نہ ان کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی

| تحریر: لال خان |

جب بیرونی دفاع پر معمور ریاستی ادارے داخلی تنازعات اور خلفشار میں ملوث ہونے لگیں اور الجھ کے رہ جائیں تو یہ ریاست کی زوال پزیری، سماجی انتشار اور رائج الوقت نظام کے بحران کی بہت واضح علامت ہوتی ہے۔ اس وقت کسی بیرونی محاذ پر تو کوئی جنگ چل نہیں رہی لیکن ملک کے اندر وزیرستان سے لے کر کراچی اور بلوچستان سے لے کر جنوبی پنجاب تک، فوجی آپریشن اور کاروائیاں زور و شور پر ہیں۔ لاشیں بھی گر رہی ہیں اور حکمران طبقے کے تقریباً تمام دانشور اور سیاستدان ان فوجی کاروائیوں کے خوب قصیدے بھی پڑھ رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ریاست، سیاست اور معیشت کے مسلسل بڑھتے ہوئے بحران میں ہر مسئلے کا حل فوجی آپریشن کو ہی سمجھ لیا گیا ہے۔ لیکن کارپوریٹ میڈیا کے تمام تر پرچار کے باوجود حکمرانوں کے لئے تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس روش سے مسائل حل ہونے کی بجائے مسلسل بڑھ ہی رہے ہیں اور پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔
اس ’’جمہوریت‘‘ کے تمام ادارے ہر قسم کی قانونی، سیاسی اور پارلیمانی حمایت ان فوجی کاروائیوں کو دیتے چلے جا رہے ہیں لیکن یہ تذکرہ کہیں نہیں ہے کہ نہ تو دہشت گردی اور جرائم وغیرہ کا خاتمہ ہو رہا ہے اور نہ ہی ان کاروائیوں کی کامیابی کے معیار کسی کو معلوم ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے پاس متاثرہ علاقوں کی معلومات اور زمینی حقائق کا واحد ذریعہ سرکاری پریس ریلیزیں ہی ہیں۔ وزیرستان میں آپریشن سے متعلق کئی ماہ سے 80 سے 90 فیصد علاقہ کلیئر کروانے کی باتیں ہی سننے میں آ رہی ہیں۔ بس یہاں آکر معاملہ رک سا گیا ہے۔
اسی طرح جن قوتوں کے خلاف یہ آپریشن ہو رہے ہیں ان کی نظریاتی بنیادوں اور اغراض و مقاصد کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ سب کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دے کر ان کے درمیان ہر تفریق کو ریاستی پراپیگنڈا کے ذریعے مٹایا جا رہا ہے۔ مثلاً بلوچستان میں قومی آزادی کی لڑائی لڑنے والوں اور وزیرستان میں طالبان کے نظریات اور اغراق و مقاصد کیا ایک ہی ہیں؟

army operation against peasants in okara (2)
مزارعین کو خوفزدہ کرنے کے لئے بھاری اسلحے کا استعمال کیا جا رہا ہے

