دانشور قابل تقلید ماڈل سمجھتے ہیں جس میں سرمائے کو استحصال کی ہر قسم کی آزادی ہے لیکن محنت کشوں کو کوئی بھی بنیادی یونین سازی یا احتجاج کا جمہوری حق بھی میسر نہیں۔ اس کے باجود محنت کشوں کے احتجاجوں اور یہاں تک کے ہڑتالوں کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں جن کو نہ صرف سختی سے کچل دیا جاتا ہے بلکہ ان واقعات کی کوئی بھی خبر ذر ائع ابلاغ میں نہیں آنے دی جاتی۔ مار چ 2006ء میں برج الخلیفہ (جو دنیا کی اس وقت کی سب سے بلند ترین عمارت ہے) کو تعمیر کرنے والے مزدور وں نے اس وقت ایک پرتشدد احتجاج کیا جب ایک دن کام کی شفٹ کے اختتام پر ان مزدوروں کو ان کے رہائشی کیمپوں تک پہنچانے والی بسیں بروقت میسر نہیں آسکیں۔ بپھرے ہوئے مزدوروں نے سیکیورٹی عملے کی پٹائی کی اور درجنوں گاڑیاں توڑ ڈالیں۔ جھلساتی ہوئی گرمی میں تعمیرات کے شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کے اس طرح کے چھوٹے موٹے احتجاج آئے ر وز ہوتے رہتے ہیں۔ امارات کے حکمرانوں نے مزدوروں کی فلاح کیلئے یہ قانون بنایا ہے کہ گرمیوں میں جب درجہ حرارت پچاس ڈگری سے زیادہ ہوتو تعمیرات یا کھلی جگہوں پر دوسرے کام نہ کروائے جائیں لیکن اس کے ساتھ تمام ذرائع ابلاغ کو یہ ہدایت ہے کہ درجہ حرارت کی شدت پچاس سے زیادہ کبھی نہ بتائی جائے یوں پچپن ڈگری پر بھی محنت کشوں سے کام لیا جا رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح شدید گرمی کے موسم میں دن بارہ سے تین بجے تک کام نہ کرنے کے وقفے کی قانون سازی موجود ہے لیکن کام کی جگہوں پر مزدوروں کے گرمی سے بچنے اور آر ام کرنے کی کوئی جگہ ہی موجود نہیں ہوتی اور نہ ہی اس وقفے کیلئے انہیں کمپنی کی طرف سے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ر ہائشی کیمپوں سے جا کر گرمی سے پناہ لے سکیں یا سستا سکیں اس لئے ایسے تمام قوانین محض دکھاوے اور اپنے یورپی جمہوریت پسند آقاؤں کی روحانی تسکین کیلئے بنائے جاتے ہیں جن کی روحیں کبھی کبھی اپنے ان گماشتوں کے سفاکانہ استحصال کے ننگے پن کو دیکھ کر بے چین ہو جاتی ہیں۔2006ء میں جب دبئی میں تعمیرات اور جائیدادوں کی خرید و فروخت کا کاروبار تاریخ کی بلند ترین سطح کو پہنچنے کے قریب تھا محنت کشوں کے احتجاجوں کے 25 سے زیادہ واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ 2008ء کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد 2009ء میں دبئی میں بھی یہ تمام کار وبار ٹھپ ہو گیا۔ دبئی ورلڈ جو دبئی کی سرکاری تعمیراتی کمپنی تھی کے دیوالیہ ہونے کے بعد جائیداد کی قیمتوں میں پچاس فیصد کمی ہو گئی تھی۔ اب امارات کے حکمران ایک بار پھر مختلف منصوبوں پر سینکڑ وں ارب ڈالر کی سر مایہ کاری کا آغاز کر رہے ہیں۔ 23 مئی 2013ء کو فنانشل ٹائمز نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں اس خدشے کا اظہار کیا گیاہے کہ امار ات میں تعمیرات کیلئے منصوبوں کے آغاز کے ساتھ ہی مزدوروں کے احتجاجوں کا بھی آغاز ہو رہا ہے۔ 21 مئی 2013ء کو عرب ٹیک کمپنی کے مزدوروں نے تنخواہوں میں اضافے کیلئے ہڑتال کی جس کے باعث دبئی ایئر پورٹ کے ٹرمینل نمبر دو سمیت ابوظہبی میں بھی کئی ایک تعمیراتی منصوبوں پر دو دن تک کام بند رہا۔ اگرچہ انتظامیہ نے دو دن بعد اس ہڑتال کا خاتمہ کر دیا اور ہڑتال کی پہل کرنے والے سینکڑ وں مزدوروں کو ملک سے نکال دیا لیکن یہ واقعات اس بات کا ثبوت فراہم کررہے ہیں کہ تارکین وطن محنت کشوں کیلئے بھی اب سر مائے کا وحشیانہ استحصال کس حد تک ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ دوسری جانب زوال پذیر سرمایہ دارانہ نظام کو اپنی شرح منافع کو برقر ار رکھنے کیلئے زیادہ شدید استحصال کی ضرورت درپیش ہے۔

ابھی تک خلیجی ریاستوں کی رجعتی حکمران اشرافیہ تیل اور گیس جیسے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی بے پناہ دولت اور تارکین وطن محنت کشوں سے تخلیق ہونے والی دولت کی وحشیانہ لوٹ مار کے عمل کو جبر اور کچھ اصلاحات کے ذر یعے جاری رکھنے میں کامیاب ہے لیکن عرب انقلاب اور یورپ و امریکہ کے محنت کشوں کی تحریکوں کے ابتدائی ریلے نے ان حکمرانوں کے ایوانوں کو لرزہ دیا ہے۔ امار ات کے حکمر ان سعودی حکمر نوں کے ساتھ مل کر شام اور مصر میں انقلابی تحریکوں کو رجعتیت اور خونریزی میں ڈبو دینے کی بھرپور تگ و دو کر رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ سرمائے کے ان رجعتی گماشتوں کو لاحق وہ خوف ہے جو انہیں کسی بھی ملک میں ابھرنے والی محنت کشوں کی انقلابی تحریک کی کامیابی سے لاحق ہو چکا ہے۔ چونکہ قرب و جوار کے کسی بھی ملک میں سرمایہ داری نظام کا حقیقی خاتمہ اس پورے خطے میں ایک ایسی عمومی بیداری کی لہر کو جنم دے گا جو پورے مشرق وسطیٰ سے سرمایہ داری اور رجعتی بادشاہتوں کو نیست و نابود کر دے گا۔ اس سے بھی بڑھ کر ان حکمرانوں کو ان کے سامر اجی آقاؤں کی طرح اپنے زوال پذیر نظام پر اعتماد کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے۔ مرتے ہوئے اس نظام کو سہار ا دینے کیلئے امار ات کے حکمران سینکڑوں ارب ڈالر کے نئے ترقیاتی منصوبے شر وع کر رہے ہیں جس میں یاس جزیرہ میں فارمولا ون کار وں کی ریس کا ٹریک، فراری تقسیم پارک وغیرہ جیسے کئی ایک منصوبے شامل ہیں اس کے ساتھ ورلڈ ایکسپو 2020ء کی میزبانی کیلئے دبئی کے حکمران ساز باز میں مصروف ہیں۔ ایکسپو2020ء کی میزبانی اگر دبئی کو مل جاتی ہے تو عارضی طور پر تعمیرات کو ایک نیا عروج ملنے کے امکانات ہیں۔ اگرچہ اس وقت بھی امارات کی معیشت کی سالانہ شرح ترقی اوسطاً 4 فیصد ہے لیکن سر مایہ داری کے عالمی معاشی اکائی ہونے کے ناطے ان ممالک کی معیشتوں کی ترقی کا انحصار عالمی معیشت کی ترقی کے امکانات کے ساتھ وابستہ ہے۔ عالمی سطح پر معاشی زوال کے گہرے ہونے کی صورت میں ان ممالک کی معیشتیں بھی لڑکھڑانہ شروع کر دیں گی اور وسیع پیمانے کی ریاستی سرمایہ کاری بھی ان کو نہیں بچا پائے گی۔ اسی طر ح دنیا بھر میں ابھرنے والی محنت کشوں کی تحریکیں ان ممالک پر اپنے اثر ات مرتب کر رہی ہیں اور آنے والے عر صہ میں ان ممالک کے اندر بھی بڑے واقعات رونما ہو سکتے ہیں اور ایک مخصوص کیفیت میں تارکین وطن محنت کشوں کی بڑی احتجاجی تحریک کو بھی رداز امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کویت جیسے ملک میں ہونے والے احتجاج ان ممالک میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کر رہے ہیں۔ جلد یا بدیر عالمی واقعات کے دباؤ کے نتیجے میں خلیجی ممالک میں ایسے واقعات رونما ہونگے جو مستقبل میں ابھرنے والی انقلابی تحریکوں کی راہ ہموار کریں گے۔