| تحریر: ایلن ووڈز، ترجمہ: حسن جان |
’’یہ ایک احمق کی بتائی ہوئی شور اور غیظ و غضب سے بھری ہوئی کہانی ہے جس کے معنی کچھ بھی نہیں‘‘ (شیکسپیئر)
عراق پر امریکی حملے کے وقت وہاں کوئی القاعدہ نہیں تھی۔ اب پورا خطہ جہادی وحشیوں کے نرغے میں ہے۔ یہ براہ راست امریکی سامراج کی مداخلت کا نتیجہ ہے۔ واشنگٹن میں موجود سیاست دانوں کو کچھ نہیں پتا تھا کہ وہ کیا کرنے جارہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صدام حسین کی فوج اور پرانی ریاستی مشینری کو ختم کرکے انہوں نے خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑ دیا اور ایک ایسا خلا پیدا کیا جس میں پہلے داعش اور پھر انکا پرانا دشمن ایران داخل ہوگیا۔
امریکہ کو پھیلتی ہوئی جہادی وحشت کا سامنا ہے جو مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ، صحرائے صحارا سے لے کر نائیجیریا اور اس کے ہمسایہ ممالک نائجر، چاڈ اور کیمرون تک پھیل گئی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت اس خطرے سے کیسے نمٹے گی؟ فضا سے بمباری کرکے! امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے اور بلاشبہ جہادیوں کو خاصی ’’پریشانی‘‘ سے دوچار کیا ہے۔ لیکن یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ صرف بمباری سے جنگیں نہیں جیتی جاسکتی اور عراق اور شام جیسی جنگیں تو بالکل بھی نہیں۔ امریکہ کو میدان میں اتارنے کے لیے فوجیوں کی ضرورت ہے۔ لیکن امریکی فوجی نہیں۔عراق اور افغانستان میں شکستوں کے بعد امریکی عوام بیرونی فوجی مہم جوئیوں سے تنگ آچکے ہیں اور اب امریکی فوجیوں کو ایک اور جنگ میں جھونکنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہوں گے۔
اس مسئلے کو کس طرح سلجھایا جائے؟ کچھ لاعلاج رجائیت پسندوں نے اپنی امیدیں عراقی فوج سے وابستہ کی تھیں۔ لیکن یہ سب سے بڑی غلط فہمی تھی۔ (صدام کی ) عراقی فوج کو ختم کرکے امریکیوں نے خطے میں ایران کی طاقت کو روکنے والی واحد قوت کا خاتمہ کردیا۔ اب اس بکھری ہوئی قوت کی قابل رحم باقیات داعش یا کسی اور سے لڑنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ ان کے لڑنے کی نااہلیت پچھلی گرمیوں کو واضح ہوئی جب وہ موصل کو داعش کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خوفزدہ خرگوشوں کی طرح بھاگ گئے تھے۔ اب واشنگٹن میں بیٹھے خواتین و حضرات آہ بھر کر واحد قابل عمل راستے پر نکلے ہیں یعنی ایران کے ساتھ معاہدہ۔
امریکہ کواپنی پھیلائی گئی بربادی کا بہت دیرسے پتہ چلا ہے جو خود ان کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ امریکی عوام کی بیرونی مہم جوئیوں کی مخالفت کی وجہ سے اوباما دوبارہ مشرق وسطیٰ میں بڑی فوجی مداخلت نہیں کر سکا۔ یہی کچھ برطانیہ میں ہوا جہاں ڈیوڈ کیمرون شام پر بمباری (یعنی اسد کی حکومت پر بمباری ) کے لیے پارلیمانی اکثریت حاصل نہیں کرسکا۔ امریکی سامراج کی سفارتکاری کی نزاکت چینی کے برتنوں کی دکان میں ہاتھی کے گھسنے کی طرح ہے۔ ان سفارتی خرابکاریوں کی سب سے واضح شکل مشرق وسطیٰ میں امریکیوں کی پھیلائی ہوئی بربادی ہے۔ امریکی سامراج اور نیٹو میں اس کے ’’اتحادیوں‘‘ (یعنی اس کے تابعدار دم چھلے) کو اب ایک ناانتہائی نازک صورت حال کا سامنا ہے۔وہ دو راہے پر کھڑے ہیں اور اس دوران انہیں ہر قدم پر نئے اور ناقابل حل تضادات سے روبرو ہونا پڑ رہا ہے۔
