جموں کشمیر این ایس ایف کی مرکزی کابینہ کا راولاکوٹ میں اجلاس

[رپورٹ:کامریڈ حارث]
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے آزادکشمیر بھر میں طلبہ یونین اور طلبہ حقوق بحالی کیمپین کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے، اس بات کا فیصلہ 7 اپریل بروز اتوار منعقدہ این ایس ایف کی مرکزی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت مرکزی صدر کامریڈ راشد شیخ نے کی جبکہ اجلاس میں مرکزی سیکرٹری جنرل خلیل بابر، چیف آرگنائزر کامریڈ رضوان ، سیکرٹری نشرواشاعت کامریڈ شہزاد ایوب، نائب صدرکامریڈ جنید، ضلعی چیئرمین مظفرآباد، پونچھ، تحصیل، سٹی اور کالج یونٹوں کے چیئرمین شریک تھے۔

مرکزی صدر راشد شیخ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کشمیر کے خطے کے کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے مسئلے کو عالمی صورتحال سے کاٹ کر نہیں دیکھا جا سکتا، پوری دنیا معاشی اور سیاسی طور پر ایک اکائی بن چکی ہے اور عالمی مالیاتی اداروں اور اجاراداریوں کا پوری دنیا پر غلبہ ہے ، اسی لئے ہم ہر اجلاس اور ہر موقع پر عالمی صورتحال پر بحث اور اس کا تجزیہ کرتے ہوئے قومی تناظر تخلیق دیتے ہیں ، این ایس ایف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ جدید سائنسی نظریات کی بنیاد پر نوجوانوں کی درست رہنمائی کرتے ہوئے انہیں مستقبل کے نظریات سے آگاہ کر رہی ہے اور ایک حقیقی تبدیلی کی جدوجہد کو عملی بنیادوں پر آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی طور پر سرمایہ دارانہ نظام زوال پذیری کا شکار ہے جس کا واضح ثبوت ہمیں یورپ ، امریکہ ، عرب ممالک اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں ابھرنے والی محنت کشوں اور نوجوانوں کی بے شمار تحریکیں اور ریاستوں کے دیوالیہ ہونے کی صورت میں نظر آرہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ آج کشمیر کی قومی آزادی سمیت کسی بھی ایک مسئلے کا حل اس موجودہ نظام کے ہوتے ہوئے ممکن نہیں ہے، اس لئے آج کشمیر کے نوجوانوں اور محنت کشوں کو مستقبل کے نظریات کو اپناتے ہوئے عملی بنیادوں پر کشمیر کی قومی آزادی کی تحریک کو پاکستان اور بھارت کے محنت کشوں کی تحریکوں کے ساتھ جوڑتے ہوئے اس خطے میں سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کو تیز تر کرنا ہو گا۔ تمام کارکنان ضلعی، تحصیل، سٹی اور علاقائی سطح تک این ایس ایف کو منظم کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کریں اور کالجز اور یونیورسٹیوں میں کام کو مزید پھیلانے کی طرف جائیں تاکہ مستقبل میں ہم نوجوانوں کی قوت کو اپنے ساتھ ملاتے ہوئے جدوجہد کو مزید تیز کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج طلبہ یونین پر عائد پابندی کی وجہ سے سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی فیسوں میں بیش بہا اضافہ کیا جا رہاہے، تعلیم کو کاروباربنا دیا گیا ہے، حکمران طبقات اپنی عیاشیوں کا سامان پیدا کرنے کیلئے بھی نوجوانوں اور طلبہ سے سرمایہ نچوڑنے میں مصروف ہیں، طلبا یونین پر عائد پابندی کو ختم صرف اس لئے نہیں کیا جا رہا ہے حکمران نسل در نسل محنت کشوں اور نوجوانوں کے استحصال کو جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج انسانیت کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کے وہ آگے بڑھے اور اس نظام کو اکھاڑتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ایک غیر طبقاتی سماج کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اجلاس سے مرکزی صدر راشد شیخ کے علاوہ خلیل بابر، کامریڈ رضوان، شہزاد ایوب، بشارت علی، یاسر ارشاد، ابرار لطیف، حسنین راجہ، جنید ، خلیق ارشاد، واجد خان، محمود، خواجہ جمیل، کاشف رشید، مبین، دانیال، گلباز، واجد اصغر، تیمور سلیم، عماد ، وحید خان، مزمل صادق، اویس عتیق، عثمان، نعمان اسلم اور دیگر نے خطاب کیا۔