ایک آپریشن جو پچھلے چند روز میں دوبارہ جاری کیا گیا ہے وہ وسطی پنجاب میں انجمن مزارعین کے خلاف ہے۔ یہ غریب کسان نہ دہشت گردہیں نہ بھتہ خور، اور سب سے بڑھ کر یہ غیر مسلح ہیں۔ لیکن ان پر بھی ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ کے تحت ’’دہشت گردی‘‘ کے مقدمے ہی درج ہورہے ہیں اور ریاستی جبر پوری وحشت سے کیا جارہا ہے۔ لیکن کارپوریٹ میڈیا پر اس سلسلے میں سناٹا چھایا ہوا ہے اور اخباروں میں اس خبر کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے۔ اگر اپنے ملک کی ایسی اہم ترین خبریں بھی بی بی سی اور دوسرے غیر ملکی اداروں نے دینی ہیں تو کیسی اور کونسی صحافتی آزادی؟ اور درجنوں نیوز چینلز کس کام کے؟ ہر جگہ پر اوکاڑہ کے ان دہقانوں کی آواز کو غائب کر دیا گیا ہے۔ ’’آزاد اور غیر جانبدار صحافت‘‘ کے دعویدار ہر چینل اور ہر اخبار پر حقیقت کو نان ایشوز اور حکمرانوں کے بے معنی اور بیہودہ سکینڈلز کے نیچے دبایا جارہا ہے۔
19 اپریل کو بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ’’انجمن مزارعین کے 13 کارکنان کو کئی دنوں سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ ان میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ ضلع اوکاڑہ میں مقامی کسانوں اور فوجی چھاؤنی کی انتظامیہ کے درمیان کئی برس سے جاری زمینی تنازعے کو دہشت گردی کا رنگ دیا جا رہا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن کے تحفظات ہیں کہ انسداد دہشت گردی قوانین کی آڑ میں کسانوں کی اپنے حقوق کی جدوجہد کی جڑیں کاٹی جا رہی ہیں…ان مزارعین کے کنونشن پر انتظامیہ نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت پابندی عائد کر دی اور کہا کہ یہ دہشت گردی ہے…سڑکوں پر مشین گنوں سے لیس فوجی بکتر بند گاڑیاں کھڑی ہیں…ان کسانوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کر کے جبر کے تحت کنٹریکٹ لیبر بنایا جا رہا ہے۔ ‘‘
اس تحریک میں موجود سیاسی کارکنان کے مطابق انجمن مزارعین کے جنرل سیکرٹری مہر عبدالستار کو کئی دنوں سے پابند سلاسل رکھا گیا ہے اور ان پر تشدد کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کوئی قانون یا آرڈیننس جاری کر کے محنت کشوں کے خلاف اس کا بے دریغ استعمال یہاں کے حکمرانوں کا وتیرہ بن چکا ہے۔ اس سے ریاست کی کمزوری، نا اہلی، سماج پر اس کے کنٹرول اور نظم و نسق کی ناکامی ہی عیاں ہوتی ہے۔
اگر ہم اس ملک میں زراعت کی صورتحال اور اس کی اقتصادی کیفیت کو جانچنے کی کوشش کریں تو واضح ہوتا ہے کہ یہاں نہ تو کوئی کلاسیکی جاگیردارانہ نظام ہے اور نہ ہی ترقی یافتہ ممالک کی طرح زراعت کسی صنعت کا درجہ حاصل کر سکی ہے۔ لیکن زرعی شعبے کے محنت کشوں کو ان دونوں نظاموں کے بدترین جبر کا سامنا ہے۔ صنعت، رئیل اسٹیٹ، بینکاری کے ساتھ ساتھ پاکستان میں فوج کی زراعت میں بھی گہری مداخلت ہے۔ فوج بطور ادارہ اور حاضر و ریٹائرڈ فوجی جرنیل اور افسران لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کے مالک ہیں۔ اوکاڑہ میں یہ تنازعہ ایک بار پھر کشمکش سے تصادم میں بدل گیا کیونکہ مزارعین نے اپنی زرعی محنت کی اجرت اور آمدن میں معمولی اضافے کی مانگ کی تھی۔ یہ مزارعین دہائیوں سے یہ زمین کاشت کر رہے ہیں لیکن مالکانہ حقوق انہیں آج تک حاصل نہیں ہو سکے۔ الٹا صنعتی سیٹھوں کی طرح ان فوجی جاگیرداروں نے جواب میں ان محنت کشوں پر جبر کا بے دریغ استعمال ہمیشہ کیا ہے۔ بنیادی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو دہشت گردی کے قوانین، بھاری فوجی گاڑیوں اور بندوقوں کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سلسلہ مختلف اشکال میں گزشتہ کئی دہائیوں سے ہی جاری ہے۔
منافع اور دولت کی ہوس ان سرکاری و غیر سرکاری سرمایہ داروں اور جاگیر داروں میں اتنی بڑھ گئی ہے کہ مزارعین کی محنت اور زمین کو وہ مفت میں ہتھیانا چاہتے ہیں۔ لیکن طبقاتی تصادم کا یہ میدان اب پنجاب اور پاکستان میں ایک مثال بن گیا ہے۔ ہر بار محنت کشوں کی مزاحمت کے خلاف ریاستی جبر ہوتا ہے لیکن جب اسے کچل نہیں سکتے تو عارضی اور ریاکارانہ سمجھوتوں کے ذریعے ان مزارعین کو قابو کرکے استحصال جاری رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ طبقاتی کشمکش پھر بھڑک اٹھتی ہے۔
حکمرانوں کے پاس اپنے نظام کے بحران کے تحت مزید کسی سمجھوتے اور وقتی رعایت کی گنجائش ناپید نظر آتی ہے۔ دوسری طرف مزارعین کا مسئلہ ہے کہ ان کو تمام جدوجہد، قربانی اور جرات کے باوجود دوسرے شعبوں اور علاقوں کے محنت کشوں سے عملی یکجہتی اور حمایت نہ ملنے کی صورت میں سمجھوتے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ لیکن حکمرانوں کے جبر کے ادارے نہ انہیں کچل سکے ہیں اور نہ ہی ان کی مزاحمت کو ختم کر سکے ہیں۔ اس تحریک کی کامیابی صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ تمام علاقوں میں زرعی اور صنعتی شعبوں کے محنت کشوں اور وسیع تر عوام کی حمایت اسے حاصل ہو۔ ایسی کوئی تحریک اگر ملک گیر سطح پر ابھرتی ہے تو ان سرکاری و غیر سرکاری جاگیرداروں کے ساتھ پورے استحصالی نظام کو بھی چیلنج کرے گی۔ اس نظام کے خاتمے تک یہ طبقاتی جدوجہد جاری رہے گی۔ بقول فیض

یونہی الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی

متعلقہ:

اوکاڑہ: انجمن مزارعین کی جدوجہد کا پس منظر