روس کی مداخلت
روسیوں نے ہر قدم پر امریکیوں کو مات دی ہے۔ یوکرائن میں انہوں نے امریکیوں کو قبضے سے روکا اور بزور طاقت خود کو منوایا۔ مغربی اقتصادی پابندیاں پیوٹن کو خاطر خواہ کمزور نہیں کر سکیں۔ اس کے برعکس اس سے عارضی طور پر اس کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔اپنی اس طاقت سے پر اعتماد ہوکر روسی صدر نے امریکیوں کو چیلنج کر نے کا فیصلہ کیا اور اس کام کے لیے شام کا انتخاب کیا۔لیکن پہلے اس نے اقوام متحدہ میں حاضری دی۔ کچھ عرصہ پہلے ہی اوباما اور کیری، کریملن (روس کا صدارتی محل) میں موجود پیوٹن کے خلاف آگ اگل رہے تھے۔ بارہ مہینے پہلے یوکرائن کے مسئلے کے بعد، روسی لیڈر کو اچھوت کی طرح پیش کیا گیا جس سے سب نفرت کرتے تھے۔ لیکن اب اچانک پیوٹن اقوام متحدہ میں نمو دار ہوا اور سب کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ حتیٰ کہ وہ امریکی صدر کے ساتھ کھلے عام نمودار ہوااور مصافحہ کیا (اگرچہ زیادہ گرمجوشی سے نہیں )جس کی بہت تشہیر کی گئی۔
ظاہری طور پر پیوٹن کاروائی شروع کرنے سے پہلے معائنہ کرنا چاہتا تھا تاکہ امریکی صدر کے ارادوں کو بھانپ سکے۔ اس کا اولین مقصد اسد کو ایک قابل اعتماد روسی اتحادی کے طور پر اقتدار میں قائم رکھنا اور مغرب میں اسد کے اہم گڑھ (جہاں روس کے بیڑے بھی ہیں) کی طرف جہادیوں کی پیش قدمی کو روکنا ہے۔داخلی اور خارجی سطح پر پیوٹن کی پوزیشن خاصی مستحکم ہے۔اس کے برعکس اوباما ہے جسے شدید منقسم کانگریس، ایک غضبناک ریپبلکن اپوزیشن اور جنگوں اور بیرونی مہم جوئیوں سے بیزار عوام کا سامنا ہے۔اسے ایران کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے کیے گئے معاہدے کو بچانا ہے جس سے سعودی عرب، اسرائیل اور کانگریس میں اس کے ریپبلکن حمایتی شدید نفرت کرتے ہیں۔ روسی رہنما ماسکو اس یقین کے ساتھ واپس آیا کہ امریکی شام کے معاملے وہی کریں گے جو انہوں نے یوکرائن کے معاملے میں کیا، یعنی کچھ خاص نہیں کریں گے۔
روسیوں نے فوراً دمشق کو اپنے اسلحے اور ساز و سامان کی فراہمی تیز کردی ۔ایک ہفتہ پہلے انہوں نے داعش اور دوسرے ٹھکانوں پر تباہ کن بمباری کی۔ امریکی بمباری کے برعکس، جو بڑی حد تک غیر مؤثر تھی، روسی ایئر فورس نے دشمن پر تباہ کن اور بے رحم بمباری کی۔ عالمی سطح پر اس کے اثرات سیاسی زلزلے کے مترادف تھے۔
’’معتدل‘‘ اپوزیشن کی فرضی داستان
ایک دفعہ پھر امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں شام میں روسی مداخلت کی نوعیت اور اس کے مقاصد کو پہلے سے بھانپنے میں ناکام رہے۔ واضح طور پر سی آئی اے اسد کی فوج کو شکست دینے کے لیے جہادی قاتلوں کی حمایت میں اتنی مگن تھی کہ وہ ماسکو میں ہونے والے واقعات پر توجہ ہی نہ دے سکی۔ کانگریس نے اس شرمناک ناکامی کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ واشنگٹن احتجاج کر رہا ہے کہ روس نہ صرف داعش بلکہ ’’معتدل اپوزیشن‘‘ پر بھی بمباری کر رہی ہے جنہیں مغربی حمایت حاصل ہے اور جو مغرب میں شامی فوجوں پر حملے کر رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں زیادہ تر لڑائی حما میں مرکوز ہے جس کادارالحکومت اکثریتی سنی علاقہ ہے اور اس کا کنٹرول جنگ کے آغاز سے حکومت کے ہاتھوں میں رہا ہے۔یہ علاقہ بڑی آبادی والے مراکز جیسے شمال میں لتاقیہ، حمس، حما اور دمشق پر کنٹرول کے لیے اہم ہے۔ جہادیوں نے حالیہ دنوں میں حما کے گرد و نواح میں فوجی اعتبار سے اہم ’الغاب‘ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تاکہ اسد کے ساحلی گڑھ کی طرف پیش قدمی کی جاسکے۔ ایسا لگتا ہے کہ روسی حکمت عملی کا بنیادی مقصد اس علاقے کو مزید پیش قدمی سے بچانا ہے۔ جہادیوں کے دھڑوں کے اتحاد جیش الفتح نے بہار کے دنوں میں حملہ کرکے ادلب کے زیادہ تر حصے پر قبضہ کرکے حکومت کو صوبے سے بھاگنے پر مجبور کیا۔ پچھلے ایک ہفتے سے روسی بمباری نے اسی صوبے کو ہی ہد ف بنایا ہوا ہے۔
لیکن امریکیوں کا احتجاج سراسر منافقت پر مبنی ہے۔ یہ بات ہر کسی کو پتہ ہے کہ ترکی، سعودی عرب اور قطر مشرق میں داعش سے لڑنے کی بجائے مغربی علاقوں میں جہادیوں کی مالی معاونت کر رہے ہیں۔ واشنگٹن نے اس پر کبھی بھی احتجاج نہیں کیا کیونکہ سی آئی اے خود ان سرگرمیوں میں بھر پور انداز سے ملوث ہے۔ اس لیے اس منافقانہ منطق کی رو سے مغربی شام میں امریکیوں، ترکوں، سعودیوں اور قطریوں کی فوجی مداخلت ٹھیک ہے لیکن اگر ایران اور روس فوجی توازن کو برابر کرنے کے لیے مداخلت کریں تو یہ بات غلط ہے!
امریکی تربیت یافتہ اسد مخالف چھوٹے چھوٹے گروہ اتنے قلیل ہیں کہ ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔حقیقت یہ ہے کہ اسد کے خلاف لڑنے والے تمام گروہ ایک یا دوسری قسم کے رجعتی اسلامی بنیاد پرست ہیں۔ نام نہاد ’’معتدل‘‘ گروہ امریکہ کا بھیجے گیا اسلحہ القاعدہ کو سپلائی کرنے کے چینل کے طور پر کام کررہے ہیں۔ امریکیوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ پانچ ہزار ’’معتدل ‘‘ لوگوں پر مشتمل ایک لڑاکا فورس بنارہے ہیں لیکن اب انہوں نے قبول کیا کہ ان میں سے صرف پانچ باقی رہ گئے ہیں (اور یہ پانچ حضرات کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں، یہ بات ابھی تک ایک مکمل راز ہے)۔ بعد میں امریکیوں کو یہ احساس ہوا کہ یہ بہت ہی بری سرمایہ کاری تھی اور اب انہوں نے اس مہنگے اور مضحکہ خیز آپریشن کو ختم کردیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ شام میں ’’معتدل‘‘ اسلامی اپوزیشن نامی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ یہ ایک واضح جھوٹ ہے تاکہ مغربی رائے عامہ کو بیوقوف بنا کر انہیں شام میں ’’حکومت کی تبدیلی‘‘ پر آمادہ کیا جاسکے جو حالیہ دنوں تک امریکی سامراج کے اہم مقاصد میں سے تھا۔ سعودی شاہی خاندان میں دفاع اور سکیورٹی سے منسلک ایک اہم شخصیت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نام نہاد ’’جیش الفتح‘‘، نیا فوجی اتحاد جس نے ادلب اور شمالی شام کے بڑے حصے پر قبضہ کیا ہے، کو سعودی اور قطری حکومتیں اسلحہ اور حمایت فراہم کر رہے ہیں۔النصرہ فرنٹ اور احرارالشام، دو شدت پسند جہادی گروہ، اس اتحاد کے 90فیصد فوجیوں کو تشکیل دیتے ہیں۔ سعودیوں اور قطریوں نے ان کی ضروریات کے 40فیصد فنڈ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ باقی وہ خود پورا کریں گے۔
