| تحریر: آدم پال |
ٹی وی چینل اور اخبارات خبروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ سیاستدانوں کی بد عنوانی، مہنگائی، لوڈ شیڈنگ اور اس کے خلاف احتجاج، گرمی کی شدت سے مرنے والوں کی خبریں ہی خبریں ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ رینجرز اور مختلف دفاعی اداروں اور ان کے سربراہان کی پھرتیوں کی خبریں اور پھر مختلف سیاسی پارٹی کے سربراہوں اور وزیروں مشیروں کے بیانات اور ملک کی ترقی اور عوام کے وسیع تر مفاد کے لیے اپنی خدمات کی تکرار اورپھر اس سب پر ملک دشمن قوتوں کی کاروائیوں کی خبریں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پارٹیوں کی اندرونی لڑائیوں کی خبریں اور طبقہ امرا سے تعلق رکھنے والوں کی مختلف پارٹیوں میں قلابازیاں لگانے کی خبریں۔ ان سب خبروں میں حالیہ دنوں میں ہونے والی انتخابات کی تکرار بھی سننے والوں کے کان پھاڑ رہی ہے۔ کبھی کہیں ضمنی انتخاب کا شور، کہیں بلدیاتی انتخاب کا غل غپاڑہ اور کبھی سینٹ اور دوسرے انتخابات عوام کی حالت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کہیں ’’شفاف انتخابات‘‘ اور آئین کی شقوں کو عوام کے درد کا مداوا بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور کبھی آئندہ الیکشنوں میں کامیابی کے لیے بھاگ دوڑ نظر آتی ہے۔ انہی سب بوسیدہ اور بد بو دار خبروں پر ہونے والے غلاظت سے بھرے ہوئے تجزیے اور کالم بھی رائے عامہ بنانے کا اپنا تئیں دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں۔ سماج اور اس کی صحافت و سیاست کی حالت اتنی زوال پذیر ہوگئی ہے کہ پھکڑ کرنے والے اور جگتیں لگانے والے بھی دانشور اور سیاسی تجزیہ نگار بن گئے ہیں۔ سیاست دان اور حکمران طبقات کے دیگر افراد مسخرے ہیں یا مسخرے سیاست دان، فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ جیسے کہ یہ فرق کرنا کہ اداکار مولوی بنا ہوا ہے یا مولوی اداکاری کر رہا ہے۔
لیکن اس تمام بحث سے محنت کش عوام کی زندگیوں اور ان کے اس سماج کے متعلق خیالات اور جذبات کا ادراک حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ سامراج اور مقامی حکمرانوں کے گماشتہ دانشور سمجھتے ہیں کہ محنت کش عوام ان کے تجزیوں کی روشنی میں اپنی سیاسی وابستگی کا تعین کرتے ہیں جو ان کی خوش فہمی ہے۔ محنت کش عوام سب سے زیادہ اپنی زندگی کی تلخیوں سے سیکھتے ہیں اور انہی تجربات کے تحت اپنی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ اسی طرح ان دانشوروں اور لیڈروں کی خیالی دنیا کے برعکس محنت کش حقیقی دنیا میں زندگی بسر کرتے ہیں اور ٹھوس مادی حقائق سے نتائج اخذ کرتے ہیں۔
