| رپورٹ: PTUDC اسلام آباد |
مورخہ 8 اپریل 2015ء کو اسلام آباد پریس کلب میں نجکاری کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں آئیسکو کے مزدوروں اور انجینئرز نے شرکت کی۔ سیمینار کا مقصد مزدوروں کو نجکاری سے ہونے والے مظالم سے آگاہ کرتے ہوئے نجکاری کے خلاف جدوجہد کو منظم کرنا تھا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض اکرم بُندہ (زونل جنرل سیکرٹری ورکرز کنفیڈریشن) نے ادا کیے۔ پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے مرکزی رہنما چنگیز ملک نے عالمی سطح پر ہونے والے واقعات اور مزدور تحریک پر بات رکھی اور پاکستان میں نجکاری سے ہونے والی بربادی اور محنت کشوں کے حالات زندگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نجات کا واحد حل سوشلزم ہے۔ انہوں نے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ واپڈا کی مختلف کمپنیوں کو فوری تحلیل
کرتے ہوئے واپڈا کی وحدت کو بحال کیا جائے، نجی پاور پلانٹس اور آئی پی پیز کو فوری طور پر قومی تحویل میں لیتے ہوئے مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے۔ کارل مارکس کے نعرے ’’دنیا بھر کے محنت کشوں کی ایک ہو جاؤ!‘‘ کی افادیت پر بات رکھتے ہوئے چنگیز ملک نے مزید کہا کہ فوری طور پر واپڈا کی مزدور ایکشن کمیٹی قائم کی جائے جو دیگر اداروں کے مزدوروں کے ساتھ جڑت بناتے ہوئے نجکاری کے خلاف جدوجہد کو منظم کرے۔ دیگر مقررین میں دلاور شاہ (صدر انجینئر ایسوسی ایشن)، جاوید بلوچ (چےئرمین آئیسکو ہائیڈرویونین )، حاجی ظاہر گل (جنرل سیکرٹری آئیسکو ہائیڈرویونین )، عمار رشید (AWP)، قاضی نعیم احمد قریشی (متحدہ مزدور محاذ)، ملک مقبول (جنرل سیکرٹری PTCL فیڈریشن)، راجہ
مسکین (جنرل سیکرٹری یوٹیلیٹی سٹور یونین) اور ملک سلیم رضا اعوان (مرکزی صدر ریلوے لیبر یونین) شامل تھے۔ مقررین نے تمام اداروں کو جوڑتے ہوئے مزدور دشمن نجکاری کی پالیسی کے خلاف جدوجہد کا اعادہ کیا اور اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر نجکاری کے فیصلے کو واپس نہ لیا گیا تو 15 اپریل سے ہر بدھ والے دن آئیسکو میں آلات بند ہڑتال کی جائے گی اور اس کے بعد گریڈز کو بند کرنے کی منصوبہ بندی پر عمل کیا جائے گا جس میں سب سے پہلے اسلام آباد سیکٹر G-5 میں موجودگریڈ کو بند کرتے ہوئے ایوانوں کی روشنیاں بند کی جائیں گی جیسا کہ 1968-69ء میں ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے بلوں کے اوپر محنت کشوں کی جانب سے مہر ثبت کی جائے گی جس کی تحریر ہوگی کہ نجکاری سے بجلی کی قیمتوں اور لوڈشیدنگ میں مزید اضافہ ہوگا۔ ریلوے اور PTCL کے محنت کشوں نے عزم ظاہر کیا کہ اگر واپڈا کے محنت کشوں پر ریاستی جبر کیا گیا تو ریلوے اور ٹیلی کمیونی کیشن کا نظام پورے ملک میں جام کر دیا جائے گا۔