تحریر: لا ل خان
26 مئی کو اسحاق ڈار نے اسمبلی میں جو بجٹ پیش کیا ہے وہ اس ملک کے عوام کے لیے کوئی حقیقی بہتری نہ لاسکتا ہے اور نہ ہی یہ بحرانی نظام، جس کی جڑوں میں پیسے کی ہوس رچی ہوئی ہے، معاشرے میں کسی مثبت تبدیلی کا حامل ہوسکتا تھا۔ یہ ایک معمول کا بجٹ تھا جس میں اسی معیشت اور اقتصادیات کی بحث ہوئی جو عوام پر مسلط ہے اور اس کے اذیت ناک استحصال سے انسانی محنت مجروع اور گھائل ہورہی ہے۔ لیکن ایک ایسی حقیقت جس کو حکمران ماہرین تسلیم بھی کرچکے ہیں وہ یہ کہ اس ملک کی 73 فیصد معیشت متبادل (Parallel) یا غیر سرکاری ہے۔ اس معیشت کا اصل نام کالی معیشت (Black Economy) ہے۔ چونکہ یہ ریاستی اختیار اور حساب کتاب سے باہر ہے اور اسکی کوئی جانچ پڑتال نہیں کی جاسکتی تو اسکے معنی یہ ہیں کہ ڈار صاحب نے اس ملک کی کل معیشت کے صرف 27 فیصد کا بجٹ ہی پیش کیا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ بجٹ میں حکمران طبقات کی نچلی پرتوں پر بھی مراعات نچھاور کی گئی ہیں۔ الیکٹرانک مصنوعات، تعمیرات، مرغی خانے اور پولٹری وغیرہ ایسے شعبے ہیں جن میں عمومی طور پر حکمران طبقات کی نچلی اور درمیانے طبقات کی بالائی پرتیں کاروبار کرتی ہیں۔ فوج اور دوسرے ریاستی اداروں پر مختص کردہ بجٹ سے کہیں زیادہ اخراجات ہونگے۔ ترقیاتی بجٹ کے 1100 ارب ان منصوبوں پر صرف کیے جائیں گے جن کی حقیقت ریگستانوں میں نخلستانوں کے سراب سے زیادہ نہیں ہے۔ لیکن اعدادوشمار کے گنجھلکوں میں جتنا بھی چھپایا جائے سب سے بڑی رقوم سامراجی اداروں کے بیرونی قرضوں کے سود اور ادائیگیوں پر ہی صرف ہوں گی۔ دفاع اور قرضے ہی ہمیشہ کی طرح کُل بجٹ کا 70 فیصد کھا جائیں گے۔ جہاں ترقیاتی پراجیکٹوں میں ٹھیکیداروں کی چاندی ہوگی وہاں عالمی سامراجی اداروں کویہاں کے محنت کشوں کا خون چوس کر سود ادا کیے جائیں گے جن کے لیے مزید قرضوں کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہوگا۔ انکی ادائیگی اور سود کے لیے پھر قرضے حاصل کرنا ہونگے جس سے ان مالیاتی اداروں اور مغربی و علاقائی سامراجی ممالک کے حکمرانوں کی معاشی جکڑ اور بڑھے گی۔ ایک طویل عرصے سے ہر حکومت اس سامراجی قرضے کے کشکول کو توڑنے کی نعرہ بازی کرتی رہی ہے لیکن کشکول ہے کہ پھیلتا ہی جاتا ہے۔ اور اس کا بوجھ غریب عوام اور ان کے آنے والی نسلوں پر جنم لینے سے بھی پہلے لاد دیا جاتا ہے۔ ہر حکومت میں قرضے بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ موجودہ حکومت، جو پاکستان میں ایک ترقی پسند سرمایہ دارانہ طبقے کا ناٹک کر رہی ہے، اس کے چار سال کے دوران قرضوں کا حجم 11400 ارب سے بڑھ کر 22000 ارب روپے ہوگیا ہے۔ ان کے معیشت دانوں اور ان کے’’ترقی پسند‘‘ ماہرین اور مشیروں کی ذہانت کا یہ عالم ہے کہ وہ اِس بنیادی حقیقت سے بھی شناسا نہیں کہ جن ممالک میں بورژوازی نے قومی جمہوری انقلاب کے ذریعے جدید صنعتی معاشروں اور ریاستوں کو جنم دیا تھا وہاں یہ فریضہ بیرونی قرضوں کے ذریعے صنعت کاری کرکے نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے دو صدیوں پیشتر کے ابتدائی ادوار اور چند ایک ممالک میں 1948-73ء کے عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے جنم لینے والے بوم کی بلند شرح منافع سے ادا کیا گیا تھا۔
اس سرمایہ دارانہ زوال کے عہد میں ہر ہونے والی ترقی اور شرح نمو میں اضافہ صرف بالادست طبقات کی دولت میں ہی اضافہ کرتا ہے۔ اب یہ بہت سے سرمایہ دارانہ معیشت دان بھی تسلیم کرچکے ہیں کہ موجودہ دور کی سرمایہ داری میں شرح نمو میں اضافہ اس ملک کے محنت کش اور غریب عوام کے معیار زندگی میں بہتری کی بجائے ان کی گراوٹ کا باعث ہی بنتا ہے۔ اگر اسحاق ڈار یہ فرما رہے ہیں کہ پاکستان کی شرح نمو 5.3 فیصد رہی ہے تو زیادہ عرصے نہیں ہوا کہ مشرف دور میں شوکت عزیز نے اپنی معاشی فنکاری سے پاکستان کی شرح نمو تقریباً 7 فیصد کردی تھی۔ مشرف/شوکت عزیز دور میں مزدوروں کی اجرت 6000 روپے ماہانہ تھی اور اس وقت ایک تولہ سونا تقریباً 6600 روپے کا تھا۔ لیکن اس دور میں بھی نہ محنت کشوں کی محرومی میں کوئی کمی آئی اور نہ ہی غربت سے یہاں کی بھاری اکثریت نکل سکی۔ اب سونے کی فی تولہ قیمت 46000 ہزار روپے ہے اور ایسے میں ان حکمرانوں نے کم از کم اجرت 14 سے 15 ہزار کرکے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری ہے۔ لیکن یہ کم از کم اجرت بھی پاکستان کے مزدوروں کو کہاں نصیب ہے۔ نجی شعبے میں یہ اجرت چند ہی کارخانوں یا اداروں میں حاصل ہے، ورنہ حقیقی اجرت عمومی طور پر چھ ہزار سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ویسے بھی آج زیادہ تر روزگار سرکاری یا دستاویزی معیشت کی بجائے کالے دھن کے شعبوں میں ملتا ہے، جہاں مزدوروں کا غلامانہ استحصال اور جبر جاری ہے۔ بیروزگاری کا عالم یہ ہے کہ ہر سال 15 لاکھ کے قریب نئی لیبر روزگار کی منڈی میں داخل ہوتی ہے۔ حقیقی روزگار صرف ایک لاکھ کو ملتا ہے۔ باقی ملوں، فیکٹریوں اور چوراہوں پر بیٹھے دیہاڑ ی لگنے کا انتظار کررہے ہیں۔ بس کوئی تین چار کروڑ کا درمیانہ طبقہ ہے جس نے ثقافت، معاشرے اور کاروبار پر اپنے وسیع پھیلاؤ سے 20 کروڑ انسانوں کی حالت زار پر اندھیر برقرار رکھا ہو اہے۔ زندہ لاشوں کے اِس جم غفیر کے لئے نہ تو صحافت میں کوئی جگہ ہے، نہ سیاست میں ان کے دکھوں اور اذیتوں کا کوئی ذکر کرنے والا ہے۔
اِسی سیاست اور صحافت کے نان ایشوز کی بھرمار میں ایک خبر آئی اور غائب ہوگئی۔ وزارت داخلہ کے ایک 59 سالہ نائب قاصد نے پچھلے منگل کو وزارت کی چھت سے چھلانگ لگا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ یہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا رہنے والا ایک سرکاری ملازم تھا اور اپنی ریٹائرڈ منٹ سے پہلے اپنے بیٹے کو اپنی جگہ رکھوانا چاہتا تھا۔ 22 مئی کو بیٹے کے ہمراہ دفتر پہنچا تو اس کو افسر نے بتایا کہ والد کی دوران ڈیوٹی موت کی صورت میں ہی بیٹے کو نوکری مل سکتی ہے۔ اس نے 30 فٹ کی بلندی سے چھلانگ لگا کر اپنے بیٹے کے لیے نوکری کا بندوبست اپنی جان دے کے کر دیا۔ ایسے ہزاروں واقعات ہو رہے ہیں۔
بجٹ اب ایک رسمی تہوار بن گیا ہے جس میں میڈیا اور درمیانہ طبقہ ہی زیادہ دلچسپی لیتا ہے۔ محنت کش اور غریب اس سے بے نیاز اور اپنی روٹی روزی کی تگ ودو سے فرصت حاصل کرنے سے معذور ہیں۔ ہر سال بجٹ آتا ہے لیکن پھر ہر ماہ اور ہر ہفتے بھی بجٹ آتے ہیں۔ جن میں اس نظام زر کے تقاضوں کے تحت محنت پر سرمایہ اپنے نمائندوں کے ذریعے مسلسل حملہ آور رہتا ہے۔ کبھی دھوکے اور کبھی رعونت سے محنت کشوں کے خلاف اقدامات کا سلسلہ تیز ہوتا چلا جا رہا ہے۔ تعلیم، علاج، پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ، نکاس اور دوسری بنیادی ضروریات اس ملک میں ہر قدر کی طرح طبقاتی طور پر تقسیم اور وسیع اکثریت کے لئے ناپید ہیں۔ ان بنیادی ضروریات کی نجکاری کا عمل ہر حکومت میں تیز سے تیز ہوتا گیا ہے۔ پچھلے ایک سال میں پاکستان میں شرح خواندگی میں 2 فیصد مزید گراوٹ آئی ہے۔ علاج کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی ہے اور 80 فیصد آبادی سائنسی علاج سے یکسر محروم ہے۔ اس کی وجہ سادہ ہے۔ یہ تعلیم، علاج اور دوسری اجتماعی ضروریات عام انسانوں کی قوت خرید سے تجاوز کرگئی ہیں۔ لیکن ایک دن وہ بجٹ بھی آئے گا جس میں علاج، تعلیم، بجلی، پانی اور دوسری ضروریات مفت کرنے کا اعلان ہوگا۔ مقامی حکمرانوں اور سامراجی آقاؤں کی دولت اور اثاثوں پر ٹیکس لگا کر نہیں ان کو ضبط کرکے اتنی بھاری دولت ریاست کو حاصل ہوسکے گی جس سے ان تمام شعبوں کو عام سہولت بنایا جا سکے گا۔ سامراجیوں اور مقامی بینکاروں کی منافع خوری کے قرضے ضبط ہونگے۔ حکمرانوں کی لوٹی ہوئی رقم واپس مل سکے گی۔ لیکن ایسا بجٹ صرف اس حکومت، ریاست اور سماج کا ہوگا جہاں ہر صنعت، پیداوار اور سماجی سہولت کسی فرد یا نجی کمیٹی کی ملکیت نہیں بلکہ سارے عوام کی اشتراکی ملکیت ہوگی۔ کوئی مالک اور کوئی غلام نہیں ہوگا۔