آج اگر سطح پر نظر دوڑائی جائی تو واضح ہے کہ ملک میں محنت کش طبقے کی کوئی بڑی تحریک موجود نہیں۔ بڑے بڑے اداروں پرنجکاری کے بد ترین وار بھی محنت کش طبقے کی کوئی ملک گیر تحریک کو جنم نہیں دے سکے۔ اسی طرح انتہائی کم اجرت اور بد ترین حالات میں مہنگائی کے بوجھ تلے کام کرنے کے باوجود محنت کش کسی وسیع تحریک میں ابھر نہیں رہے۔ طلبہ تحریک کی پاکستان میں عظیم روایات ہیں لیکن آج فیسوں میں کئی گنا اضافے، تعلیمی اداروں کی لوٹ سیل طرز پر نجکاری، بد ترین بیروزگاری اور طلبہ یونین پر پابندی کے باوجود کوئی تحریک موجود نہیں۔ اسی طرح کسانوں پر بد ترین حملوں کے باوجود بکھری ہوئی چند تحریکیں تو موجود ہیں لیکن ایک مربوط ملک گیر تحریک سطح پر نظر نہیں آ رہی۔ مختلف قوم پرست جماعتوں کی غداریوں کے بعد قومی آزادی کی تحریکیں بھی پسپائی کا شکار نظر آتی ہیں۔
ایسے میں تمام تر توجہ سطح پر موجود غلاظت کی جانب مبذول کروائی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف کو ایک ابھرتی ہوئی قوت بنا کر پیش جا رہا ہے جو ن لیگ کی ’مضبوط‘ حکومت کے خلاف بر سر پیکار ہے جبکہ ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور کچھ مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کو ساتھ ملا کر پارلیمنٹ کے سرکس سے عوام کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ محنت کشوں کو مسلسل یہ یقین دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پارلیمنٹ میں موجود یہ مسخرے ان کے نمائندے ہیں جنہیں انہوں نے خود’ منتخب‘کیا ہے۔ اس سرکس کے موازنے میں پھر آمریت کو اکسیر کے طور پر پیش کرنے والے حکیم نما دانشوروں کی بھی کمی نہیں جو فوجی جرنیلوں کی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور ملکی خزانے کی بندر بانٹ کو نظر اندازکر کے ان کی حاکمیت کا رستہ ہموار کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسے عسکری دانشور اپنے معاوضے کا حق ادا کرتے ہوئے سپہ سالار کو فرشتوں سے بھی نیک سیرت ثابت کرنے میں کسر نہیں چھوڑتے۔ ملک کے بجٹ کا بڑا حصہ کھا جانے والے اورپراپرٹی کا کاروبار کرنے والے اس نام نہاد دفاعی ادارے کی خدمت کر کے زمین کے چند ٹکڑوں کے عوض اپنی چرب زبانی بیچنے والوں کی یہاں کبھی کمی نہیں ہوئی۔ جب ضیا الباطل کے دور میں سیاسی کارکنوں پر کوڑے برسائے جا رہے تھے اور پھانسیاں دی جا رہی تھیں، اس وقت بھی ایسے کاسہ لیس اپنے امیر کی عظمت کے گن گا رہے تھے اور آج جب فوج کی نگرانی میں بلوچستان سے لے کر کراچی تک قتل و خون کا بازار گرم ہے، اس وقت بھی یہی عمل دہرایا جا رہا ہے۔
لیکن سنجیدہ سیاسی اور نظریاتی کارکنان کے لیے اہم ہے کہ وہ سطح سے نیچے پنپنے والے تضادات کو جانیں اور ان کے تناظر کا تعین کریں۔ اس وقت یہ ملک اور یہ پوری دنیا ایک اہم ترین تبدیلی سے گزر رہے ہیں۔ پوری دنیا میں ایک عہد ختم ہوچکا ہے اور ایک نیا عہد انگڑائی لے کر بیدار ہو چکا ہے جس کے اثرات واضح طور پر پاکستان میں بھی موجود ہیں۔ سوویت یونین کے انہدام کا عہد، چین کے سرمایہ داری کے جانب سفر کا عہد، امریکی سامراج کی عراق، افغانستان سمیت پوری دنیا میں غنڈہ گردی کا عہد، عالمی معیشت کی مصنوعی ترقی کا عہد، امریکہ کی سعودی عرب سے دوستی اور ایران سے دشمنی کا عہد اب ماضی بن چکا ہے۔ موجودہ عہد عالمی معیشت کے بد ترین زوال اور اس کے نتیجے میں ابھرنے والی تحریکوں اور بہت بڑی تبدیلیوں کا عہد ہے۔ 2008ء میں جس عالمی معیشت کے بحران کا آغاز ہوا تھا آج وہ پہلے سے کہیں زیادہ گہرا اور وسیع ہو چکا ہے۔ 2011ء میں ابھرنے والے عرب انقلاب نے جن ریاستوں کی بنیادوں کو ہلایا وہ آج بھی کانپتے ہوئے ٹوٹ کر بکھر رہی ہیں۔ عراق، لیبیا، شام، یمن کی ریاستوں کے انہدام کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی دیگر ریاستیں بھی شدید تضادات کا شکار ہیں جو تیزی سے پھٹنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ سعودی عرب کے شاہی خاندان کے داخلی تضادات سے لے کر اس کے ایرنی ملاؤں سے سامراجی تضادات اور اسرائیلی حکمرانوں سے محبت بہت جلد مزید ہولناک شکلیں اختیار کرے گی۔ چین میں محنت کش طبقہ انگڑائی لے رہاہے اور چین کی معاشی ترقی کا ’معجزہ‘ اب اپنے معکوس میں بدل چکا ہے۔ یورپ میں یوکرائن کی ریاست کے انہدام کے بعد یونان کی یورو سے علیحدگی کا سفر پورے براعظم میں ہیجان برپا کر رہا ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں اہم سیاسی تبدیلیاں بھی اپنا اظہار کر رہی ہیں جس میں پرانی روایتیں دم توڑ رہی ہیں اور نومولود پارٹیاں وسیع تر عوامی حمایت لے کر حکومتیں بنا رہی ہیں۔
اس صورتحال میں پاکستان خطے اور پوری دنیا میں ہونے والے تبدیلیوں سے مبرا نہیں۔ سطح پر نظر آنے والا تحریک کا سکوت ایک بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ لیکن اس دوران پورے سماج میں بہت اہم بنیادی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں جن کا اظہار صرف ایک تحریک کی صورت میں ہی سطح پر ہو سکتا ہے۔ اس تبدیلی میں ایک اہم عنصر تمام تر پرانی مروجہ سیاست کی متروکیت ہے۔ سطح پر منڈلانے والی تمام تر سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادتوں کو عوام رد کر چکے ہیں اور کسی بھی حوالے سے ان سے کوئی امید وابستہ نہیں رہی۔ انتہائی دائیں بازو کی نیم فاشسٹ ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام جیسی مذہبی جماعتوں سے لے کر پیپلز پارٹی، اے این پی اور لبرل قوم پرست جماعتوں تک، سب کے نیچے سے ان کی حمایت تیزی سے سرکتی جا رہی ہے۔ ضیا الباطل کے تاریک عہد میں جب پورا سماج رجعت کی لپیٹ میں تھا اس وقت درمیانے طبقے کی بہت سے پسماندہ پرتوں نے ایم کیوایم سمیت مذہبی دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کی تھی۔ اسی حمایت کی بنیاد پر ان جماعتوں کو مختلف علاقوں میں ریاستی آشیر باد کے ساتھ غنڈہ گردی کی کھلی اجازت دی گئی۔ لیکن آج ان جماعتوں کا جو حال ہو رہا ہے وہ واضح کرتا ہے کہ درمیانے طبقے کی ان پسماندہ پرتوں نے بھی ان جماعتوں کی حمایت سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے جس کے باعث ان کی قیادتیں فٹ بال کی طرح ایک انتہا سے دوسری تک لڑھک رہی ہیں۔ یہی حال فرقہ پرور دہشت گرد تنظیموں کا ہے۔ ریاستی پشت پناہی سے چلنے والی ان جماعتوں کی بد ترین غنڈہ گردی اور قتل و غارت کے باوجود سماج کی پسماندہ ترین پرتوں میں بھی فرقہ وارانہ تعصب کو وہ بنیادیں نہیں مل سکیں جو ماضی میں ملتی رہی ہیں۔ ریاست کے مختلف دھڑے اس تعصب کو پوری شدت سے سماج پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پسماندہ پرتوں میں بھی انہیں زرخیز زمین اور وسیع حمایت نہیں مل رہی۔ انہی فرقہ وارانہ، نسلی، لسانی اور دیگر تعصبات کے ذریعے ہی ریاست اور حکمران طبقات محنت کش طبقے کی جڑت کو کاٹتے ہیں اور ان کی تحریکوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔
ایسے میں محنت کش طبقہ ریاست کے حملوں کے خلاف جن جماعتوں کو ذریعہ اظہار بناتا تھا وہ بھی بد عنوانی اور سامراجی گماشتگی کی اندھی کھائی میں غرق ہو چکی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں محنت کش طبقے پر جو بد ترین حملے کیے وہ محنت کش طبقے کے شعور کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی تھے۔ اسی کے ساتھ سندھ میں لوٹ مار کا بازار گرم کیا گیا جس کی قیمت تھرپارکر میں بھوک سے مرنے والے بچوں اور کراچی میں گرمی اور پیاس سے مرنے والے سینکڑوں محنت کشوں نے چکائی ہے۔ اپنے جنم پر روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والی پارٹی نے اپنے قریباً نصف صدی کے سفر میں عوام کو باقی سب کچھ بھلا کرپانی کا نعرہ لگانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس ملک کے بد نصیب محنت کش عوام اتنی قربانیاں دینے اور کٹھن جدوجہد کے بعد اب 1967ء سے بھی پیچھے کھڑے ہیں جب تاسیسی دستاویزات لکھتے وقت کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ پانی جیسی ہر وقت دستیاب شے کے لیے بھی نعرہ لگ سکتا ہے۔ سندھ میں ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی نجکاری نے رہے سہے خستہ حال ڈھانچے کے بھی خاتمے کا عندیہ دے دیا ہے۔ مزدوروں کے حقوق کی علمبرداری کا دعویٰ کرنے والے اس پارٹی کے ’’زیرک اکابر‘‘ سینٹ کی چیئرمینی اور دیگر عہدوں کے عوض اپنی تمام تر غیرت اور حمیت کاسودا پہلے ہی کر چکے ہیں۔
وہ جن کا شجرِ انا آندھیوں میں بھی نہ گرا
بابِ ہوس کھلا تو ٹکروں پہ پل پڑے
ایسے میں محنت کش طبقے سے توقع کرنا کہ وہ ان بد عنوان لٹیروں کی حمایت میں دوبارہ باہر نکلیں گے یا اپنے مسائل کے حل کے لیے وہ ان سے کوئی امید رکھتے ہیں، بیوقوفی ہو گی۔ زرداری نے فوج کے ساتھ کاروباری تنازعات کے باعث جوش خطابت دکھانے کی کوشش کی جسے میڈیا نے اپنی دکانداری کے لیے خوب اچھالا لیکن حقیقت یہ ہے کہ محنت کش اس تمام تر زردسیاسی افق سے تنگ آ چکے ہیں اور ان کے لیے یہ تمام تر تنازعات غیر اہم ہیں۔