یہ کون لوگ ہیں؟ النصرہ فرنٹ کو القاعدہ سے منسلک تنظیم خیال کیا جاتا ہے جبکہ احرارالشام کے بارے میں بھی یہی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ القاعدہ سے زیادہ متاثر ہے ۔ احرارالشام کے تاسیسی رکن اور اعلیٰ عہدیدار، محمد بہایہ نے اس تنظیم سے منسلک سوشل میڈیا کے ایک پوسٹ میں بتایا ہے کہ وہ القاعدہ کا ایک اعلیٰ عہدیدار ہے۔ النصرہ اور احرارالشام نے القاعدہ سے اپنے رابطے ختم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ دونوں گروہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے داعش سے اپنے رابطے ختم کر دیئے ہیں تاہم احرارالشام نے ماضی میں اس کے ساتھ مل کر لڑائی بھی لڑی ہے۔
نظریاتی طور پر یہ گروہ داعش کی طرح ہی رجعتی نظریات کی نمائندگی کر تے ہیں۔ نام نہاد ’’اسد مخالف معتدل قوتیں‘‘انتہاپسند جہادی ہیں جن کے داعش سے اختلافات محض طریقہ کار پر ہیں، وحشت اور دہشت پر نہیں۔ یہ بھی انہی کی طرح شریعت کے نفاذ، عورتوں پر جبر، ہاتھ، پاؤں اور سر کاٹنے اور شام کو بربریت کی طرف دھکیلنے میں پیش پیش ہیں۔
نیٹو کا ’’رد عمل‘‘
روسی فضائی مہم واضح طور پر شمال مغربی شام میں متذکرہ بالا گروہوں کے خلاف شامی فوج کی پیش قدمی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ شامی حکومت کی فوج کے چیف آف سٹاف جنرل علی عبداللہ ایوب نے اعلان کیا، ’’ دہشت گرد گروہوں کو شکست دینے کے لیے ایک وسیع حملہ‘‘ کیا جا رہا ہے تاکہ اپوزیشن کے زیر انتظام علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا جاسکے۔ روسی مداخلت سے شامی فوج کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور انہوں نے روسی فضائی بمباری اور ایرانی حمایت سے زمینی حملے کا آغاز کر دیا ہے۔
امریکی اب گلہ کر رہے ہیں کہ روسی شام میں اپنے اہداف کے بارے میں ہمیں نہیں بتا رہے، حادثات کا خطرہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن روسی بے رحمی سے اپنے اہداف کو نشانہ بنارہے ہیں اور امریکی شکایتوں پر کان نہیں دھر رہے۔ بحیرہ قزوین میں روسی بحری بیڑے سے لمبے فاصلے تک داغے گئے میزائلوں کا شام میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کا منظر روس کی فوجی طاقت کا متاثر کن اظہار ہے۔
خالصتاً فوجی نکتہ نظر سے اتنی دور سے میزائل پھینکنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ شام کے اندربھی روسیوں کے پاس دشمن کے خلاف میزائل داغنے کے لیے کافی سہولیات موجود ہیں۔ یہ واضح طور پر ایک حربہ تھا (اور بہت کامیاب حربہ) تاکہ دنیا کو (اور خاص طور پر ترکی جیسے ملکوں کو) روس کی عسکری طاقت دکھائی جاسکے۔ اسی طرح روسی طیاروں کی ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی بھی خوفزدہ کرنے کے لیے تھی۔ گر آپ بھول گئے ہوں تو آپ کو بتاتے چلیں کہ ترکی نیٹو کا ممبر ہے (اگرچہ یہ شمالی بحرہ اوقیانوس یا بحرہ اوقیانوس کے کسی بھی حصے سے بہت دورہے )۔ اسی لیے اردگان فوری طور پر اپنے دوستوں اور اتحادیوں کے دروازے پر گیا تاکہ ترک خودمختاری کی اس خلاف ورزی کے خلاف احتجاج کیا جاسکے۔ اس بات کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا جاتا کہ ترک حکمران ٹولے اور ان کے سعودی اور قطری ڈاکو دوستوں نے سالوں سے منظم طریقے سے شام کی قومی خود مختاری کی خلاف ورزی کی ہے، کیونکہ اس بات کا ذکر سننے سے ان ڈاکوؤں کے اعصاب کو تکلیف ہوتی ہے۔
امریکی سیکرٹری دفاع ایشٹن کارٹر نے کہا کہ خطے میں موجود دوسری ریاستوں کو اطلاع دیئے بغیر روسی میزائل فائر کیے گئے جوشامی فضائی حدود میں موجود ایک امریکی ڈرون سے چند میل کے فاصلے سے گزر گئے۔ سیکرٹری دفاع نے قابل رحم انداز میں گلہ کیا ’’ ہم نے روسی فوج میں بہت زیادہ غیر پیشہ ورانہ رویہ دیکھا ہے۔ انہوں نے ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے بغیر وارننگ کے بحیرہ اوقیانوس سے کروز میزائل فائر کیے۔‘‘ اپنی مبینہ ’’ پیشہ ورانہ صلاحیت کی کمی‘‘ کے باوجود روسی فوج نے چند دنوں میں جہادیوں کو امریکیوں کی مہینوں کی کاروائی سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ اور اگر کارٹر کو فضائی ٹکر کی اتنی ہی فکر ہے تو وہ داعش کے خلاف اپنی فضائی کاروائی کا پلان روسیوں کے ساتھ شیئر کیوں نہیں کرتا؟ واشنگٹن اور برسلز کے شورشرابے، بیان بازی اور احتجاج کے جواب میں روسی انگلش سکولوں میں پڑھائی جانے والی یہ نظم نقل کرسکتے ہیں:
چھڑی اور پتھر سے شاید میری ہڈیاں ٹوٹ جائیں
لیکن الفاظ میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے!
امریکہ کے نیٹو اتحادیوں کا ’’اتحاد‘‘ کسی بیہودہ چوہے کی چیں چیں سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ جرمنی کے وزیر دفاع ارسلا فون ڈیر لین نے کہا کہ اگر روس نے شام میں داعش کے خلاف لڑنے والے اپوزیشن گروہوں کو ہدف بنا یا تو اسے یہ جاننا چاہیے کہ ’’روس داعش کو مزید طاقتور بنائے گا جو نہ اس کے اور نہ ہمارے مفاد میں ہے۔‘‘ لیکن اس طرح کی دوستانہ نصیحت کی ضرورت روسیوں کو نہیں ہے!
ویسٹ منسٹر (لندن) میں بیٹھے ہوئے چوہے بھی اس چیں چیں کے شورشرابے میں اپنی آواز ڈالتے ہیں۔ برطانوی وزیر دفاع مائکل فیلن نے سختی سے خبردار کیا ہے کہ روسی مداخلت ’’پہلے سے خراب صورت حال کو مزید خطرناک بنادے گی۔‘‘ فیلن نے یہ نہیں کہا کہ کس کے لیے خطرناک ہوگی لیکن اس کی بجائے اس نے اعلان کیا کہ برطانیہ، نیٹو ممالک میں تن تنہا، روس کو اس کے برے مقاصد سے روکنے کے لیے فیصلہ کن فوجی کاروائی کرے گا۔ وہ سو مزید برطانوی فوجی …شام میں نہیں…! ترکی میں بھی نہیں…! بلکہ بالٹک ریاستوں میں بھیجے گا۔ ان سو برطانوی فوجیوں (جو اتفاق سے لڑنے کے لیے نہیں بلکہ کسی کی تربیت کے لیے جارہے ہیں) کی موجودگی کس طرح شام یا بالٹک میں ’’روسی دباؤ کا راستہ روکے گی‘‘ یہ خود ایک پہیلی ہے جس کا جواب فیلن کے پراگندہ دماغ میں تلاش کرنا چاہیے۔ اگر حالات اتنے خراب نہ ہوتے تو یہ تمام باتیں ٹی وی کامیڈی شو کے لیے بہترین مواد بن جاتیں!
