بھارت: بدترین غربت میں سب سے بڑی جمہوریت

[تحریر: لال خان]
بالی ووڈ کی فلموں اور عالمی میڈیا پر بھارت کو عموماً بڑا ’’ماڈرن‘‘ بنا کے پیش کیا جاتا ہے۔ بھارت کا حکمران طبقہ پوری کوشش کرتا ہے کہ آسمان چھوتی عمارتوں اور عالیشان پلازوں کے سائے میں پنپنے والی کچی آبادیوں اور جھونپڑ پٹیوں میں حیوانوں کی سی زندگی بسر کرنے والے کروڑوں انسانوں پر کسی کی نظر نہ پڑے۔ تاہم نام نہاد جدیدیت کی مصنوعی زرق برق ہندوستان کے طول و عرض میں پائی جانے والی معاشی و سماجی بدحالی کو چھپانے سے قاصر ہے۔ سماج اور معیشت کا یہ غیر ہموار طرز ارتقاء حالیہ عام انتخابات میں بھی واضح طور پر عیاں ہے۔ بھارت کے بڑے سرمایہ داروں کی مالیاتی اور سیاسی پشت پناہی نے 7 اپریل سے 12 مئی تک، 9 مراحل میں مکمل ہونے والی ان انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کی فتح کو بڑی حد تک یقینی بنا دیا ہے۔ بھارتی حکمران طبقے کے انتہائی دائیں بازو کی نمائندگی کرنے والی یہ ہندو بنیاد پرست جماعت، ایک مذہبی جنونی انسان کی سربراہی میں اب بھارت کو مزید ’’ماڈرن آئز‘‘ کرنے کا فریضہ سرانجام دے گی۔ اس سے بڑا مذاق کوئی ہو نہیں سکتا!
بھارتی اور عالمی میڈیا کی جانب سے مودی کی فتح پر پیشگی بجائے جانے والے شادیانوں کے برعکس عوام کی وسیع اکثریت میں حالیہ انتخابات اور جمہوریت سے متعلق کوئی خوش فہمی یا امید موجود نہیں ہے۔ سماج میں مجموعی طور پر پورے نظام کے خلاف نفرت اور غصہ بھڑک رہا ہے۔ امریکہ کے مشہور تھنک ٹینک Pew Research کی جانب سے کئے جانے والے ایک حالیہ سروے کے مطابق 70 فیصد لوگ کسی بہتر مستقبل کے امکان سے ناامید ہیں اور ہر دس میں سے آٹھ شہری خاص طور پر معاشی صورتحال سے بری طرح تنگ ہیں۔ ادارے کی رپورٹ کے مطابق ’’بھارتی ووٹر کے لئے ہر معاملہ ایک مسئلہ بن چکا ہے۔‘‘ ایک طرف معاشی بحران اور بڑے پیمانے کی بدعنوانی سے بدحال عوام ہیں تو دوسری طرف بھارت میں ارب پتیوں کی تعداد جاپان سے بڑھ چکی ہے۔ خوفنا ک حد تک امیر یہ مٹھی بھر افراد اپنے سیاسی نمائندے نریندرا مودی کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز کرنے کے لئے بے تاب ہیں۔ Pew Research کی جانب سے ہی کچھ مہینے پہلے کئے جانے والے ایک سروے کے مطابق بھارت کے امیر ترین سو افراد میں سے 74 مودی کے پرجوش حمایتی ہیں۔
بڑے سرمایہ داروں اور ملٹی نیشنل اجارہ داریوں کی جانب سے مودی کی حمایت بے سبب نہیں ہے۔ مقامی حکمران طبقہ اور سامراجی اجارہ داریاں اچھی طرح جانتی ہیں کہ شرح منافع میں اضافے کے لئے مزید ڈی ریگولیشن، منڈی کی آزادی، ٹیکسوں میں چھوٹ اور عوام پر معاشی حملوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ ضروری ہے۔ بھارت کے محنت کش طبقے نے جو حقوق اور مراعات کئی دہائیوں کی جدوجہد اور لڑائی سے حاصل کی ہیں انہیں مودی جیسا بے حس اور وحشی انسان ہی واپس چھین سکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے پاکستان دشمنی، قومی شاونزم اور ہندو بنیادپرستی کے ہتھیار استعمال کئے جارہے ہیں۔ پاکستانی دہشت گردوں کی جانب سے نومبر 2008ء کے ممبئی حملوں کے بعد مودی نے ٹیلی وژن انٹرویو میں کانگریس حکومت کو ’’کمزور‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میں ان کے ساتھ گجرات والا حشر کروں گا۔