یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک
اس خوں میں حرارت ہے جب تک
اس دل میں صداقت ہے جب تک
اس نطق میں طاقت ہے جب تک
ان طوق و سلاسل کو ہم تم
سکھلائیں گے شورشِ بربط و نے
وہ شورش جس کے آگے زبوں
ہنگامۂ طبلِ قیصر و کے
آزاد ہیں اپنے فکر و عمل
بھرپور خزینہ ہمت کا
اک عمر ہے اپنی ہر ساعت
امروز ہے اپنا ہر فردا
یہ شام و سحر، یہ شمس و قمر
یہ اختر و کوکب اپنے ہیں
یہ لوح و قلم، یہ طبل و علم
یہ مال و حشم سب اپنے ہیں
فیض ؔ
