فیصل آباد : پاور لوم ورکرز کی شاندار تحریک

[تحریر: ارتقاء قادر]
11جولائی کو پاور لوم کے مزدوروں نے اجرتوں میں اضافے کے گزٹ نوٹیفیکیشن پر عملدرآمد کروانے کے لئے لانگ مارچ کا آغاز کیا۔ مارچ کا آغاز سدھار سیکٹر سے ہوا جس میں فیصل آباد سمیت مضافاتی شہروں کے ہزاروں مزدور شریک تھے۔ اس سے پہلے بھی فیصل آباد میں پاور لوم ورکرز کے مختلف مسائل پر مزدور، ریلیوں، ہڑتالوں کے ذریعے احتجاج کرتے آئے ہیں۔ پچھلے دنوں میں بدترین لوڈشیڈنگ کے خلاف بھی پاور لوم کے مزدور وں کی طرف سے بہت بڑی احتجاجی ریلیاں نکالی گئی تھیں۔ لیکن یہ لانگ مارچ فیصل آباد میں جاری محنت کشوں کی تمام ریلیوں سے بڑا تھا۔ پولیس کی بھاری نفری مارچ کے لئے تعینات کی گئی تھی۔ شہر کی اہم شاہراہ جیل روڈ ٹریفک کے لئے بند کر دی گئی تھی۔ سدھار سے شروع ہونے والے مارچ کا پہلا پڑاؤ لیبر کورٹ کے سامنے تھا جہاں مزدوروں نے اپنے مطالبات کے حق میں اور پنجاب حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ مزدور رہنماؤں نے مزدوروں سے خطاب کیا۔ اسی دوران ضلعی انتظامیہ نے مذاکرات کے ذریعے مارچ رکوانے کی کوشش کی جس کو مزدور وں نے یکسر مسترد کر دیا۔
فیصل آباد میں لاکھوں مزدور پاور لوم انڈسٹری سے منسلک ہیں جن میں اکثریت غیر منظم طریقے سے یعنی بغیر کسی مزدور تنظیم یا یونین کے، اس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ مزدوروں کی کم مگر منظم تعداد بہتر اندازسے مسائل کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔ 2010ء میں پاور لوم کے سدھار سیکٹر کے مزدور وں کی مالکوں کے ساتھ اجرتوں کے اضافے کے معاملے پر جھڑپیں ہوئیں جس کے بعد پاور لوم مل مالکان نے اپنی یونین بنائی اور ضلعی انتظامیہ کی مدد سے مزدور نمائندوں پر تشدد کروایا جس کے رد عمل میں مزدوروں نے کارخانوں کو آگ لگا دی۔ اس واقع میں 6مزدوروں کو 490 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس قسم کے واقعات مزدور تحریک کو کمزور کرتے ہیں جس کی ہم مارکسسٹ شدید مزمت کرتے ہیں۔
لوڈشیڈنگ کی وجہ سے فیصل آباد کی صنعت بند ہوئی جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہوا اور لوڈشیڈنگ کے خلاف بہت بڑے مظاہرے ہوئے لیکن اس دوران بھی سب سے زیادہ مزاحمت پاور لوم کے ورکرز کی طرف سے ہوئی۔ کمالیہ شہر سے مزدور پیدل فیصل آباد آئے اور مقامی ورکرز کے ساتھ مل کر فیسکو ہیڈ کوارٹر کے باہر احتجاج کیا۔ پاور لوم ورکرز کی اس جدوجہد نے حکومت کو لوڈشیڈنگ کے اوقات کم کرنے پر مجبور کیا۔ 50 لاکھ کی آبادی والے شہر فیصل آباد میں محنت کشوں کے لئے صرف 4 ہسپتال موجود ہیں جس میں تمام مریضوں کو صحت کی سہولیات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔ ہپاٹائٹس، ہیضہ اور جلد کے امراض عام پائے جاتے ہیں۔ خواتین میں سینے کے کینسرکے کیسز بھی پاور لوم ایریاز میں زیادہ پائے گئے ہیں۔ پاور لوم ایریا سے ہسپتال کافی دور ہیں اور ایمرجنسی کے کیسز میں اکثر مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑدیتے ہیں۔ صحت کی سہولیات کے حصول کے لئے پاور لوم کے محنت کشوں کی سوشل سیکیورٹی کارڈ کے اجراء کی جدوجہد جاری ہے۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی نے مزدور کی کمر توڑ دی ہے۔ حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لئے کرنسی نوٹ چھاپے جا رہے ہیں جس سے افراط زر میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہوتا ہے اور اس کیفیت میں اجرتوں میں اضافہ کی ضرورت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ان اجرتوں میں اضافے کے لئے پاور لوم ورکر لمبے عرصے سے جدوجہد کرتے آ رہے ہیں۔ 2010ء میں ورکرز نے حکومت کو تنخواہوں کے اضافے کے معاملے پرگزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے پر مجبور کیا۔ جس کے مطابق ہر دو سال بعد اجرتوں میں اضافہ کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ 2012ء میں پاور لوم ورکر ز کی اجرتوں میں28.6 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس کومل مالکان نے نظر انداز کر دیا۔ ہر سیکٹر میں نوٹیفیکیشن کے اجراء کے لئے مل مالکان سے مذاکرات کئے گئے لیکن بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے۔15تک مذاکرات جاری رہے جس میں DCOفیصل آباد نسیم صادق نے مزدوروں کو کم ریٹ پر لوم چلانے پر رضا مند کرنے اور گزٹ نوٹیفیکیشن سے دستبردار ہونے کو کہا۔یکم جولائی کو مزدور لیڈران نے مطالبات کی عدم منظوری کے نتیجے میں لاہور تک لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا اور 10دن تک مطالبات منظور نہیں کئے گئے۔11جولائی کو مزدوروں کا قافلہ جب لاہور کی طرف گامزن تھا تو کھرڑیانوالہ کے قریب مزدوروں کو بتایا گیا کہ ان کے تمام مطالبات مان لئے گئے ہیں اور اب وہ واپس کارخانوں میں جا کر کام شروع کریں۔ مزدور لیڈران نے مزدوروں کو واپس جانے کو کہا۔اگلے دن جب مزدور کام پر گئے تو مالکان نے ان کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا اور کارخانوں کی غیر قانونی تالا بندی کروا دی۔ اس کے بعد 8دن تک ہڑتا ل کے دوران مذاکرات جاری رہے جس میں ضلعی انتظامیہ نے مالکان کا بھرپور ساتھ دیا۔ 8دن چلنے والے مذاکرات کے بعد16 فی صد پر مزدوروں کو رضا مند کر لیا گیا۔ ان مذاکرات میں سوشل سیکیورٹی اور کارڈ کے اجراء پر بھی مطالبہ رکھا گیا۔ جس کو کارخانہ مالکان نے مسترد کر دیا اور سیکٹر سطح پر 10ڈاکٹرز پر مشتمل ڈسپنسری کی تجویز پیش کی جس کو مزدوروں نے مسترد کر دیا اور سوشل سیکیورٹی کارڈ کے لئے جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ہڑتال کے 8 دن مزدوروں کے لئے بہت مشکل تھے۔مزدوروں نے فاقے برداشت کر کے اپنے مطالبات منوائے ہیں۔ ہڑتال کے دوران ایک مزدور فرحان اپنے بچے کے علاج کے لئے مالکوں کے پاس گیا تو انھوں نے پیسے دینے سے انکار کردیا۔ مزدور ساتھیوں نے پیسے جمع کر کے دیئے لیکن بچہ ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں زندگی کی بازی ہار گیا۔
سرمایہ دارانہ نظام کے حالیہ بحران کے بعد پاکستان میں محنت کشوں کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور یہ ریاست مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ جمہوریت ہو یا آمریت کوئی بھی سیاسی ڈھانچے محنت کشوں کے مسائل حل نہیں کر سکتے بلکہ اس نظام کی طوالت مشکلات میں اضافے کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ صرف محنت کش طبقہ جو اس سماج کو چلا رہا ہے اسے بدل سکتا ہے۔ پاور لوم کے محنت کشوں نے کئی بار یہ ثابت کیا ہے کہ وہ فیصل آباد کی سب سے بڑی طاقت ہیں اور اگر وہ چاہیں تو فیصل آباد کی قسمت بدل سکتے ہیں لیکن ہمیں ماضی میں ہونے والے واقعات او ر اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے آنے والی لڑائی کی تیاری کرنی ہو گی۔ پاور لوم کے غیر منظم محنت کشوں کو اپنے ساتھ جوڑ کر اپنی طاقتوں کو بڑھانا ہو گا ان کے اعتراضات کو دور کرکے ان کی تنظیم سازی کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ہمیں اپنی یونین میں کرپٹ اور مزدور دشمن طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے عناصر کا جمہوری طریقوں سے احتساب کرنا ہو گا اور نئے اور مزدوروں کے مفادات کے لئے مخلص لوگوں کو آگے لانا ہو گا۔ اگر ہم منظم ہو کر دوسرے اداروں اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کے ساتھ مزدور اتحاد کو مضبوط کر نے میں کامیاب ہوتے ہیں تو کوئی عدالت، پولیس، فوج ہمیں اس نظام کو بدلنے سے نہیں روک سکتی۔ سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے مزدور راج قائم کر یں گے اور ان مسائل کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ کریں گے۔