’’علاقائی اتحادی‘‘
حقیقت یہ ہے کہ داعش کو شکست دے سکنے والی واحد قوت روسی فضائی طاقت اور اسکے ساتھ زمینی محا ذ پر حزب اللہ، ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کو تہران کے خلاف اپنی سابقہ جارحانہ روش کو ترک کرنا پڑا اور ایران کے ساتھ اس کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے پابندیاں ہٹاکر ایک کمزور معاہدہ کرنا پڑا۔ یہ بلاشبہ واشنگٹن کے لیے ایک شرمناک پس قدمی اور تہران کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی تھی۔ ایران کے پاس اب عراق کا مؤثر کنٹرول، شام میں اہم اثر و نفوذ اور لبنان کا زیادہ تر حصہ بھی ہے جو طاقتور ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کا گڑھ ہے۔
اس نمایاں تبدیلی کی وجوہات کو تلاش کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ زمینی محاذ پر واشنگٹن کو شدت سے درکار بُوٹ (فوج) پر ’’میڈ اِن ایران‘‘ کا ٹھپہ لگا ہوا ہے۔ ہر کسی کو پتہ ہے کہ عراق میں ہونے والی لڑائی کو ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا اور پاسداران انقلاب لڑ رہے ہیں۔ بغداد میں موجود حکومت شدت سے ایران پر منحصر ہے۔ سعودی عرب اور خطے کے دوسرے ممالک میں یہ خوف موجود ہے کہ عراق ایران کے ایک صوبے میں تبدیل ہورہا ہے۔ امریکہ یہ نہیں چاہتا لیکن یہ سب امریکی کرتوتوں کا ہی منطقی نتیجہ ہے۔
ان تبدیلیوں سے امریکی خارجہ پالیسی کے لیے مزید پیچیدگیا ں پیدا ہوگئی ہیں۔ اس سے سعودی ناراض ہوگئے ہیں جو ایران کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں۔ ایران حوثی شیعہ ملیشیاؤں کی پشت پناہی کر رہاہے جو پورے یمن میں پھیل گئے اور عدن پر قبضہ کرکے سعودی گماشتے کو بھگا دیا۔ اس کے رد عمل میں سعودی عرب نے اپنی فوج کو باغیوں پر بمباری کرنے کا حکم دے دیا۔ اس نے ایک رد انقلابی اتحاد بنالیا ہے جو یمنی بغاوت کو خون میں نہلانا چاہتا ہے۔ انہوں نے ملک پر وحشیانہ انداز میں بمباری کی ہے، اس کے انفراسٹرکچر، سکولوں اور ہسپتالوں کو برباد کردیا اور شہریوں کی بڑی تعداد کو قتل کیا۔ مغرب کی ’’آزاد پریس‘‘ جو مستقلاً اسد کو اس کی بمباری کی وحشت پر تنقید کا نشانہ بناتی ہے، یمن اور دوسری جگہوں میں’’ہمارے سعودی دوستوں‘‘ کی برپا کی ہوئی قتل و غارت پر اپنا منہ مضبوطی سے بند رکھتی ہے۔
سعودی حکمران ٹولہ، جو پورے خطے میں رد انقلاب کا گڑھ ہے، جان بوجھ کر مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دے رہا ہے، اپنے خونخوار مقاصد کے لیے القاعدہ کو اسلحہ اور رقم فراہم کی جا رہی ہے۔ لیکن ان جان لیوا بمباریوں کے باوجود حوثیوں کو تباہ نہیں کیا جاسکا اور عمومی طور پر سعودیوں اور ان کے اتحادیوں کے خلاف آبادی کے بڑے حصے میں نفرت پائی جاتی ہے۔
سعودیوں نے پاکستان سے حوثی باغیوں کے خلاف ہونے والی فوجی کاروائی میں حصہ لینے کو کہا (انہوں نے عقلمندی سے انکار کردیا)، اس بات سے لگتا ہے کہ یمن میں زمینی کاروائی کا انجام بربادی ہوگا۔ یہ واشنگٹن کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس نے ہمیشہ رجعتی سعودی بادشاہت کی حمایت کی، ان کے تمام جابرانہ اقدامات کو غلامانہ انداز میں قبول کیا اور ریاض میں براجمان قابل نفرت جانوروں کی چاپلوسی کی، جیساکہ ہم نے شاہ عبداللہ کے جنازے پر ان کا رونا دھونا اور افسوس دیکھا۔
