[رپورٹ: نثار چانڈیو]
ریلوے ورکرز یونین کوٹری زون کی جانب سے مورخہ 10 دسمبر کو کوٹری جنکشن پرریلوے کی نجکاری کے خلاف ایک جلسے کا اہتمام کیا گیا جس میں کوٹری، حیدرآباد، میرپور خاص اور بدین سمیت کراچی ڈویژن کے مختلف جنکشنوں سے محنت کشوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جلسے کے مہمان خاص کراچی سے آئے ہوئے ریلوے ورکرز یونین کے مرکزی چیئرمین منظور رضی تھے جبکہ مرکزی جنرل سیکریٹری نسیم راؤ، مرکزی نائب صدر جنید اعوان نے بھی خصوصی شرکت کی۔ اسٹیج سیکریٹری کے فرائض ورکرز یونین کوٹری کے آرگنائزر اور PTUDC کے کامریڈ منگل مل نے ادا کئے جبکہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے ساتھیوں نے بھی شرکت کی۔ جلسے میں محنت کشوں کے جانب سے ریلوے کی نجکاری کے خلاف بھرپور نعرے لگائے گئے، جلسے کی استقبالیہ تقریر شمشاد جدون نے کی جبکہ ریلوے ورکرز یونین کے واحد بخش، وکھیو خاصخیلی، قربان بھنڈ ودیگر نے کوٹری زون کے مسائل پر روشنی ڈالی۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ریلوے ورکرز یونین کے مرکزی چیئرمین منظور رضی نے کہا کہ ہم جب تک سیاست پر بات نہیں کریں گے تب تک محنت کشوں کے مسائل کو حل نہیں کیا جاسکتا اور ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کا ہے۔ جب تک مزدور راج قائم نہیں کیا جاتا، محنت کشوں کو ان کاحق نہیں دلایا جاسکتا، جاوید اشرف قاضی سمیت ریلوے کے کئی آفیسروں نے کرپشن کرکے ادارے کو تباہ کیا ہے اور اب اسے برباد کرکے بیچا جارہا ہے، ریلوے کی نجکاری کرنے کی کوشش ہر حکومت کرتی ہے لیکن ہماری مستقل جدوجہد انہیں کامیاب نہیں ہونے دیتی اور آئندہ بھی ہم اپنی جدوجہد کے ذریعے
حکمرانوں کو ان کے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن (PTUDC) کے رہنما راہول نے کہا کہ آج پاکستانی ریاست اندر سے کھوکھلی ہوچکی ہے اور وہ محنت کشوں سے اب ان کی بنیادی ضروریات بھی چھین رہی ہے، یہاں 1184 بچے روزانہ صرف بھوک کی وجہ سے مر جاتے ہیں اور ایسے صورتحال میں اگر نجکاری کی جاتی ہے تو مسائل میں مزید اضافہ ہوگا، آج ضرورت اس امر کی ہے ہم ریلوے کے محنت کشوں سمیت پاکستان کے دیگر اداروں کے مزدوروں کو بھی ساتھ ملائیں، واپڈا سمیت پی ٹی سی ایل اور اسٹیل مل کے محنت کشوں کو اپنی جدوجہد کا حصہ بنا کر ہی ہم یہ لڑائی جیت سکتے ہیں اور محنت کشوں کو ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی ان کے مسائل سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ مرکزی نائب صدر جنید اعوان، عارف مسوانی اور جنرل سیکریٹری نسیم راؤ نے کہا کہ ریلوے کی اشرافیہ نے آج ریلوے کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے، ریلوے کالونیوں کی بجلی سے نجی فیکٹریوں کو بجلی دی جارہی ہے، ورکرز کالونیز پر لینڈ مافیا نے قبضہ کررکھا ہے، آفیسروں کی اپنی ہاؤسنگ اسکیمیں تو آباد ہوگئیں ہیں لیکن جن محنت کشوں نے اپنا پیٹ کاٹ کر الاؤنس جمع کرویا تھا ان کے پاس آج کچھ بھی نہیں ہے، یہاں تک کہ اب انہیں تعلیم و صحت جیسے بنیادی حقوق سے بھی محروم کیا جارہاہے، انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام تر مسائل کے خلاف ریلوے ورکرز یونین نے مختلف شہروں میں اسی قسم کے جلسوں کا اہتمام کیا ہے، اسی سلسلے میں 20 تاریخ کو جنگ شاہی جبکہ 24 دسمبر کو حیدرآباد جنکشن پر جلسے کئے جائیں گے۔ آخر میں ریلوے کے محنت کشوں کی جانب سے نجکاری کے خلاف ایک مشترکہ قراردار منظور کی گئی۔