‘‘ ادتیا چکرابورٹی نے گارڈین میں چھپنے والے ایک حالیہ آرٹیکل میں مودی کی فسطائی نفسیات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’آزادی کے بعد بھارت میں ہونے والے بدترین مذہبی قتل عام کی ذمہ داری مودی پر عائد ہوتی ہے۔ ۔ ۔ کچھ سال پہلے مودی نے کہا تھا اسے گجرات کے واقعات پر اتنا ہی افسوس ہے جتنا کسی کتے پر سے گاڑی گزر جانے کا ہوتا ہے۔ اس نے فسادات کے بعد بے گھر ہوجانے والے دو لاکھ مسلمانوں کے کیمپوں کو ’بچے بنانے والی فیکٹریاں‘ قرار دیا تھا۔‘‘
کارپوریٹ میڈیا پرمودی کے دور اقتدار میں گجرات کی ’’معاشی ترقی‘‘ کو خوب ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے۔ یہ ’’معاشی ماڈل‘‘ اب پورے ہندوستان پر لاگو کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ تاہم یہ نام نہاد معاشی ترقی گجرات کے عوام کے لئے کسی عذاب سے کم نہ تھی۔ مودی کے دور حکومت میں گجرات کے سرمایہ داروں کی شرح منافع جتنی بلند ہوئی، عوام کا معیار زندگی اتنا ہی گراہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صحت، بچوں میں اموات کی شرح، تعلیم اور قوت خرید کے اعشاریوں میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ نیولبرل پالیسیوں کے تحت گجرات میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو لوٹ مار کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ سرمایہ داروں کو دی جانے والی مراعات کا تمام بوجھ غریبوں پر ڈال دیا گیا۔ 2006ء میں گجرات میں غذائی قلت کے شکار بچوں کی تعداد 1993ء سے کہیں زیادہ تھی۔ آدیٹنگ اور اقتصادی جانچ پڑتال کرنے والے بھارتی ماہرین کی رپورٹوں کے مطابق مودی دور حکومت میں گجرات کے عوام کو غلاموں کی طرح سرمایہ داروں کے ہاتھ بیچاگیا۔ بڑی اجارہ داریوں کو مارکیٹ کی قیمتوں سے بھی کم پر بجلی اور 0.1 فیصد سے بھی کم شرح سود پر قرضے دئیے گئے۔ بدلے میں انہوں نے مودی کو سیاسی اور مالیاتی تعاون دینے کے ساتھ ساتھ نجی جیٹ طیاروں کی خوب سیر کروائی۔ جواہر لال یونیورسٹی دہلی کے پروفیسر اٹل سود کے مطابق ’’مودی کا طرز حکومت دراصل طاقور نجی شعبے کی جارحانہ پالیسیاں نافذ کرنے پر مشتمل ہے۔ یہ ماڈل غریبوں کے خلاف اور امیروں کے مفاد میں کام کرتا ہے۔‘‘
کانگریس حکومت کی کارکردگی بلاشعبہ بھیانک حد تک خراب تھی۔ بلند معاشی شرح نمو کے باوجود کرپشن، مہنگائی، بیروزگاری اور غربت میں اضافہ کانگریس سے عوام کی بیزاری کا سبب بنا ہے۔ تاہم بھارت کے ساتھ ساتھ دوسرے BRICS ممالک (سامراجی دانشوروں کے مطابق ’’ابھرتی ہوئی معیشتیں‘‘) میں بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری میں کمی اور مغربی منڈی میں مندی سے برازیل، روس اور چین کی معاشی شرح نمو مسلسل گر رہی ہے۔ یہ صورتحال ’’بیرونی سرمایہ کاری‘‘ کی بنیاد پر ہونے والی معاشی ترقی کی حدود اور ناپائیداری کی عکاس ہے۔