سعودی عرب کے حکمران ایران کے ساتھ معاہدے پر غضبناک تھے اور شام میں روسی مداخلت کے حوالے سے نیٹو اور امریکیوں کی بے عملی سے اور بھی زیادہ ناراض تھے۔سفارتکاروں کے مطابق وہ امریکہ سے ’’مایوس‘‘ ہوچکے ہیں۔ سعودی عرب اور قطر کے وزرا، جو اسد کے خلاف جنگ میں پارٹنر ہیں، اپنے اگلے اقدامات کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاض کے اشتعال کا عکس ہمیں 55ملاؤں اور ممتاز علمائے دین کی جانب سے دیئے گئے فتوے میں نظر آتا ہے جس میں تمام ’’سچے مسلمانوں‘‘ پر یہ زور دیا گیا کہ وہ اسد کی فوج اور ایرانی اور روسی فوجوں کے خلاف جنگ میں ’’تمام تر اخلاقی، مادی، سیاسی اور فوجی‘‘ حمایت کریں۔
شاہ سلمان اور اس کا ٹولہ اور ان کے خلیجی اتحادی روسی کاروائی کا راستہ روکنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ کس طرح سے اس کا راستہ روکیں گے؟ شاید شامی باغیوں کو اسلحہ اور پیسے بھیج کر؟ لیکن سعودی عرب، قطراور ترکی تو سالوں سے جہادی غنڈوں کو اسلحہ اور رقم بھیج رہے ہیں۔ لیکن اس بار مسئلہ یہ ہے کہ ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے والے بہت کم جہادی بچے ہوں گے کیونکہ روسی بم اور میزائل انہیں جنت واصل کرچکے ہوں گے۔
بوسیدہ سعودی حکومت آگ کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ سعودی عرب کی مظلوم شیعہ آبادی میں ایک شورش جنم لے رہی ہے اور سعودی بندوقوں کے جبر کا شکار بحرین کے غریب اور بے چین عوام ایک نئی بغاوت میں ابھر سکتے ہیں۔ یہی وہ اہم عوامل تھے جنہوں نے یمن کے واقعات کے حوالے سے سعودی ردعمل کا تعین کیا۔ لیکن یمن میں فوجی مداخلت کرکے سعودی عرب خود اپنی حکومت کو غیر مستحکم یا حتیٰ کہ ایک بغاوت کو اکسا رہا ہے۔
تضادات سے بھر پور ان حالات میں امریکی سامراج کو دو راہے کا سامنا ہے اور اسی عمل میں وہ نئے اور حتیٰ کہ بد تر تضادات میں الجھ جائیں گے۔ یہ سفارتی پیچیدگیاں اس بربادی کی مزید علامات ہیں جس میں امریکی سامراج نے مشرق وسطیٰ میں اپنے آپ کو الجھا دیا ہے۔ امریکہ کہتا ہے کہ وہ سعودی عرب کو اسلحے کی فراہمی تیز کر رہا ہے لیکن اسی لمحے اوباما انتظامیہ شدت سے تہران کو یہ پیغام بھیج رہا ہے کہ یمن کے معاملے میں وہ ایران سے پنگا نہیں لینا چاہتا۔ اس طرح کا سفارتی پھوہڑ پن امریکیوں کا خاصہ ہے۔
ترکی
سعودی عرب اور اسرائیل کے ساتھ ترکی خطے میں بڑی رد انقلابی قوت ہے۔ لیکن اردگان کی حکومت مستحکم نہیں ہے۔ دوسال پہلے پورے ترکی میں پھیلنے والی عوامی سرکشی حکومت کے لیے چتاونی تھی کہ اس کے دن گنے جا چکے ہیں۔ اُس وقت سے اردگان حکومت میں رہنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ اس کھیل کا ایک حصہ کردوں پر حملے کرکے قوم پرستی کو ہوا دینا ہے۔ دوسرا حصہ بیرونی مہم جوئی ہے، خاص طور پر شام میں۔ ان میں سے کوئی بھی امریکی سامراج کے مفادات سے میل نہیں کھاتا۔
اردگان کی رجعتی حکومت عملاً داعش کی پشت پناہی کر رہی ہے تاکہ اسد کو اکھاڑ پھینکا جاسکے اور شام پر ترکی کے قبضے کے منصوبے کو آگے بڑھایا جاسکے۔ انہوں نے جہادیوں کو اسلحہ اور رقم فراہم کی اور دوسرے ممالک سے آنے والے ہزاروں جہادی رضاکاروں کو نظر انداز کیا جو ترکی کے راستے شام میں داخل ہوتے ہیں جبکہ ترک حکام نے قصداً PKK (کرد پارٹی) کے جنگجوؤں کو سرحد پار کرکے کوبانی میں داعش سے لڑنے والے کردوں کی مدد کرنے سے روکا۔
