بلوچستان میں ایک طرف ریاستی دہشت گردی کا بازار گرم ہے تو دوسری طرف مختلف پراکسی گروہوں کے آپسی ٹکراؤ میں بے گناہ محنت کشوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ ایسا ہی ایک اندوہناک واقعہ 11اپریل کو تربت میں پیش آیا جہاں روزی کمانے کے لئے گھر بار چھوڑ کر مزدوری کرنے والے 20محنت کشوں کو بہیمانہ انداز میں سر اور چہرے پر گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ اس بربریت کے خلاف پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC)نے پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کیے جن کی رپورٹ شائع کی جارہی ہے۔
کراچی
رپورٹ: تصور قیصرانی
مورخہ 12 اپریل بروز اتوار کراچی پریس کلب کے سامنے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن (PTUDC) کے زیرِ اہتمام بلوچستان کے علاقے تربت میں محنت کشوں کے قتلِ عام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیاجس میں نوجوانوں، محنت کشوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے بلوچستان میں مختلف سامراجی قوتوں کے مابین جاری پراکسی جنگ اور اس کے نتیجے میں مزدورں کے قتلِ عام اور ریاستی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ مظاہر ے سے خطاب کرتے ہوئے PTUDC کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری ماجد میمن نے کہا کہ سانحہ تربت ایک بھیانک واقعہ ہے اور قوم پرستی کی آڑ میں غریب اور نہتے محنت کشوں کا قتل ایک بزدلانہ کاروائی ہے۔ بلوچستان کے قومی حقوق کی جنگ کو پراکسی وار میں تبدیل کرنے سے نہ تو بلوچستان کا محنت کش طبقہ اپنے حقوق حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی عوامی معیار زندگی بہتر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ہم بلوچستان کے قومی وسائل کی لوٹ مار کی شدید مذمت کرتے ہیں اور بلوچوں کے حقِ خود ارادیت کا حترام کرتے ہیں مگر اس طرح کی کاروائیاں صرف اور صرف بلوچستان کے عوام میں مایوسی اور بدظنی پیدا کرنے کے علاوہ اور کوئی اثرات مرتب نہیں کر سکتیں۔ اور یہ قوم پرستی اور ریاستی دہشت گردی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ دیگر مقررین نے کہا کہ ہم کسی خاص قوم کے محنت کشوں کے حق میں احتجاج کرنے نہیں آئے کیونکہ محنت کشوں کی کوئی قوم اور ملک نہیں ہوتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ساری دنیا کے محنت کشوں کے بنیادی مسائل اور مشکلات ایک ہی ہیں اور انکا حل بھی مشترکہ جدوجہد میں ہی ہے۔ اسی لیے ہمارا نعرہ دو ٹوک اور واشگاف ہے کہ ’دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ‘۔ مظاہرے کے شرکا نے اس قتلِ عام کے خلاف شدید نعرے لگائے۔ احتجاج میں تربت کے 20 مزدور شہدا کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔
حیدرآباد
رپورٹ: اویناش
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کی جانب سے مورخہ 12 اپریل 2015ء کو تربت میں 20 محنت کشوں کے قتل عام کے خلاف حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں شہر کے مختلف علاقوں سے نوجوانوں، ٹریڈ یونین رہنماؤں اور محنت کشوں نے شرکت کی۔ اس موقعے پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے صوبائی صدر انور پنہور، پیرا میڈیکل اسٹاف یونین کے جنرل سیکرٹری پرشوتم، گورنمنٹ سیکنڈری اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن حیدرآباد کے صدر ضمیر احمد خان اور راہول نے کہا کہ بلوچستان میں مزدوروں کا قتل عام کھلی بربریت ہے۔ بلوچ لبریشن فرنٹ کی جانب سے اس قسم کی کاروائیاں بلوچ عوام کے حقوق کے لئے نہیں ہیں بلکہ انکے مخصوص آقاؤں کے لئے ہیں، ہم بلوچوں کے قومی حقوق کا احترام کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہیں معاشی استحصال کا خاتمہ کرکے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے، دوسری قومیتوں کے مزدوروں کا قتل عام ناقابل معافی جرم ہے جسکی پر زورمذمت کرنی چاہیے، ہم محنت کشوں کو ایک دوسرے کے ساتھ یکجہتی کرنی ہوگی تاکہ تمام تر مسائل کو حل کیا جاسکے۔