ایسے میں تحریک انصاف بھی کسی قسم کی عوامی حمایت لینے سے قاصر ہے اور اس سرکس میں اپوزیشن کی خالی جگہ پر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری پارٹیوں کے بچھے کھچے ظالم جاگیردار اور وڈیرے، منافع خور اور بد عنوان سرمایہ دار، قبضہ مافیا کے سرغنہ اور منشیات کا کاروبار کرنے والے تمام تر لوٹ مار میں اپنا حصہ لینے کے لیے اس پارٹی کو ذریعہ بنا رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سماج کے کسی بھی طبقے کی وسیع پرت نے اس کی حمایت نہیں کی۔ محنت کش طبقے کے لیے اس پارٹی کے پاس نہ تو کوئی پروگرام ہے اور نہ محنت کشوں کے لیے اس میں کوئی امید۔ درمیانے طبقے کے غیر سیاسی طلبہ کو آغاز میں متوجہ کرنے والی یہ پارٹی اپنی نئی شکل میں اب ان کے لیے بھی ناقابل قبول ہو چکی ہے۔ کرکٹ میچ کی طرز پر سیاست کا معصوم خواب دیکھنے والے یہ طلبہ منشیات فروشوں، قبضہ گروپوں اور پیشہ ور لوٹوں کی پارٹی کے عہدوں اور پختونخواہ حکومت میں ٹھیکوں کی لڑائی سے زیادہ متاثر نہیں ہو سکے۔
یہ پارٹی اور اس سے ملحقہ اداکار عوام کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ اگر ملک میں شفاف انتخابات کروا لیے جائیں تو ان کے حقیقی نمائندے منتخب ہو کر ان کی خدمت کریں گے۔ لہٰذا انہیں تمام مسائل بھول کر شفاف جمہوریت کے حق میں تحریک انصاف کا حصہ بننا چاہیے۔ محنت کش طبقے نے شفاف اور غیر شفاف الیکشنوں کے ڈرامے اور آئینی شقوں کی بحث کو واضح طور پر رد کیا ہے۔ محنت کش عوام واضح طور پر جانتے ہیں کہ یہ الیکشن کروڑوں روپے کا کاروبار ہے جس میں وہی کامیا ب ہو گا جس نے بد ترین جرائم اور بد عنوانی سے اتنی بڑی رقم جمع کر رکھی ہو گی۔ اور بدلیاتی الیکشن سے لے کر سینٹ تک اس کاروبار میں حصہ لینے والے امیدواروں کا حتمی مقصد بھی اپنی دولت میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے محنت کش عوام اپنے ووٹ کا صحیح استعمال چند سو روپے یا سیوریج وغیرہ کی مرمت کے عوض کر دیتے ہیں۔ اس نظام اور اس کی ’’جمہوریت‘‘ کی یہی اوقات ہے۔ 1970ء کے انتخابات گواہ ہیں کہ جب محنت کشوں اور نوجوانوں کو یقین تھا کہ ان کے ووٹ سے تبدیلی آ سکتی ہے تو انہوں نے کسی تھانے کچہری کے ڈر، خوف یا روپے پیسے اور دیگر مفادات کے لالچ میں ووٹ نہیں دیا تھا بلکہ اسے ایک تبدیلی کے اوزار کے طور پر استعمال کیا تھا۔ آ ج کسی تحریک کی عدم موجودگی میں الیکشنوں کے نتائج خود حکمران اپنی مرضی سے طے کرتے ہیں اور کرائے کے تجزیہ نگار ان نتائج کے ذریعے عوام کی پسند و ناپسند کے جھوٹے تجزیے کرکے مختلف سیاسی پارٹیوں کے قد ماپتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام اس انتخابی ناٹک سے مکمل طور پر بیزار ہو چکے ہیں اور اس میں انہیں کوئی امید نہیں۔