روسیوں نے اپنے جنگی جہازوں کے ذریعے ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کرکے ترک لیڈروں کو وارننگ دی ہے۔ ترکی نیٹو کا رکن ہے اوراس نے اپنے اتحادیوں سے مدد کی اپیل کی ہے۔ نیٹو گلہ کرتا ہے، غصہ اور احتجاج کرتا ہے لیکن عملاً کچھ نہیں کرتا۔ درحقیقت امریکہ اور ترکی کے تعلقات بہت خراب ہوگئے ہیں۔ نائب صدر جو بائیڈن نے ہارورڈ یونیورسٹی میں ایک طالب علم کا جواب دیتے ہوئے قبول کیا کہ ترکی، سعودی عرب اور عرب امارات نے اسد کے خلاف لڑنے والوں پر کروڑوں ڈالر اور لاکھوں ٹن ہتھیار نچھاور کیے۔ اس نے کہا کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ النصرہ، القاعدہ اور دنیا کے دوسرے حصوں سے آنے والے شدت پسند جہادیوں کو یہ ہتھیار ملے۔
بائیڈن نے بعد میں ترکی اور عرب امارات سے معذرت بھی کی کہ اس کی باتوں کا مطلب القاعدہ اور النصرہ کو قصداً اسلحے اور رقم کی فراہمی نہیں تھی۔ یقیناًشامی جہادیوں کی ترک پشت پناہی قصداً تھی اور بائیڈن کی کھلے عام مذمت بھی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت اور ریاست، اور اتحادی کہلائے جانے والے ممالک کے درمیان گہری چپقلش موجود ہے۔ درحقیقت ترکی خطے میں اپنے مقاصد کو آگے بڑھا رہا ہے اور سرگرمی سے شام میں، بالخصوص مغرب میں، جہادیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ یہی بات سی آئے اے کے لیے بھی درست ہے جو اپنا کھیل کھیلنے سے باز نہیں آتی، اس بات سے قطع نظر کہ وائٹ ہاؤس میں کون بیٹھا ہوا ہے۔
روسی مداخلت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ترکی سے نیٹو کے پیٹریاٹ اینٹی ایئر کرافٹ میزائلوں کو نکالا جا رہاہے۔ یہ اردگان پر امریکی عدم اعتمادی کا اظہا رہے۔ اسی وجہ سے ہی امریکی ہتھیاروں کی ایک کھیپ کو ’’جدید بنانے کے لیے‘‘ واپس امریکہ بھیجا گیا۔ جرمنی نے بھی شام میں کردوں پر ترک فضائی حملوں کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنے ہتھیار نکال لیے اور اس سال کے آخر تک سپین بھی اپنے میزائل ترکی میں نہیں رکھے گا۔
’ ’یہ جرم سے بھی بد تر ہے، یہ ایک غلطی ہے۔‘‘ یہ الفاظ لوئیس انٹونی کے ساتھ منسلک کیے جاتے ہیں جو حالیہ دہائیوں میں امریکی سامراج کی پالیسیوں کے لیے موزوں ترین جملہ ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی تعلقات پہلی دفعہ اس طرح پرانتشار ہیں۔سوویت یونین کے گرنے کے بعد امریکی سامراج کے جارحانہ توسیع پسندانہ رجحانات نے ہر طرف انتشار پھیلا دیا ہے۔ بلقان، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، شمالی افریقہ، پاکستان اور حالیہ دنوں میں افریقہ میں بھی۔ اب اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتنے کا وقت آگیا ہے۔ عالمی تعلقات میں عدم استحکام عالمی سطح پر سرمایہ داری کے زوال کی نشانی ہے۔
دوسری جنگ عظیم سے پہلے ٹراٹسکی نے پیش گوئی کی تھی کہ امریکہ غالب سامراجی طاقت کے طور پر ابھرے گا لیکن اس کی بنیادوں میں بارود بھر اہوگا۔ آج یہ بات سچ دکھائی دے رہی ہے۔ عالمی سطح پر ناقابل برداشت حالات ایک کے بعد دوسرے سماجی دھماکے کو جنم دیں گے ۔ ہم ایک نئے دور میں داخل ہوگئے ہیں، جنگوں، انقلابات اور رد انقلابات کا دور۔ سماج میں بنیادی تبدیلی ہی واحد حل ہے۔ جلد یا بدیر ایک یا دوسرے ملک میں محنت کش طبقہ طاقت اپنے ہاتھوں میں لینے میں کامیاب ہوجائے گا۔ یہی انسانیت کے روشن مستقبل کی واحد امید ہے۔
متعلقہ:
مشرق وسطیٰ: داعش اور اردگان کا گٹھ جوڑ بے نقاب!