دادو اور جوہی میں مارکسی سکولوں کا انعقاد

| رپورٹ: اعجاز بگھیو، امین لغاری |

دادو اور جوہی میں 16 اور 17 جولائی کو مارکسی سکولوں کا انعقاد کیا گیا۔
مورخہ 16 جولائی کو دادو میں ایک روزہ مارکسی اسکول کا انعقاد کیا گیا۔ پہلے سیشن کا موضوع ’’جنوب ایشیا کا تناظر‘‘ تھا۔ سیشن کو چیئر کامریڈ معظم نے کیا اور کاشف زؤنر نے اپنی لیڈ آف میں ساؤتھ ایشین ممالک کی سیاسی، معاشی و سماجی صورتحال پر تفصیل سے بات رکھی۔ اس سیشن میں کامریڈ انور پنہور اور کامریڈ اعجاز بگھیو نے اظہار خیال کرتے ہوئے سوالات کی روشنی میں بحث کو آگے بڑھایا۔ سکول کے دوسرے ایجنڈے کا موضوع لینن کی کتاب ’’بائیں بازو کا کمیونزم: ایک طفلانہ بیماری‘‘ پر مبنی تھا جس پر کامریڈ اعجاز نے بحث کا آغاز کیا اور محنت کش طبقے کی تنظیموں کی طرف کمیونسٹوں کے رویے اور لائحہ عمل کے اصولوں کو واضح کیا جو لینن نے بیان کئے تھے۔ اس سیشن میں دوسرے ساتھیوں نے بھی بحث میں حصہ لیا۔ سکول کا سم اپ کامریڈ انور پنہور نے کیا اور سکول کا باقاعدہ اختتام مزدوروں کا عالمی گیت گا کر کیا گیا۔

مورخہ 17 جولائی کو جوہی میں ایک روزہ مارکسی اسکول کا انعقاد کیا گیا۔ پہلے سیشن کو جاوید رانجھانی نے چیئر کیا اور ’’جنوب ایشیا کا تناظر‘‘ کے موضوع پر بحث کا آغاز کامریڈ خادم کھوسو نے کیا جس کے بعد سوالات کی روشنی میں انور سیال، عزیز اللہ سومرو، زاہد زؤنر نے اظہار خیال کیا۔ سیشن کا سم اپ اعجاز بگھیو نے کیا۔ دوسرے سیشن کا موضوع ’’سوشلسٹ انقلاب کیا ہے؟‘‘ تھا جس پر لیڈ آف اللہ ورایو سومرو نے دی اور سوشلزم کے تاریخی پس منظر، ضرورت، اہمیت اور بنیادی فرائض پر روشنی ڈالی۔ سیشن کا سم اپ ضیاء زؤنر نے کیا۔ سکول کے اختتامی الفاظ جاوید رانجھانی نے ادا کئے اور محنت کشوں کا عالمی ترانہ گا کر سکول کا اختتام کیا گیا۔