ریلوے کیرج فیکٹری اسلام آباد کے ڈیلی ویجز محنت کشوں کی جدوجہد

[رپورٹ: مزدور ایکشن کمیٹی کیرج فیکٹری اسلام آباد]
ریلوے کیرج فیکٹری اسلام آباد میں گزشتہ 6 سال سے 400 کوچز پروجیکٹ کے 458 ڈیلی ویجز محنت کش تا حال مستقل نہ ہو سکے۔ اس عرصے میں ان محنت کشوں کے مختلف اوقات میں چھوٹے چھوٹے احتجاج ہوتے رہے لیکن انتظامیہ اور ٹریڈ یونین قیادت نے محنت کشوں کے اس مسئلے کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا۔ جہاں انتظامیہ ان محنت کشو ں کو نوکریوں سے فارغ کرنے کی دھمکیاں دیتی رہی وہاں پر ٹریڈ یونین قیادت کا بھی یہی وطیرہ رہا۔ انتظامیہ اور ٹریڈ یونین قیادت کے اس رویے کو ڈھانپتے ہوئے کیرج فیکٹری کے ان محنت کشوں نے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن کے کامریڈز کے ساتھ رابطہ کیا جس پر PTUDC کے کامریڈز نے ان کو بھرپورتعاون کا یقین دلایا۔
اسی سلسلے میں مورخہ 17 فروری بروز اتوارکو  PTUDC کے زیر اہتمام ایک احتجاجی ریلی اور مظاہرہ راولپنڈی پریس کے کلب کے سامنے کیا گیا۔ اس مظاہرے میں PTUDC ،BNT ،PYA ،JKNSF، ریلوے لیبر یونین، پوسٹل لائف انشورنس یونین، ریلوے ورکرز یونین، ڈائر یکٹوریٹ جنرل ایمپلائز یونین (پوسٹ اسلام آباد)، PPP شعبہ خواتین راولپنڈی سٹی کے مندوبین سینکڑوں محنت کشوں اور نوجوانوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے بینر اور پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے جس پر مطالبات درج تھے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے تمام مقررین نے کہا کہ کیرج فیکٹری کے ڈیلی ویجز محنت کشوں کے ساتھ مسلسل زیادتی کی جارہی ہے۔ اب ہم ان محنت کشوں کو اکیلا نہیں چھوڑے گے اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔
PTUDC کے اس مظاہرے کے نتیجے میں کیرج فیکٹری کے محنت کشوں کے نہ صرف حوصلے بلند ہوئے بلکہ انہوں نے روزانہ کی بنیاد پر کیرج فیکٹری کے اندر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا اور ریلوے کی ٹریڈ یونین قیادت پر دباؤ ڈالا گیا کہ اس سنجیدہ مسئلے کو ریلوے انتظامیہ کے سامنے رکھا جائے اور حل کرایا جائے۔ ٹریڈ یونین قیادت پہلے تو روائیتی طریقے سے ٹالتی رہی اور بعد ازاں اوچھے ہتھکنڈوں سے مزدوروں کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا۔
کیرج فیکٹری کے کامریڈ طارق و دیگر دو کامریڈ ز نے جب یہ محسوس کیا کہ ٹریڈ یونین قیادت مزدوروں کا ساتھ دینے کے بجائے مزدوروں کو ہی دبا رہی ہے توایک ہنگامی میٹنگ کال کی گئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹریڈ یونین قیادت پر دباؤ بڑھایا جائے اور انہیں مجبور کیا جائے کہ محنت کشوں کی اس تحریک میں ان کا ساتھ دے اور احتجاج کرے۔ اس کے بعد کامریڈز کی قیادت میں تمام ورکشاپ کا وزٹ کیا گیا اور ریگولر محنت کشوں سے تعاون کی اپیل کی گئی۔ اس دباؤ کے نتیجے میں ٹریڈ یونین قیادت نے29 مارچ کو کامریڈز اور محنت کشوں کے ساتھ میٹنگ کی اور فیصلہ کیا گیا کہ مورخہ 2 اپریل بروز منگل کیرج فیکٹری کے اندر بھرپور احتجاج کیاجائے گا۔ 2 اپریل کو احتجاج کیا گیااور ڈیلی ویجز محنت کشوں کو مستقل کرنے کا مطالبہ انتظامیہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ 3 اپریل کو یونین کی طرف سے ڈیمانڈ آئی کہ ڈیلی ویجز محنت کش ایک ٹیم تشکیل دیں جو یونین عہدے داران کے ساتھ ریلوے انتظامیہ سے مذاکرات کے لئے جائے گی۔ محنت کشوں نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی اور یونین کو مطلع کر دیا جس پر یونین ایک مرتبہ پھر پس وپیش سے کام لے رہی ہے اور انکار کرچکی ہے کہ ہم مزید کچھ نہیں کرسکتے۔ اس صورت حال کو بھانپتے ہوئے کیرج فیکٹری کے کامریڈز نے فوری طور پر 18 ورکشاپس کا وزٹ کیا اور ایک مزدور ایکشن کمیٹی بنا دی گئی جو اس صورت حال میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔ اس صورت حال سے ریگولر اور ڈیلی ویجز محنت کشوں کے حوصلے بلند ہوئے اور ان کے اندر سے انتظامیہ اور ٹریڈ یونین قیادت کا خوف ختم ہو گیا۔ 4 اپریل کومزدور ایکشن کمیٹی نے ایک چارٹر آف ڈیمانڈ بنا دیا گیا جو درج ذیل ہے:
۱۔ 400 کوچز کے 458 ڈیلی ویجز مزدوروں کو فوری طور پر مستقل کیا جائے۔
۲۔ نجکاری، ڈاؤن سائزنگ، رائٹ سائزنگ، لبرلائزیشن، جیسی مزدور دشمن سامراجی پالیسوں کو ختم کیا جائے۔
۳۔ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ جو نجکاری کی ہی شکل ہے کے ذریعے ٹرینوں کی فروخت اور ریلوے اراضی کی لیزنگ فوری طور پر بند کی جائے۔
۴۔ موجودہ مہنگائی کے تناسب سے محنت کشوں کی کم از کم تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر کی جائے۔
۵۔ ریلوے کے تمام ملازمین کو صحت، تعلیم، روزگار، رہائش، بجلی و گیس کی سہولیات مفت فراہم کی جائیں۔

حکمت عملی
۱۔ مزدور ایکشن کمیٹی کیرج فیکٹری اسلام آباد ریلوے کی دیگر ورکشاپ کا وزٹ کرے گی اور محنت کش ساتھیوں سے اظہار یکجہتی کی اپیل کرے گی۔
۲۔ ریلوے میں یکجہتی کمپین کرنے کے بعد دیگر اداروں واپڈا، TMA، ایپکا، واسا وغیرہ کا وزٹ کیا جائے گا۔ اور وہاں کے ملازمین سے اظہار یکجہتی کی اپیل کی جائے گی۔

اپیل
ہم پاکستان کی تمام ٹریڈ یونینز و ایسوسی ایشنز سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے مطالبات کے حق میں الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر اظہار یکجہتی کا آغاز کریں۔