بھارت کی مختلف ریاستوں میں پائی جانے والی درجنوں علاقائی پارٹیاں لسانی، نسلی اور مذہبی تعصبات کو سیاسی مفادات کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ انتخابات کے دنوں میں یہ عمل زیادہ تیز ہوجاتا ہے۔ مخلوط حکومت بنانے والی پارٹیاں بعد ازاں چھوٹی سیاسی جماعتوں کی نشستوں کی بولی لگاتی ہیں۔ زیادہ قیمت اور سیاسی مفادات دینے والے کے ساتھ ’’الحاق‘‘ کرلیاجاتا ہے۔ بائیں بازو کی سیاست کا اپنا المیہ ہے۔ 1990ء کی دہائی میں منموہن سنگھ کی جانب سے آزاد منڈی کی معاشی پالیسیوں کے نفاذ کا رد عمل کیمونسٹ پارٹیوں کی بڑھتی ہوئی حمایت کی شکل میں سامنے آیا تھا۔ 2004ء کے انتخابات میں کیمونسٹ پارٹیوں نے مجموعی طور پر بھارتی تاریخ کی سب سے زیادہ نشستیں جیتی تھیں۔ تاہم ان جماعتوں کی نظریاتی طور پر دیوالیہ قیادت نے وہی پالیسیاں اپنائی جن کے رد عمل میں انہیں ووٹ ملے تھے۔ نتیجہ 2009ء کے انتخابات میں بائیں بازو کی بدترین شکست کی شکل میں برآمد ہوا۔ اس شکست سے بھی کیمونسٹ پارٹیوں کی قیادتوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ یہ حضرات دراصل ’’مرحلہ وار انقلاب‘‘ کی ایک فرسودہ اور بیہودہ سٹالن اسٹ تھیوری پر یقین رکھتے ہیں جس کے مطابق تیسری دنیا کے ممالک میں سوشلسٹ انقلاب سے پہلے سرمایہ داری کے تاریخی فرائض کی تکمیل ضروری ہے۔ لہٰذا پچھلی چھ دہائیوں سے کروڑوں انسانوں کو انقلاب کے پہلے مرحلے کی بلی چڑھایا جارہا ہے۔ آئن سٹائن نے درست کہا تھا کہ ’’حماقت اور کائنات کی کوئی حدود نہیں ہیں۔ ۔ ۔‘‘
کچھ عرصہ پہلے سیاسی افق پر نمودار ہونے والی ’’عام آدمی پارٹی‘‘ بہت جلد بے نقاب ہوگئی ہے۔ یہ جماعت کانگریس اور بی جے پی کا ہی منشور ایک دوسرے رنگ میں پیش کررہی ہے۔ بحران میں ڈوبتی ہوئی بھارتی معیشت عوام کی زندگیوں کو تلخ کرتی جارہی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ایک ارب بیش کروڑ کی آبادی میں سے 80 کروڑ افراد غذائی طور پر غیر محفوظ ہیں۔ اکانومسٹ کے مطابق ’’ شرح نمو آدھی ہوگئی ہے اور یہ، ہر سال محنت کی منڈی میں داخل ہونے والے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار دینے سے قاصر ہے۔ سڑکیں اور بجلی غائب ہے، بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ ۔ ۔ عام شہریوں کے مطابق سیاستدان صرف کرپشن کرتے ہیں۔‘‘
قومی جمہوری اور صنعتی انقلاب کے تاریخی فرائض ادا کرنے میں ناکام بھارتی حکمران طبقے کا رجعتی کردار اور سیاہ نفسیات نریندرا مودی کی کھلی حمایت سے بالکل واضح ہوگئی ہے۔ ’’سیکولر بھارت‘‘ میں فسطائی سوچ رکھنے والے ایک مذہبی بنیاد پرست کا ابھار بھارتی سرمایہ داری کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ ’’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘‘ ہونے کے دعوے کرنے والے حکمران یہ بتانا شاید بھول جاتے ہیں کہ محرومی اور غربت کا سب سے بڑا ارتکاز بھی بھارت میں ہے۔ یہ ذلت بھارت کے محنت کش عوام کا مقدر نہیں ہے۔ بھارت کے محنت کشوں نے ماضی میں کئی شاندار بغاوتیں برپا کی ہیں۔ انہیں جمہوریت اور قومی پرستی کے نام پر سرمایہ داری کی زنجیروں میں ہمیشہ کے لئے جکڑا نہیں جاسکتا۔

متعلقہ:
مایہ کی نگریہ میں جمہوریت کا بازار
بھارت: جمہوریت کی پیکنگ میں فروخت ہوتا جرم!
ہندوستان کے انتخابات: معاشی بحران میں جمہوریت کا کھلواڑ
ہندوستان: جمہوریت کا انتشار