بلوچستان میں یہ قتل عام طبقاتی یکجہتی کو ختم کرنے اور محنت کش طبقے کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔ رہنماؤں نے محنت کشوں کے ورثا سے دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ عزم کیا کہ محنت کشوں کی بین الاقوامی جڑت کو مضبوط کرتے ہوئے یہاں سے ہر قسم کے قومی اور طبقاتی استحصال کا خاتمہ کیا جائے گا۔
دادو
رپورٹ: ضیا زئنور
تربت میں مزدوروں کے قتل عام کے خلاف پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین دادو کی جانب سے پریس کلب دادو کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں متعدد ٹریڈ یونینز کے کارکنان، رہنما اور نوجوان شریک تھے۔ مظاہرہ سے کامریڈ خالد جمالی صدر بیروزگار نوجوان تحریک دادو، اعجاز بگھیو، محمد موریل پنہور صدر پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین دادو، صدام خاصخیلی پروگریسو یوتھ الائنس کی جانب سے خطاب کیا اور کہا کہ مزدوروں کا قومی بنیادوں پر قتل عام مزدور طبقے کے قوموں سے بالا تر اتحاد کو توڑنے کی ایک سازش ہے تاکہ بلوچستان میں جاری حقیقی لڑائی کو ایک صوبے تک مقید کیا جاسکے اور اسے دیگر صوبوں میں کوئی حمایت نہ مل سکے۔ ایسی تنظیمیں جو مزدوروں کو قتل کرتی ہیں وہ ہرگز بلوچ عوام اور مزدور طبقے کی خیرخواہ نہیں ہو سکتیں بلکہ وہ ریاستی اور سامراجی ایجنڈے کے تحت اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مظاہرین نے اس واقعے کی بھرپور لفظوں میں مذمت کی۔
صادق آباد
رپورٹ: جہانزیب بابر
پاکستان ٹریڈیونین ڈیفنس کمپئین کے زیر اہتمام پریس کلب صادق آباد کے سامنے بلوچستان میں بیس مزدوروں کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے مرکزی جنرل سیکرٹری قمرالزماں خاں، ریجنل سیکرٹری حیدر چغتائی، فاطمہ فرٹیلائیزر کمپنی لیبر یونین کے صدربابر، ایمپلائیز یونین فوجی فرٹیلائیزر کمپنی کے مشتاق احمد، رہڑی یونین کے صدر محمد شریف، انقلابی رکشہ یونین کے صدر ندیم بٹ، مولوی غفور، شبیر احمد، گلستان ٹیکسٹائل ملز بہاولپورکے جلیل منگلا، پیپلز یوتھ ونگ ضلع رحیم یارخاں کے صدر خاور باجوہ، معروف انقلابی کارکن لالوبٹ سمیت متعدد مزدورتنظیموں کے راہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔
مظاہرین نے بلوچستان میں مزدورں کے قتل عام کے خلاف بینرز اٹھائے ہوئے تھے اور مزدوروں کے قاتلوں کی گرفتاری اور انکو قرارواقعی سزا دینے، بلوچستان، پنجاب اور وفاقی حکومت کے مستعفی ہونے، حفاظت پر مامورایجنسیوں کی غفلت اور بلوچستان میں پراکسی جنگ لڑنے والے نام نہاد ’’دوست‘‘ ممالک کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں مزدوروں کا قتل عام بلوچ قومی تحریک کو کمزور بنانے کی ایک سازش ہے۔ غریبوں کے بچوں کو مارکر تنگ نظر قوم پرست پاگل پن کا ثبوت دے رہے ہیں۔ زیادہ قرائن یہ ہیں کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ امریکی اور سعودی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے اجرتی قاتلوں کا کردار ادا کررہی ہے۔ چینی اور امریکی سامراج کی لوٹ کھسوٹ کی لڑائی میں مزدوروں کا قتل عام ثابت کرتا ہے کہ نہ صرف ریاست اپنی رٹ کو حکمران طبقے کے مفادات کے لئے استعمال کررہی ہے بلکہ دوسری طرف طبقاتی یکجہتی کو ختم کرنے کے لئے سرائیکی، پنجابی، سندھی مزدوروں کو شناخت کرکے قتل کیا جارہا ہے۔ مقررین نے کہا کہ کوئی مزدور شوق سے اپنے گھر اور خاندان کو تڑپتا چھوڑ کر ہزاروں میل دور اپنی محنت بیچنے نہیں جاتا بلکہ بے روزگاری، غربت اور افلاس اس کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کرتا ہے، مزدوروں کا بلوچستان میں قتل عام بلوچ قوم پرستوں اور انکے غیر ملکی آقاؤں کی بزدلی اور سیاسی دیوالیہ پن کا اظہار ہے جو کہ قابل نفرت اور قابل مذمت ہے۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کے راہنماؤں نے کہا کہ ہر واقعے میں صرف مزدوروں کا قتل اور اموات ثابت کرتی ہیں کہ یہاں طبقاتی بنیادوں پر مصالحت یا مفاہمت ناممکن ہے۔ ایک طبقہ اور اسکے ایجنٹ محنت کش طبقے کو موت کی طرف دھکیلتے جارہے ہیں جبکہ محنت کش طبقے کو اپنی صفیں درست کرکے سرمایہ داری نظام اور تعصبات پر پنپنے والے نظریات کو جڑ سے اکھاڑ نا ہوگا۔ سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ماضی کے تعصبات اور بربریت کا خاتمہ کی جاسکتا ہے۔ مقررین نے ضلعی انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہید مزدوروں کی میتوں کو رات کے اندھیرے میں چوروں کی طرح پنوعاقل لانے اور انکے گھروں میں پہنچانے سے ثابت ہوتا ہے کہ محنت کشوں اور مظلوموں کے ممکنا ردعمل پر حکمران طبقے پر کتنا لرزا طاری ہے۔ اب نہیں تو آنے والے دنوں میں اس ظالمانہ نظام اور اس کے رکھوالوں کا نیست ونابود ہونا لازم ہے ورنہ اس ظلم واستحصال کے نظام میں محنت کشوں کا جینا المناک اور مرنا اندوہناک ہی رہے گا۔
رحیم یار خان
رپورٹ: ندیم ملک
گزشتہ روز بلوچستان کے علاقے تربت میں سراپ ڈیم پر کام کرنے والے مزدوروں کے بیس کیمپ پر مسلح افراد کے حملے کے نتیجے میں بیس مزدورموقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ تین مزدور شدید زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والے مزدوروں میں سے چار کا تعلق حیدرآباد سے جبکہ باقی تمام مزدور تحصیل صادق آباد کے چک217/212 باندی سے تھا، ان میں سے چودہ افراد ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جن میں ایک مزدور اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھا۔ حملے میں ہلاک ہونے والے تمام مزدور کمسن تھے جو اپنے علاقے میں خشک سالی، آبپاشی کے ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے فاقہ زدگی کے شکار خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اس قتل عام کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے کہا کہ چونکہ بلوچستان کے آبی راستوں کو سامراجی نقطہ نگاہ سے استعمال کیا جارہا اور اس کے لئے قائم کی جانے والا انفراسٹرکچر مقامی آبادی کے مفادات کی بجائے پاکستانی اورچینی سامراج کے لئے قائم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے پختون، سرائیکی، سندھی مزدوروں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایف ڈبلیو او اور دیگر تعمیراتی اداروں کے لئے کام کرنے والے مزدوروں کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اسی قسم کے حملے کئے جائیں گے۔ اس سانحہ کے خلاف پاکستا ن ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے قتل وغارت گری کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ پی ٹی یو ڈی سی نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رحیم یارخاں میں احتجاجی مظاہرہ ریلوے چوک پر کیا گیا جس میں متعدد مزدور تنظیموں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے سرخ درانتی ہتھوڑے والے پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور مزدوروں کا قتل عام بند کرو۔ مالک بلوچ مستعفی ہو، کے نعرے لگارہے تھے۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مظاہرین نے کہا کہ بلوچستان میں مزدوروں کا قتل عام کھلی بربریت ہے، مالک بلوچ مستعفی ہو۔ مظلوم قوموں کے محنت کشوں کو دیگر قوموں کے محنت کشوں سے نفرت کی بجائے یک جہتی کا راستہ اختیار کرکے ہی قومی حقوق حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ سرائیکی خطے میں صنعتیں لگائی جائیں اور روہی کی زمینیں فوجی افسروں اور بڑے زمین داروں کی بجائے مقامی بے زمین ہاریوں کو دی جائیں۔ بلوچوں کے قومی حقوق کا احترام کرتے ہیں مگر دوسری قومیتوں کے مزدوروں کا قتل عام ناقابل معافی جرم ہے جسکی پر زورمذمت کرتے ہیں۔ مزدوروں کے قتل عام پر حکمرانوں کی سردمہری انکے طبقاتی تعصب کی آئینہ دار ہے۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے زیراہتمام، سراب ڈیم، تربت میں کام کرنے والے 20 مزدوروں کے قتل عام کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل قمرالزماں خاں، ریجنل سیکرٹری پی ٹی یو ڈی سی حیدر چغتائی، صدر ڈسٹرکٹ بارکونسل مجید مصطفائی، پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنمافاروق وڑائچ، کسان اتحاد کے راہنما ایم ڈی گانگا، راہک سدھار تحریک قیوم شاکر، صدر کوکا کولا یونین خالد پرویز، جنرل سیکرٹری اسلم بھٹی، یونی لیورکے برطرف مزدوروں کے راہنماندیم ملک، ربانی بلوچ، رب نواز سومرو، محمودالحسن، خالق داد چاچڑ، حسنین شاہ، فضل محمو د خان، سرائیکی نیشنل پارٹی کے صدرمحمد احمد کانجو، ابراہیم خاں، طارق فریدی، پی ٹی یو ڈی سی رحیم یارخاں کے آرگنائیزرشاہداللہ، صدرڈسٹرکٹ ورکرز ایکشن کمیٹی نعیم مہاندرہ اور دیگر مقررین نے مطالبہ کیا کہ مزدوروں کے قاتلوں کو منظر عام پر لاکر سزادی جائے، مقتولین کے لواحقین کوپچیس لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے۔ مقررین نے کہا کہ مزدوروں کو ہر روز فیکٹریوں، اداروں اور کام کرنے والی جگہوں پر قتل کیا جاتا ہے، اسکی وجہ مزدورتحریک کا کمزور ہونا ہے۔ حادثات اور قتل عام کو روکنے کے لئے عالمی مزدورتحریک کو منظم کرنا ضروری ہے تاکہ پسماندہ سوچوں پر مبنی علاقائی، لسانی اور قومی تعصبات کی جگہ پر طبقاتی بنیادوں پر جدوجہد کرکے محنت کش طبقے کو نجات دلائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں منظم قتل عام طبقاتی یکجہتی کو ختم کرنے اور محنت کش طبقے کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔ پاکستان ٹریڈیونین ڈیفنس کمپئین نے تین روز کا سوگ منانے کا اعلان کرتے ہوئے ضلع رحیم یارخاں کے تمام مزدوروں سے اپیل کی ہے وہ کالی پٹیاں باندھ کرڈیوٹی سرانجام دیں۔
راولپنڈی
رپورٹ: توصیف فاروق
تربت میں دہشت گردی کانشانہ بننے والے بیس مزدوروں کے قتل کے خلاف سسکتھ روڈ ر پر PTUDC کی جانب سے12 اپریل کو احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں PTUDC سمیت دیگر مزدور تنظیموں کے نمائندو ں اور کارکنان نے شرکت کی۔ اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے پی ٹی یو ڈی سی کے فنانس سیکرٹری کامریڈ چنگیز نے کہا کہ دہشت گرد ی اس وقت اس ملک کا سب سے بڑا ناسور بن گئی ہے جو مزدوروں طبقے کو نگل رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا بلو چستان میں کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت اور سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزدوروں تنظیموں کی طرف سے مطالبہ کیا کہ مزدوروں کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ مظاہرین نے اس موقعہ پر حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی۔ مظاہرے کے شرکا نے مختلف بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر سانحۂ تربت کے شہدا کے ساتھ اظہار یکجہتی کے نعرے درج تھے۔ مظاہرے میں ریلوے لیبر یونین کے سیکرٹری جنرل راجہ عمران، پروگریسو یوتھ الائنس ایرڈ یونیورسٹی کے آرگنائزر امین، پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر راولپنڈی سٹی کے صدر اسحاق میر، پی وائے اے شمالی پنجاب کے آرگنائزر آصف رشید، امیتاز(واپڈا)، مجتبیٰ (بی این ٹی )، ناصر(پی ٹی یو ڈی سی )، عامر رضا اور دیگر نے شرکت کی۔