کراچی میں ایک روزہ مارکسی سکول

| رپورٹ: PYA کراچی |
مورخہ 31 مئی بروز اتوارکراچی میں ایک روزہ مارکسی سکول کا انعقاد کیا گیا۔
11124920_855218064555928_370240136_nسکول کا پہلا سیشن ’’ایران جدید تاریخ اور تناظر‘‘ پر تھا جس کو چیئر ماجد میمن نے کیا اور فارس راج نے لیڈ آف دی۔ فارس راج نے پہلوی خاندان کی حکومت اور عوام کی معاشی صورت حال سے جنم لینے والے حالات اور تحریک کے کردار کو واضح اور موجودہ عہد میں مذہبی ریاست کے کردار کی بھی وضاحت کی۔لیڈ آف کے بعد فیاض چانڈیو نے امریکہ اور ایران کے موجودہ معاہدے اور اس کے خطے پر اثرات کو موضوع بحث بنایا۔ اس کے بعد لیاقت کلمتی نے ایران کی موجودہ معاشی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے افراط زر اور عوام کے حالات کو واضح کیا۔ تصور قیصرانی نے مذہبی ملائیت کی رجعت اور جبر پر بات رکھی۔ پارس جان نے تودہ پارٹی کی قیادت کے کمزور نظریاتی فیصلوں کو زیر بحث لاتے ہوئے بتایا کہ کس طرح تودہ پارٹی میں نظریاتی بحران نے خمینی کو اقتدار میں آنے کا موقع دیا۔ اس سیشن کا اختتام فارس راج نے بحث کو سمیٹتے ہوئے کیا۔

کھانے کے وقفے کے بعد دوسرا سیشن ’’پہلی عالمی جنگ‘‘ کے موضوع پر تھا جس کو رستم نے چیئر کیا جبکہ ظہیر بگھیو نے موضوع پر بحث کا آغاز کیا۔ لیڈ آف میں ظہیر بگھیو نے بتایا کہ کس طرح زائد پیداوار کا بحران پہلی عالمی جنگ کی وجہ بنا اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے زائد پیداوار اور زائد پیداواریت کے درمیان فرق پر بھی روشنی ڈالی۔ تصور قیصرانی نے تاریخ پر بورژوا نقطہ نظر اور مارکسی نقطہ نظر میں فرق بیان ہے اور پہلی عالمی جنگ کے محرکات کا جائزہ لیا۔ پارس جان نے 1914ء میں نقطہ عروج پر پہنچنے والے معاشی تضادات کا موازنہ آج کی صورتحال سے کیا۔ ظہیر بگھیو نے سوالات کی روشنی میں سیشن کو سم اپ کیا اور اس کے بعد انٹر نیشنل گا کر سکول کااختتام کیا گیا۔