[رپورٹ: لیا قت ساہی]
13 فروری کو پی سی ہوٹل ورکرز یکجہتی کمیٹی کی طرف سے بہت بڑی تعداد میں حبیب بینک پلازہ سے چار بجے شام محنت کشوں کی بہت بڑی تعداد نے احتجاجی ریلی آئی آئی چندریگر روڈ پر نکالی۔ اس موقع پر بینرز پر ان کی طرف سے مطالبے لکھے ہوئے تھے کہ گزشتہ بارہ سال سے پی سی ہوٹل کراچی کی انتظامیہ نہ صرف لیبر قوانین کو تسلیم نہیں کر رہی بلکہ غیر قانونی طور پر معصوم محنت کشوں پر جھوٹے مقدمے قائم کرکے ان کو ملازمتوں سے بر طرف کیا جارہا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس کا نوٹس لیں اور محنت کشوں کو انصاف فراہم کریں۔ بہت بڑی تعداد میں محنت کشوں نے ہاتھوں میں پوسٹر اٹھائے ہوئے تھے جس پر اپنے ساتھ ہونے والے مظالم کی نشاندھی کی گئی تھی۔ گزشتہ کئی سالوں بعد ایک بار پھر محنت کشوں نے ماضی کی یاد تازہ کر دی ہے جب اسی روڈ پر لال رنگ کے بینروں کے ساتھ محنت کش احتجاج کیا کرتے تھے۔ اس مرتبہ بھی بہت بڑی تعداد میں محنت کشوں نے شرکت کرکے پی سی ہوٹل کے محنت کشوں کے ساتھ اظہا ر یکجہتی کی ہے۔ مزدور ریلی کو پروگرام کے تحت پی آئی ڈی سی چوک پر اختتام کرنا تھا لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جنگ پریس پر مزدور ریلی کا گھراؤ کرکے ریلی کو ختم کرنے پر مجبور کردیا جس پر محنت کش مشتعل ہو گئے لیکن مزدور رہنماؤں نے صبر تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کو خراب ہو نے سے بچالیا۔ اس موقع پر مزدور رہنما لیا قت علی ساہی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ بارہ سالوں سے وفاقی ، صوبائی حکومتیں ، ملک کی اعلیٰ عدلیہ پی سی ہوٹل کے محنت کشوں کو انصاف فراہم نہیں کر سکیں جبکہ ریاست کے دیگر اداروں کی چوکھٹوں پر انہوں نے اپنے سر ٹکرا کر انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن کسی بھی فورم نے بھی پی سی ہوٹل کے محنت کشوں کے جائز مسائل کو حل کرکنے کی کو شش نہیں کی جو کہ انتہائی قابلِ افسوس رویہ ہے بلکہ باعث تشویش بھی ہے۔ دوسری طرف سرمایہ دار طبقہ اپنی دولت کے بل بوتے پر نہ صرف ریاست کے اداروں کو خرید رہا ہے بلکہ اپنی منشاء کے مطابق ریاستی اداروں کی مشینری کو چلا رہا ہے جس کی وجہ سے براہ راست محنت کشوں کا استحصال ہو رہا ہے البتہ سیاسی پارٹیوں کی قیادت محنت کشوں کو اپنی پارٹیوں کیلئے اپنے مفاد میں استعمال تو کرتے ہیں لیکن ان کے جائز حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے تیار نہیں بلکہ سرمایہ داروں کے پلڑے میں اپنا وژن ڈال کر محنت کشوں کا استحصال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ہم اس مزدور ریلی سے حکومت سندھ اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں پی سی ہوٹل کے محنت کشوں کو فوری طور پر ملازمتوں پر بحال کیا جائے اور ان ٹریڈ یونین کا حق لیبر قوانین کی روشنی میں دیا جائے۔ اس موقع پر پی سی ہوٹل یونین کے جنرل سیکرٹری غلام محبوب، پی سی ورکرز یکجہتی کمیٹی کے کنوینر اسد اقبال بٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر پی سی ہوٹل کے محنت کشوں کو انصاف فراہم نہ کیا گیا تو پوری کراچی میں محنت کشوں اور سول سائٹی کی طرف سے مظاہرے کئے جائیں گے۔ مزدور رہنما جلیل شاہ، شفیق غوری، اخلاق احمد اور دیگرنے بھی خطاب کیا۔