| رپورٹ: احسان اللہ |
6 نومبر 2016ء کو پشاور یونیورسٹی میں بالشویک انقلاب کی 99ویں سالگرہ کے موقع پر ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا تھا۔ میٹنگ کو خالد مندوخیل نے چیئر کیا ، جبکہ سنگین باچا نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے بالشویک انقلاب کی حاصلات اور سیاسی زوال پزیری پر تفصیلاً روشنی ڈالی اور اس بات کی وضاحت کی کہ آج انسانیت کو جن مسائل کا سامنا ہے جن میں غربت، محرومی، بے روزگاری، بدامنی اور دیگر کئی اذیت ناک مسائل شامل ہیں ان سے نجات کا واحد راستہ بالشویزم ہے۔ آخر میں خالد مندوخیل نے بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ آج بالشویک انقلاب کی یاد منانے کی وجہ کوئی عقیدہ نہیں بلکہ سائنسی بنیادوں پر ہم ماضی کے اس عظیم انقلاب کے تجربات کو سامنے رکھ کر یہ عہد اور عزم کرتے ہے کہ ہم آج انسانیت کواس سرمایہ داری کی تاریکی سے نکال کر ایک سرخ صبح کا آغاز کرینگے۔