اس ملک میں ابھرنے والی کوئی بھی حقیقی تحریک ان تمام تر جھوٹے ووٹ بینکوں کا پول کھول دے گی اور سیاسی افق پر موجود گزشتہ عہد کی ان تمام پارٹیوں کو کوڑے دان میں پھینکے گی۔ ایسے میں تحریکوں کے دوران جو نئی سماجی ترتیب بنے گی اس میں نئی پارٹیوں کے ابھرنے کے بڑے پیمانے پر امکانا ت موجود ہیں۔ کوئی بھی ابھرنے والی تحریک داخلی تضادات سے بھی بھری ہوتی ہے اور سماج کی طبقاتی تقسیم، دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی پارٹیوں کی شکل میں اپنا اظہار کرتی ہے۔ ایسے میں جہاں بڑے پیمانے پر بائیں بازو کی پارٹیوں کے ابھرنے اور عوامی حمایت حاصل کرنے کے امکانات موجود ہیں وہاں دائیں بازو پر بھی نئی بنتر اور سیاسی عمل کا اظہارممکن ہے۔ لیکن اس تمام تر صورتحال کو مصنوعی اور میکانکی انداز میں دیکھنے کی بجائے جدلیاتی انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نئی سیاسی قوتوں کا ابھار ناگزیر طور پرجمود کی کیفیت کے خاتمے اور تحریک کے ابھرنے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اور پھر ا ن قوتوں کے کردار کا تعین سماج کی مخصوص کیفیت کرے گی وہاں یہ عنصر بھی اہم ہے کہ تحریک سماج کے کس حصے سے ابھرتی ہے۔ دوسری جانب سیاسی خلا کی موجودگی میں مزدور تحریک اور طلبہ تحریک بھی تذبذب کا شکار رہے گی۔ نجکاری اور مزدور دشمن کاروائیوں کے خلاف اس وقت بھی بکھری ہوئی تحریکیں موجود ہیں لیکن ان کے پاس نہ تو اس لڑائی کو لڑنے اور فتح یاب کرنے کے لیے کوئی نظریاتی بنیادیں موجود ہیں اور نہ ہی ایسا کوئی سیاسی پلیٹ فارم ہے جہاں وہ اپنے غم و غصے اور حکمرانوں سے نفرت کا اظہار کر سکیں۔ اسی طرح طلبہ تحریک بھی ابھرنے کے لیے بیتاب تو ہے لیکن بغاوت کا کوئی استعارہ، کوئی نشانِ منزل یا چراغِ راہ ان کی راہنمائی کے لیے موجود نہیں۔ ایسے میں یہ کہنا بھی سراسر غلط ہو گا کہ تحریک اس وقت تک ابھر ہی نہیں سکتی جب تک کوئی قیادت فراہم نہ ہو بلکہ تحریکیں اور انقلابات اپنی قیادتیں خود تراشتے ہیں۔ میڈیا پر قیادت کی ہانڈی پکا کر تحریکوں کے منہ میں انڈیلی نہیں جا سکتی بلکہ تحریک کے مد و جزر سے گزر کر ہی کوئی بھی انقلابی قیادت تعمیر ہوتی ہے۔
ایسے میں جمہوریت کی بساط لپیٹ کر آمریت کے ذریعے بکھرتی ہوئی ریاست اور ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کی آپشن بھی سامراجی آقاؤں اور یہاں کے حکمران طبقات کے پاس کسی حد تک موجود ہے۔ لیکن ریاست کی شکست و ریخت اور خود دفاعی اداروں کی داخلی خونریزخانہ جنگی کے باعث اس کی کامیابی کے امکانات انتہائی معدوم ہیں۔ پہلے بھی متعدد دفعہ اس بوسیدہ اور خستہ حال سماج پر آمریتوں کے ذریعے ریاست کے جبر کو قائم رکھا گیا۔ کھوکھلی ہو چکی سیاسی پارٹیوں اوران کی تعفن زدہ قیادتوں کی ناکامی کا متبادل جرنیلوں کے کاندھوں پر پیتل کا مزید بوجھ ڈال کر فراہم کرنا اب اس نظام میں ممکن نہیں رہا۔ اس سیاسی افق کے زوال اور حکمرانی کے بحران کے ساتھ اس ریاست کے مستقبل کا سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ عالمی سیاست و معیشت میں آنے والے مزید ہولناک زلزلوں سے اس نحیف ریاست اور دیوالیہ معیشت کو بچائے رکھنا طویل مدت تک ممکن نہیں ہو سکے گا۔ ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں جاری فرقہ وارانہ خونریزی یمن میں فوج منگوانے کے مطالبے کے ساتھ یہاں پہلے ہی پہنچ چکی ہے۔ لیکن یمن کا محاذ آخری نہیں۔ موجودہ کیفیت میں بہت سے نئے محاذ کھلنے والے ہیں۔ اس ریاست کا المیہ ہے کہ اس کے پاس اپنی خارجہ وداخلہ پالیسی کا تعین کرنے کے لیے کوئی نظریاتی بنیاد بھی نہیں بچی۔ ’’امت مسلمہ کی وحدت‘‘ یمن، شام اور عراق میں پارہ پارہ ہو چکی ہے۔ جبکہ سعودی عرب اور ایران سامراجی مفادات کے لیے اسرائیل اور امریکہ کے سامنے سر نگوں ہیں۔ پاکستانی حکمران چینی آقاؤں سے خدمت کا معاوضہ طلب کرنے کے لیے سرگرم ہیں اور خود پاکستانی قوم پرستی کی جگہ اس بھوک، بیماری، بیروزگاری، لوڈشیڈنگ اورغربت کے سماج میں ختم ہو چکی ہے۔
ایسے میں سیاسی پارٹیوں کے قائد، عسکری دانشور، کرائے پر دستیاب صحافی وتجزیہ نگار جب گزرے ہوئے عہد کے رٹے رٹائے جملوں کی جگالی کرتے ہیں تو وہ اس سماج کے کسی بھی حصے کو متوجہ نہیں کر پاتے۔ اس نئے عہد کی سیاست اور صحافت کے لیے نئے نظریات‘ لائحہ عمل اور طریقہ کار کی ضرورت ہے۔ یہ سماج جس کیفیت میں داخل ہو چکا ہے اب اس کی روش سے ہم آہنگ ہونے کے لیے پرانے تمام طریقے فرسودہ ہو چکے ہیں۔ اس سیاسی حبس اور جمود کی کوکھ سے نکلنے والی نئے عہد کی تحریکیں سماج کی نئی کیفیت سے مطابقت رکھنے والی سیاسیقوتوں اور قیادتوں کو بھی جنم دینے کی جانب بڑھیں گی۔ لیکن اس عمل میں اس فرسودہ نظام کی متروکیت اور نئے معاشی وسماجی نظام کے نظریات ہی سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اصلاح پسندی کے تمام تر نظریات کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اور بھوک، بیماری، بیروزگاری اور تمام بنیادی ضروریات کی فراہمی کی مکمل یقین دہانی کروانے والے نظریات ہی عوام کے وسیع تر حصوں کے دلوں میں جگہ بنا پائیں گے۔ اس نظام میں رہتے ہوئے کسی بہتری کے امکان کی گفتگو کو بھی اب سخت نفرت سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ سماج ایک بہت بڑی تبدیلی کو پکار رہا ہے۔ اس تبدیلی کے رستے میں موجود تمام تر پرانے ریاستی ڈھانچے اور اس کے زیر سایہ سیاست لڑکھڑا رہی ہے۔ سطح کے نیچے ایک تحریک پنپ رہی ہے جو جلد یا بدیر اپنا اظہار کرے گی۔ اس تحریک کی قیادت وہی کرے گا جو اس نئے عہد کے نظریات اور آرزوؤں سے لیس ہو گا۔ درحقیقت یہ عہد سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام اور خاتمے کا عہد ہے۔ اس نظام کو دفن کرنے کے لیے ان نئی تحریکوں کو سوشلسٹ انقلاب کی منزل تک لے جانا ہوگا۔ ایسا صرف ایک مارکسی نظریات سے لیس اجتماعی قیادت پر مبنی انقلابی پارٹی ہی کر سکتی ہے جومحنت کش طبقے کی تحریکوں میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے وسیع تر عوامی حمایتکو اپنے دامن میں سمیٹ لے!
متعلقہ: