چلو اچھا ہوا ہے!

چلو اچھا ہوا ہے
میرے قاتل آج بر سرِ پیکار بیٹھے ہیں
سبھی ظلمت کے داعی
بظاہر اک دوسرے سے بیزار بیٹھے ہیں
سرِ بازار بیٹھے ہیں
ہے جھگڑا یہ
بنے گا کون اب سرمائے کا دلال ؟
کُلاہِ جبر اب کس کو ملے گی ؟
کرے گا کون اب بنی آدم پہ حملہ ؟
یہ شمشیرِ ہلاکت کس کو ملے گی ؟
کئی صدیوں کے جبر سے دم توڑتا مجبور انساں
اب کس کی آگ کا ایندھن بنے گا ؟
سنو۔۔ !!
تمہیں گْماں ہے شاید
اے بیابانوں کے خِنزیرو
تمہارے پتلی تماشے
افلاس سے دم توڑتے بچوں کا کھلونا بنیں گے
کسی مزدور کا نعرہ بنیں گے
مگر یہ جان لو
تمہارے طبقے کے ہاتھوں
بنامِ مصلحتِ قوم و مذہب لْوٹی گئیں یہ مزدور آنکھیں
کسی سراب کا نہ اب پیچھا کریں گی
نہ اب تم پر بھروسہ کریں گی
کہ پیشِ نظر ہے وہ سرخ منزل
جہاں سے ’’انسان‘‘ شروع ہو گا
تمہارے دْو بدو ہو گا
چلو اچھا ہوا ہے
تمہاری حرص کی جنگ میں
جمودِ عہد ٹوٹے گا
کوئی تو کْفر ٹوٹے گا

عاطف علی